Global Editions

زینب قتل کا معمہ

جب فارنزک کی ٹیم نے دیکھا کہ پولیس کے روایتی طریقہ کار سے کوئی فائدہ نہيں ہورہا ہے، تو انہوں نے ایک مکمل طور پر مختلف حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے مشتبہ افراد کو پکڑنے کے بجائے مطلوبہ عمر کے مطابق علاقے کے تمام مردوں کے ڈی این اے پروفائلز تیار کرنے کی تجویز پیش کی۔

سات سالہ زینب کا زیادتی کے بعد قتل اس وقت سے سب کی توجہ کا مرکز ہے جب کچرے کے ڈھیر میں پھینکی گئی اس کی لاش کی تصاویر سوشل میڈیا پراس سال کے شروع میں چلنا شروع ہوئيں۔

ملزم عمران علی کی نشاندہی کے لیے، جو اس معصوم بچی کا رشتہ دار نکلا، پولیس نے ایک ایسی تکنیک کا استعمال کیا جس میں ہماری تمام جینیاتی معلومات پر مشتمل انسانی خلیوں کے سب سے بنیادی عنصر ڈائی آکسی رائبونیوکلیک ایسڈ (deoxyribonucleic acid - DNA) کا استعمال کیا گیا۔

2015ء میں ضلع قصور کے ایک گاؤں حسین خان والا سے بچوں کے ساتھ زيادتی کے درجنوں واقعات کی خبریں منظرعام پر آنا شروع ہوئيں۔ اسی سال، ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بچوں کے ساتھ جبری جنسی تعلقات پر مشتمل فحش مواد تخلیق اور تقسیم کرنے والے ایک گروہ کی تفتیش کررہی تھی، اور اسی دوران بچوں کے ساتھ زیادتی کا پہلا واقعہ سامنے آیا۔ آگے چل کر 12 ایسے واقعات درپیش ہوئے، اور یہ سلسلہ اسی وقت ختم ہوا جب عمران علی پکڑا گیا۔

صوبائی انتظامیہ کو نئی نویلی پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (Punjab Forensic Science Agency - PFSA) کی مدد حاصل کرنے میں دیر نہیں لگی اور انہوں نے لیب کو ڈی این اے کے معائنے کے لیے جائے وقوع سے حاصل کردہ نمونے بھجوادیے۔

ڈی این اے کے معائنے کی تکنیک دنیا میں پہلی بار 1986ء میں برطانیہ کے شہر لیسٹر میں تین سال کے وقفے سے سامنے آنے والے زیادتی کے دو واقعات میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے میں استعمال کی گئی تھی، اور اب یہی تکنیک لاہور میں صدر دفتر رکھنے والی پی ایف ایس اے کو مقتولہ، جس کی شناخت عاصمہ بی بی کے نام سے کی گئی، کے کپڑوں سے حاصل کردہ مختلف اقسام کے ثبوت کی مدد سے ملزم کا پروفائل تیار کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔

پی ایف ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اشرف طاہر ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتاتے ہيں ’’جنسی حملےکے واقعات میں ہماری ایجنسی مادہ منویہ (semen)، خون، لعاب اور پسینے جیسے سیال مادوں کو ثبوت کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک ڈی این اے پروفائل تیار کرتی ہے، جسے دنیا بھر میں ثبوت کا نقطہ حوالہ مانا جاتا ہے۔‘‘

پولیس نے جلد ہی ڈی این اے پروفائل کی میچنگ کے لیے کئی مشتبہ افراد کو ایجنسی کے سامنے لا کر کھڑا کردیا، لیکن ان میں سے کوئی بھی شخص ایجنسی کے پاس موجود نمونوں کی بنیاد پر تیار کردہ پروفائل پر پورا نہيں اترا۔

مئی 2016ء میں پولیس ڈپارٹمنٹ نے ایک بار پھر ایجنسی کے دروازے کھٹکھٹائے، لیکن اس بار وجہ کچھ اور تھی۔ ضلع قصور میں تہمینہ نامی ایک اور بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر طاہر کے مطابق فارنزک تجزیے کے دوران پی ایس ایف اے کے سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ تہمینہ کے قتل کے جائے وقوع سے حاصل ہونے والی ڈی این اے کی پروفائل عاصمہ کے قتل کے واقعے میں تیار کردہ پروفائل سے مماثلت رکھتی تھی۔

