Global Editions

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے مسلح تصادم کے خطرے میں اضافہ

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی نے اب تک مسلح تصادم میں اہم کردار ادا نہيں کیا ہے۔ تاہم اگر درجہ حرارت قبل از صنعتی ادوار کے مقابلے میں دو ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ تجاوز کرجائے تو دنیا بھر میں تشدد میں قابل قدر اضافہ ممکن ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار
اس پیپر میں سٹین فورڈ، یونیورسٹی آف ایکسٹر، پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آسلو اور دیگر کئی اداروں سے تعلق رکھنے والے 11 معتبر ماحولیاتی ماہرین کے تجزیے کا امتزاج پیش کیا۔

نتائج
ماہرین کے اوسط تجربے کے مطابق پچھلی صدی کے پانچ فیصد کیسز میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث مسلح تصادم کے امکانات میں “قابل قدر اضافہ” ہوا ہے۔ تاہم تصادم کے خطرات میں دیگر عناصر، جیسے کہ بڑھتی ہوئی غربت، عدم مساوات، اور ماضی میں تشدد، نے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔

البتہ اس تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر درجہ حرارت میں دو ڈگری سے زیادہ اضافہ ہو تو مسلح تصادم کے خطرے میں اضافے کا امکان 13 فیصد ہے اور اگر درجہ حرارت میں چار ڈگری اضافہ ہو تو یہ امکان بڑھ کر 26 فیصد ہوجاتا ہے۔ عالمی سطح کے درجہ حرارت میں اب تک ایک ڈگری کا اضافہ ہوچکا ہے اور حالیہ توانائی اور اخراجات کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ اضافہ جلد ہی دو ڈگری تک پہنچ جائے گا۔

یہ تبدیلی کس طرح آئے گی؟
درجہ حرارت میں اضافہ، سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے زراعتی پیداواری میں کمی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جو معیشت کے شدید نقصان کا باعث بنیں گے۔ اس طرح غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہوگا، جو آگے چل کر تشدد کی وجہ بنيں گے۔

ان خطرات کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے؟
ماہرین اس بات سے متفق ہيں کہ موسم سے تعلق رکھنے والے تصادم کے خطرات میں فصلوں کے بیمے، تربیت، اشیائے خوردونوش ذخیرہ کرنے کے طریقہ کار میں بہتری، تصادم کا حل، امن قائم کرنے کے اقدام، اور تصادم کے بعد تعمیرنو کی مدد سے کمی لائی جاسکتی ہے۔ تاہم ان کو یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے، ان خطرات میں کمی لانے والے عناصر کی کامیابی کا امکان بھی کم ہوجاتا ہے۔

Read in English

Authors

*

Top