Global Editions

کون سی دوا استعمال کریں۔۔۔ مصنوعی ذہانت یہ بھی بتائے گی

اگر آپ ایسپرین اور آئبیوپروفین ایک ساتھ کھا لیں تو شاید ڈاکٹر اس کے نتائج کے بارے میں آگاہ نہ کرسکے لیکن ایک ایساسافٹ وئیر ہے جو اس کے نتائج کے بارے میں کسی حد تک آگاہ کرسکتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے کیمسٹری پروفیسر ایلن ایسپروگیوزک (Alan Aspuru Guzik)نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا سافٹ وئیر تیار کی ہے جو آپ کو ان دو ادویات کی بجائے ایک ایسی دوا تجویز کر سکتا ہے جو دونوں کے اجزاء اور خصوصیات کی حامل ہو۔ اس لئے یہ مصنوعی ذہانت پر مشتمل سافٹ وئیر نئی دوا کا کمپائونڈ تجویز کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ فارماسیوٹیکل ریسرچ کے دوران کیمسٹس تمام ڈیٹا اور سیمولیشنز خود اپ لوڈ کرتے جس کے تحت مفید دوا تجویز کی جاتی لیکن اب ایسا نہیں ہے پہلے طریقہ کار کے تحت انسان ہی ہر پہلو کے بارے میں سوچتا تھا جبکہ موجودہ صورتحال میں سافٹ وئیرز کو درست سیمولیشن اور کمپیوٹنگ پاور درکار ہوتی ہے۔ ایلن ایسپروگیوزک کا سافٹ وئیر زیادہ خودانحصاری کے تحت کام کرتا ہے اور اسے طویل سیمولیشنز کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ سافٹ وئیر اپنے تجربات سے سیکھتا ہے، ہزاروں کی تعداد میں ادویات کو سمجھنے کی مشین لرننگ کے ذریعے تربیت حاصل کرتا ہے۔ ایلن ایسپروگیوزک کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ وئیر کسی کیمسٹ ہی کی طرح کیمیکل معلومات اکٹھی کرتا ہے۔ اس قسم کے سافٹ وئیر سے انسان بہتر کیمسٹ بن سکتا ہے۔ نئے سسٹم میں مشین لرننگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جسے گہری آموزش قرار دیا گیا ہے۔ اس سسٹم میں خودتخلیقی ماڈل استعمال ہوا ہے جس بہت بڑے ڈیٹا کے ذخیرے سے مطلوبہ معلومات حاصل کرکے اپنا ڈیٹا تخلیق کرتا ہے۔ گزشتہ سال گیوزک اور ان کے ساتھیوں نے سافٹ وئیر کو 2,50,000ادویات کا ماڈل شامل کرکے اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو شائع کیا۔ تو پتہ چلا کہ سسٹم موجودہ ادویات کو ملا کر نئی دوا کا نیا ڈھانچہ تشکیل دے سکتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود سسٹم کو عملی طور پر استعمال کرنے کیلئے اس کی کیمسٹری کی مہارت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ گیوزک کو امید ہے کہ سسٹم کو مزید ڈیٹا فراہم کرنے سے اس میں بہتری آئے گی۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Samonite)

Read in English

Authors
Top