انہوں نے بتایا ’’ہم نے پولیس کو اسی وقت مطلع کردیا تھا کہ اس میں ایک سیریل کلرکا ہاتھ ہے‘‘۔ وہ مزيد بتاتے ہيں کہ اس کے بعد ان کے پاس ڈی این اے پروفائلنگ کے لیے کئی مشتبہ افراد لائے گئے۔ ’’یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوشش نہيں کی۔ انہوں نے ہمارے سامنے کم از کم 71 مشتبہ افراد لا کر کھڑا کیے، لیکن ہم ان میں سے کسی کےبھی ڈی این اے پروفائل کی میچنگ کرنے میں کامیاب نہيں رہے۔‘‘

2017ء تک قصور میں زیادتی کے واقعات کی اطلاعات میں اضافہ ہوچکا تھا۔ جنوری، فروری، جولائی اور نومبر میں یکے بعد دیگرے کئی واقعات ایجنسی کے سامنے لائے گئے۔ زینب کا قتل 2018ء کا پہلا واقعہ تھا، اور یہ پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی وجہ بن گیا۔ ایک طرف قصور کے رہائشیوں میں انتظامیہ کی بے حسی کے خلاف غم وغصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا اور ہنگامے پھوٹ پڑے، تو دوسری طرف ملک کے بڑے شہروں میں سوشل میڈیا پربھرپور احتجاج جاری رہا، جس کے نتیجے میں ٹوئیٹر پر JusticeforZainab #کا ہیش ٹیگ کئی روز تک ٹرینڈ کرتا رہا۔

اس دوران انتظامیہ پس پردہ کام کرتی رہی۔ اس وقت تک اس بات کی مزید تصدیق ہوچکی تھی کہ اس واقعے میں کسی سیریل مجرم کا ہاتھ ہے، کیونکہ اس ضلع کے زیادتی کے واقعات کے نتیجے میں، جس میں زينب کا واقعہ بھی شامل تھا، تیار کردہ تمام ڈی این اے پروفائلز بالکل ایک جیسی تھیں۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ 12 میں سے تمام واقعات ڈھائی کلومیٹر کے نصف قطر کے دائرے میں رونما ہوئے تھے۔

پولیس روزانہ ڈی این اے پروفائلنگ کے لیے نئے مشتبہ افراد پیش کررہی تھی، لیکن کوئی مثبت نتیجہ نہيں نکل رہا تھا۔

پی ایف ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل کہتے ہيں ’’میں نے ایڈیشنل چیف سیکریٹری میجر (ریٹائرڈ) اعظم سلیمان اورآئی جی پولیس عارف نواز سے ملاقات کرکے ایک مختلف حکمت عملی تجویز کرنے کا فیصلہ کیا۔ مشتبہ افراد کا شک کی بنیاد پر انتخاب کرنے کے بجائے، میں نے مطلوبہ عمر کے تمام مردوں کے ڈی این اے پروفائلز تیار کرکے غیرمطلوبہ پروفائلز کو چھانٹنے کی تجویز پیش کی۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمرے سے حاصل کردہ فوٹیج کے آڈیو وژول تجزیے سے اس بات کی تصدیق ہوچکی تھی کہ مشتبہ شخص کی عمر 20 سے 40 سال کے درمیان ہے۔

وہ مزید کہتے ہيں ‘‘ہم نے ماضی میں کبھی اس طرح کی چیز نہيں کی تھی، لہٰذا ہم نے اپنی ایجنسی میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا اور ایک شفٹ کے بجائے چوبیس گھنٹے کام کرنے کی تیاری کرلی۔’’ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت سے اس تجویز کی منظوری حاصل کرنے کے بعد اس پورے علاقے ميں مطلوبہ مردوں کے لعاب سے نمونے حاصل کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں قائم کی گئيں۔

