Global Editions

امتحانات کے دوران طلباء کی نگرانی کے سافٹ ویئرعدم مساوات اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کی وجہ بنتے ہیں

کرونا وائرس کے باعث تعلیمی اداروں نے آن لائن تعلیم فراہم کرنا شروع کی، جس سے امتحانات کی نگرانی کے ٹولز کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ تاہم یونیورسٹیوں کو ان کا استعمال ترک کردینا چاہیے۔

کرونا وائرس کے باعث امتحانوں کی آن لائن نگرانی کے سسٹمز کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ اس وقت چھ امریکی کمپنیاں دعویٰ کررہی ہیں کہ ان کے سافٹ ویئر آن لائن امتحانوں کے دوران نقل کی مکمل درستی کے ساتھ نشاندہی کرسکتے ہیں۔ ان میں ایکسیمٹی (Examity)، آنر لاک (HonorLock)، پروکٹریو (Proctorio)، پروکٹریو (ProctorU) اور ریسپانڈس (Respondus) جیسے ٹولز شامل ہیں۔

اس وقت ہمارے پاس اعداد و شمار موجود نہيں ہیں، لیکن یہ کہنا غلط نہيں ہوگا کہ اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں آن لائن امتحانات منعقد ہورہے ہيں جن کی نگرانی بذریعہ آن لائن ٹولز کی جارہی ہے۔ پروکٹریو نے مئی میں نیو یارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ اس وبا کے دوران ان کے سافٹ ویئر کی مانگ میں 900 فیصد اضافہ ہوا اور صرف اپریل میں ہی 25 لاکھ امتحانات کی آن لائن نگرانی کے دوران اس کا استعمال کیا گيا تھا۔

میں یونیورسٹی آف کولوریڈو، ڈینور، کی لائبریری میں کام کرتی ہوں اور میں نے ان ٹولز کے اثرات کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میری یونیورسٹی نے آن لائن امتحانات کی نگرانی کے لیے پروکٹریو کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔

یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ الگارتھمز استمعال کرنے والی امتحانات کی نگرانی نسل پرستی اور جنسی تعصب کو فروغ دیتی ہے۔ ان ٹولز کے استعمال سے نہ صرف طلباء کی پرائیویسی پامال ہوتی ہے بلکہ ان کے قانونی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

جب کسی آن لائن امتحان کے دوران اس سافٹ ویئر کو ایکٹیویٹ کیا جاتا ہے، تو وہ سب سے پہلے طلباء کے کیمرے، آڈیو، اور اس کی کھولی گئی تمام ویب سائٹس ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ طلباء کے جسم کی پیمائش کرتا ہے اور امتحان کے دوران ہمہ وقت ان پر نظر رکھتا ہے۔ یہ تمام ریکارڈنگز اساتذہ کو فراہم کی جاتی ہيں اور مشکوک کارروائیوں کی صورت میں انہيں ان ریکارڈنگز کی نظرثانی کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔

ان ٹولز میں عام طور پر مشین لرننگ، مصنوعی ذہانت اور بائیومیٹرکس (بشمول چہرے کی شناخت اور آنکھوں کی ٹریکنگ) سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ تمام ٹیکنالوجیز شروع ہی سے نسل پرستی اور جنسی تفریق کو فروغ دیتی آرہی ہيں، اور طلباء ان کے نتائج بھگت رہے ہيں۔

میری یونیورسٹی کی ایک سیاہ فام طالبہ نے مجھے بتایا کہ پروکٹریو کا سافٹ ویئر ہمیشہ ان سے اپنے چہرے پر مزید روشنی ڈالنے کی درخواست کرتا تھا۔ اس کے علاوہ، یہ ٹول ہمیشہ ہی ان کی شناخت کرنے سے قاصر رہتا تھا، جس کے باعث انہیں بار بار اپنے اساتذہ سے درخواست کرنے کی ضرورت پیش آتی کہ ان کا کسی دوسرے طریقے سے امتحان لیا جائے۔ ان کے ساتھ پڑھنے والے سفیدفام طلباء کبھی بھی اس قسم کے مسائل کے شکار نہیں ہوئے تھے۔

ٹرانس جینڈر طلباء کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوتا ہے۔ تاہم عام طور پر سفید فام مردوں کو اس قسم کے مسائل پیش نہيں آتے۔

