Global Editions

سنیپ چیٹ کی ایپ میں ذہنی صحت کے ٹولز شامل کیے جارہے ہیں

سنیپ چیٹ نے ”ہیئر فار یو“ (Here For You) نامی سرچ ٹول کا بیٹا ورژن متعارف کیا ہے جس کے ذریعے صارفین کو ذہنی صحت کے وسائل تک رسائی فراہم کی جائے گی۔

یہ کس طرح کام کرے گا؟ پریشانی سے وابستہ الفاظ ٹائپ کرنے والے صارفین کو معاونت فراہم کرنے والے مواد تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ مثال کے طور پر، سنیپ چیٹ میں ”ذہنی اضطراب“ سرچ کرنے والے افراد کو ذہنی اضطراب کم کرنے کے لیے بنائے جانے والی مختصر ویڈيوز دکھائی جائيں گی، جنہيں ”چل پل“ (Chill Pill) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سہولت ”ڈپریشن، ذہنی دباؤ، غم زدگی، خودکشی، اور ہراس“ جیسے الفاظ کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔ آگے چل کر سنیپ چیٹ ”مائنڈ یورسیلف“ (Mind Yourself) نامی ویڈيو سیریز بھی متعارف کرے گا جس میں پی ٹی ایس ڈی (PTSD)، او سی ڈی (OCD)، اور باڈی ڈسمورفیا (body dysmorphia) جیسے ذہنی امراض کے شکار افراد کے متعلق معلومات فراہم کی جائيں گی۔

کیا لوگ اس ٹول کو استعمال کريں گے؟ اس وقت یقین سے تو نہيں کہا جاسکتا، لیکن اس کا امکان ضرور ہے۔ سنیپ چیٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ اسے نوجوانوں کے لیے ایک محفوظ پلیٹ فارم تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں شیئر کی جانے والی ویڈيوز 24 گھنٹوں بعد غائب ہوجاتی ہیں اور ممکن ہے کہ نوجوانوں کو دوسرے سوشل میڈیا نیٹورکس کے مقابلے میں سنیپ چیٹ پر حساس مواد سرچ کرنے کے دوران تحفظ کا زیادہ احساس ہو۔ اس کے علاوہ، سنیپ چیٹ کی اپنی ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس ایپ پر ملینیلز (millennials) اور جنریشن زیڈ (Generation Z) سے تعلق رکھنے والے نوجوان اپنے بڑوں کے مقابلے میں ذہنی امراض کے متعلق زيادہ معلومات شیئر کرتے ہيں۔

دوسرے سوشل میڈیا نیٹورکس کیا کررہے ہيں؟ سوشل میڈيا کمپنیوں نے پچھلے سال سے ہی ذہنی امراض کے حوالے سے ذمہ داری قبول کرنا شروع کی ہے۔ روئیل کالج آف سائیکائیٹرسٹس (Royal College of Psychiatrists) کی ایک حالیہ رپورٹ میں فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر سے مسائل کی وجہ بننے والے مشمولات کے متعلق صارفین کی آراء سے وابستہ ڈيٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پچھلے سال ستمبر میں فیس بک نے اعلان کیا تھا کہ وہ نہ صرف خودکشی کے متعلق بات کرنے والے اور خود کو نقصان پہنچانے والے صارفین کا ڈيٹا شیئر کرنے کے لیے ”سیفٹی پالیسی کا مینیجر“ (safety policy manager) بھرتی کريں گے بلکہ اپنی سائٹ پر ذہنی صحت کے متعلق وسائل بھی مہیا کریں گے۔ کچھ عرصے بعد انسٹاگرام نے بھی اسی طرح کی پالیسی کا اعلان کیا۔

تحریر: تانیہ باسو (Tanya Basu)

تصویر: تھوٹ کیٹالاگ (Thought Catalog) بذریعہ ان سپلیش (Unsplash)

Read in English

Authors

*

Top