اس کے علاوہ، ایجنسی نے غلط اطلاعات سے بچنے کے لیے، وقافی حکومت سے مردم شماری کا ڈیٹا بھی حاصل کرلیا۔ پی ایس ایف اے کی ٹیمیں چھ روز تک گھر گھر جا کر 1,187 نمونے حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ان نمونوں کے لیب میں معائنے کے بعد 814 واں نمونہ زینب کے رشتہ دار عمران علی کا نکلا، جو 12 میں سے تمام واقعات کے ذریعے تیار کردہ پروفائلوں پر پورا اترگیا۔

عمران علی کی ڈی این اے کی پروفائل کی میچنگ کامیاب ہونے کے بعد، ایجنسی نے ڈی این اے کی پروفائل کی دوبارہ تصدیق کے لیے اسے دوبارہ بلوایا۔ پولیس اس کے ساتھ دیگر چند مشتبہ افراد بھی ساتھ لے آئی تاکہ اس حوالے سے معلومات لیک نہ ہوں ۔ ڈاکٹر طاہر نے بتایا، ’’ہم نے اس کی ڈی این اے پروفائل دوبارہ تیار کی، جس کے بعد شک کی کوئی گنجائش نہيں رہی۔ اس کےبعد عمران نےاعتراف جرم کرلیا، اور ہم نے پولی گراف ٹیسٹ کی مدد سے اس کے بیان کی تصدیق بھی کی۔ بلکہ ہم اس بہانے اپنے پولی گراف کے آلات کی ٹیسٹنگ بھی کرنا چاہ رہے تھے۔‘‘

پولی گراف ٹیسٹ کے نتائج بھی بالکل درست نکلے۔ ڈی این اے کے نمونے اور پولی گراف ٹیسٹ کے نتیجے کے بعد، اگلا مرحلہ عدالتی کارروائی کا تھا۔

جب پی ایس ایف اے کے ڈائریکٹر جنرل سے لیب میں موجود انفراسٹرکچر کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے بتایا کہ لیب میں سہولیات کا موازنہ دنیا کی نامور فارنزک لیباٹریوں میں موجود سہولیات سے کیا جا سکتا ہے۔ ۔ وہ کہتے ہيں ’’اس کیس کو بہت جلدی حل کرنے کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر جانے مانے فارنزک ماہرین نے ہمیں بہت سراہا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے بغیر مادہ منویہ، خون، لعاب اور پسینے کی نشاندہی اور ڈی این اے پروفائلز کی تیاری میں بہت وقت ضائع ہوتا۔‘‘

وہ مزيد بتاتے ہيں ’’ڈی این اے ایک کیمیائی مرکب ہے جو تمام زندہ خلیوں میں موجود ہے۔ اس میں تمام معلوم شدہ زندہ نامیاتی اجسام کی ترقی، کام اور تخلیق نو میں استعمال ہونے والی جینیاتی ہدایات شامل ہیں۔ ہم ڈی این اے کے نمونوں میں فرق کرنے کے لیے شارٹ ٹینڈم رپیٹ (Short Tandem Repeat - STR) کا تجزیہ کرتے ہیں۔ عام طور پر ہمیں خام ثبوت کے طور پر بہت چھوٹے نمونے ملتے ہيں، جس کی وجہ سے پی ایس ایف اے کے پاس ڈی این اے کی مقدار متعین کرنے اور اس کی نقل بنانے کی سہولیات بھی موجود ہيں۔‘‘

ڈاکٹر طاہر کہتے ہیں کہ ان کی ایجنسی کے پاس تین گھنٹوں کے اندر ڈی این اے کی 80 کروڑ نقول بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ مزيد بتاتے ہيں کہ وہ اب تک 12 ہزار جرائم پیشہ افراد کی ڈی این اے ڈیٹابیس بنانے میں کامیاب ہوچکے ہيں جو پاکستان کا ڈی این اے پروفائلز کا اب تک کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مستند مجموعہ ہے۔

تحریر: احمد رضا
مصنف لاہور سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں۔

Read in English

Authors
Top