جن طلباء کے گھروں میں چھوٹے بچے ہیں، وہ بھی ان ٹولز کے باعث پریشانی کا شکار رہتے ہيں۔ عام طور پر ان کے لیے کمپیوٹر پر بیٹھ کر سکون سے کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم یہ پروگرامز پس منظر میں ہونے والے شور شرابے اور چہل پہل کو ”مشکوک “ قرار دیتے ہيں۔ اسی طرح ایسے افراد جنہيں کسی بیماری کے باعث بار بار اٹھ کر باتھروم جانا پڑتا ہے، انہیں بھی کیمرے کی نظر سے دور ہوجانے کے باعث ”مشکوک “ تصور کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، آن لائن نگرانی کے سافٹ ویئر کے باعث طلباء کی پرائیوسی کی خلاف ورزی کا بھی خدشہ ہے۔ یہ ٹولز ان کے گھروں اور ان کے کمروں کی ریکارڈنگز حاصل کرتے ہیں، اور اساتذہ کسی بھی وقت یہ ویڈیوز دیکھ سکتے ہيں اور انہيں اپنے کمپیوٹرز پر ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہيں۔ اس کے علاوہ، آئی پی ایڈریسز کی بنیاد پر معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کونسا طالب علم کہاں بیٹھا ہے۔

ایک لائبریری میں کام کرنے کے ناتے میرے پاس کئی لوگوں کا نجی ڈیٹا موجود ہوتا ہے، اور اسی لیے پرائیوسی کا تحفظ میرے لیے بہت ضروری ہے۔ امریکہ میں 11 ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے بعد، امریکی ڈيپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (Department of Homeland Security) کو دہشت گردوں کی نشاندہی کے لیے لائبریریوں کے ریکارڈز تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔ اس کے جواب میں لائبریریوں نے کتابوں کی واپسی کے بعد خوبخود ڈیٹا حذف کرنے کے لیے سافٹ ویئر استعمال کرنا شروع کردیا تاکہ حکومت کو اس تک رسائی حاصل نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی مصنوعات جن سے صارفین کی پرائیوسی پامال ہو اور جو تعصب کو فروغ دیں، میرے ذاتی اور پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف ہیں، اور مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ یہ ٹولز تعلیمی اداروں میں نہایت مقبول ثابت ہورہے ہيں۔

اگر یہ پروگرامز اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے تو شاید پرائیویسی کی یہ خلاف ورزی اتنا بڑا مسئلہ نہيں ہوتی۔ تاہم میری معلومات کے مطابق اب تک کسی بھی تحقیق سے یہ ثابت نہيں ہوا ہے کہ اس قسم کے ٹولز نہ تو نقل کی نشاندہی کرپاتے ہيں اور نہ ہی اس کی روک تھام کرسکتے ہیں۔

خوش آئین بات یہ ہے کہ امتحان کی نگرانی کے سافٹ ویئر اور یونیورسٹی کے کیمپسز میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف احتجاج شروع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی وفاقی حکومت میں بھی چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کے خلاف قوانین پاس کروانے کی کوششیں کی جارہی ہيں۔ تاہم، اس پیش رفت کے باوجود اس بات کا امکان موجود ہے کہ امتحان کی نگرانی کا سافٹ ویئر طلباء کی آنکھوں اور جسم کی حرکت کی نگرانی جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ معذوری کے شکار افراد کے خلاف تعصب جاری رہے گا۔ اسی لیے ان مصنوعات میں اصلاح سے کام نہيں چلے گا۔ انہیں مکمل طور پر ترک کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہيں ہے۔

امتحان میں نقل اتنی بڑی بات نہيں ہے جتنی یہ کمپنیاں ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہيں۔ اس سے نہ تو آپ کی ڈگری کی وقعت کم ہوگی اور نہ ہی تعلیمی اداروں کا نام خراب ہوگا۔ جو حالات نقل کی وجہ بنتے ہيں ان کی وجہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسان ہیں، لہذا ٹیکنالوجی اسے روکنے میں کوئی کردار ادا نہيں کرسکتی۔ اگر ہم صرف طلباء پر بھروسہ کریں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

تحریر: شیا سووگر (Shea Swauger)

تصویر: آئرس وینگ (Iris Wang) بذریعہ ان سپلیش (Unsplash)

Read in English

Authors

*

Top