Global Editions

ایک شخص نے سمارٹ فونز کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا ہے

ٹرسٹن ہیرس کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی صرف اور صرف ہمارا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ لیکن ان کی بات کہاں تک سچ ہے؟

اگر آپ کے پاس سمارٹ فون ہے تو آپ کو کبھی تو اس بات کا احساس ضرور ہوا ہوگا کہ ان فونز کی ایپس آپ کا کتنا وقت لے لیتی ہیں۔ آپ کو پتہ بھی نہیں لگتا اور آپ نوٹیفیکیشنز میں اتنے محو ہوجاتے ہیں کہ آپ کا دھیان کسی دوسری چیز کی طرف جاتا ہی نہیں ہے۔ لیکن آپ کو شاید اس بات کا احساس نہ ہو کہ یہ ایپس دراصل آپ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہیں۔

ٹرسٹن ہیرس (Tristan Harris) کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹوئیٹر جیسے سوشل نیٹورکس استعمال کرنے والے اربوں افراد اس کا نشانہ بن رہے ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر ہم ان ایپس سے کنارہ کشی نہیں کرسکتے ہیں تو کم از کم اس مسئلے کا اعتراف ضرور کریں۔

ہیرس گوگل کے پراڈکٹ مینیجر اور ڈیزائن سے تعلق رکھنے والے اخلاقیات کے ماہر رہ چکے ہیں، اور اب وہ Time Well Spent نامی غیرتجارتی تنظیم چلا رہے ہیں، جو ٹیکنالوجی کی لت کو کم کرنے کے لیے ایپس کے ڈیزائن کو بہتر بنانے پر کام کررہا ہے۔ ان کی تنظیم عوامی حمایت کا تعاقب کرکے ڈیزائن کے ایسے معیاروں کی حمایت کرتی ہے جن کا مقصد سکرین ٹائم میں اضافے کے بجائے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ ہیرس آج کل Time Well Spent سے توجہ ہٹا کر صارفین کو اپنا زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن گزارنے کی ایک کے بعد ایک وجہ دینے کی فراہمی کے سلسلے میں ٹیک کی کمپنیوں کا ضمیر جھنجوڑنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں "ہمیں نظر ہی نہیں آرہا ہے کہ ہم اپنے ساتھ کیا کررہے ہیں۔ یہ کسی بحران سے کم نہیں ہے۔ لوگوں کو سوشل میڈيا کے اتنے فائدے نظر آتے ہیں کہ انھیں اپنی سوچ کا معیار خراب ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہا ہے۔"

ہیرس کا کہنا ہے کہ ٹیک کی کمپنیوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ اشتہارات سے حاصل ہونے والی رقم ہے، اس لیے ہمیں اپنی سکرینز سے دور کرنا ان کے مقاد میں نہیں ہے۔ ہیرس ماضی میں ایپچر (Apture) نامی ویب کے صفحے میں تلاش کی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی کے شریک بانی رہ چکے ہیں، اور 2011ء میں جب گوگل نے اس کمپنی کو خریدا تو وہ گوگل میں ملازمت کرنے لگے۔ ان کا کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فیس بک یا اس قسم کی دوسری کمپنیاں "بری" ہیں اور ہمیں اپنے سمارٹ فونز کا استعمال مکمل طور پر ترک کردینا چاہیے۔ ٹیک کی صنعت میں اتنا عرصہ گزارنے کے بعد وہ صرف اتنا کہ رہے ہیں کہ ان کمپنیوں کے میدان میں اترنے سے پہلے کسی بھی چیز نے معاشرے کی سوچ کو اس حد تک متاثر نہیں کیا ہے، اور ہم ان ایپس کو نہیں بلکہ یہ ہمیں استعمال کررہی ہیں۔

ان کی بات میں دم ہے۔ موبائل ٹیکنالوجی سے بہت چیزیں ممکن تو ہوئی ہیں لیکن اب فیس بک، انسٹاگرام، سنیپ چیٹ اور ٹوئيٹر جیسے سوشل نیٹورکس کے مسلسل استعمال کے منفی اثرات پر تحقیق میں اضافہ ہونے لگا ہے جس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ان ایپس کے استعمال سے تنہائی اور ڈیپریشن کے احساس میں اضافہ ہوتا ہے، اور آپ کی ذہنی صلاحیت میں کمی ممکن ہے۔

وہ دوسروں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے جن لوگوں کے ساتھ کام کررہے ہیں ان میں وینچر کیپیٹلسٹ اور ماضی میں فیس بک اور گوگل میں سرمایہ کاری کرنے والے روجر میک نیمی (Roger McNamee) بھی شامل ہیں، جنھیں اب ایسی کمپنیوں سے پیسے کمانے پر بہت افسوس ہوتا ہے۔

وہ پبلک سپیکنگ کا بھی سہارا لے رہے ہیں۔ ان کی اپریل 2017ء کی TED talk کی ویڈيو پندرہ لاکھ دفعہ دیکھی جا چکی ہے، اور اسی ماہ 60 Minutes ان کے بارے میں ایک پروگرام بھی کرچکے ہیں۔ جب میں نے انھیں پہلی دفعہ دیکھا، اس وقت وہ سٹان فورڈ یونیورسٹی کے ایک بڑے سے ہال میں Building AI for Human Attention کے موضوع پر مصنوعی ذہانت اور سوسائٹی کے آپس میں انٹریکشن کی ایک کلاس کو لیکچر دے رہے تھے۔

وہ ایک گھنٹے تک حقائق پیش کرکے طلباء کو بتاتے رہے کہ ٹیکنالوجی کی صنعت صارفین کی توجہ کو کس حد تک اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ انھوں نے سامعین کو مزید کھڑکایا، "یہ کمپنیاں لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں، لیکن اگر آپ ان کی سوچ کو مکمل طور پر کنٹرول کرنے لگ جائيں گے تو کیا اس سے واقعی فائدہ ہوگا؟ اس کی وجہ سے آپ کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے؟ اس کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں؟"

ان کی باتیں سن کر میرے ذہن میں بھی چند سوال اٹھے۔ شروع تو مجھے لگا کہ وہ محض افواہیں پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسروں کی طرح میں بھی کئی سالوں سے فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور گوگل استعمال کررہی ہوں، اور یہ میری زندگی کا بہت اہم حصہ بن چکے ہیں۔ میں اپنے دوستوں سے بات کرنے سے لے کر اپنی مضامین کے لیے ریسرچ تک ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے ان میں کسی نہ کسی ویب سائٹ پر جاتی ہوں۔ لیکن کچھ دیر بعد میں بھی سوچ میں پڑ گئی کہ کیا میں واقعی کوئی غلط کام کررہی ہوں؟ کیا یہ کمپنیاں واقعی میرا فائدہ اٹھا رہی ہیں؟ کیا واقعی کوئی کمپنی مجھے کسی طرح سے کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

ہیرس کی بات سننے کے بعد میں اپنی آن لائن زندگی کے بارے میں سوچنے لگی۔ میرا دل چاہے یا نہ چاہے اپنی ٹائم لائن پر چلنے والے اشتہارات پر میری نظر پڑ ہی جاتی ہے، اور پھر میرا دل للچانے لگتا ہے، جس کے بعد میں اکثر کچھ نہ کچھ خرید بھی لیتی ہوں۔ اپنے سمارٹ فون پر فیس بک، انسٹاگرام یا ٹوئیٹر کے نوٹیفیکشنز دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہوجاتا ہے، بلکہ میں بعض دفعہ خود سے کوئی دلچسپ تصویر یا سٹیٹس اپ ڈیٹ لگا دیتی ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ میری پوسٹس دیکھیں، اس پر اپنا فیڈبیک دیں، اور میرے پاس مزید نوٹیفیکشنز آتے رہیں۔ کیا میں پوری زندگی اسی طرح ان ایپس کے پیچھے گزار دوں گی؟

اگلے دن میں نے ہیرس سے ملاقات کی، اور ان کی باتوں سے میرے خدشات میں کمی نہیں ہوئی۔ تاہم انھوں نے ایک مجھے ایک ایسے فرضی منظر کے بارے میں ضرور بتایا جس میں فیس بک اور اس جیسی دوسری کمپنیاں صارفین کی توجہ کی جنگ نہي لڑ رہی ہے، بلکہ معاشرے کی خدمت کے لیے کام کررہی ہیں۔

فیس بک نے کئی لوگوں کو ایک دوسرے سے میل جول بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اسے کئی غلط کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جاچکا ہے۔ میک نیمی کہتے ہیں "کوئی کتنی بھی نیک نیتی سے حکمت عملیاں کیوں نہ تیار کرلے، غلط کاموں کی گنجائش کہیں نہ کہیں رہ جاتی ہے۔"

اگر فیس بک آپ کو اپنی کمیونٹی یا اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کرے، تو کیا ہوگا؟ ہیرس جس سوشل نیٹورک کا خواب دکھانے کی کوشش رہے ہیں وہ آپ کو بجلی بچانے کے لیے ہیٹر کا درجہ حرارت کم کرنے، یا اپنی چھت پر شمسی پینلز لگانے کی تجویز دیتا ہے یا آپ سے کسی دوست کو حقیقی دنیا میں مل کر گپيں لگانے کا مشورہ دیتا ہے۔

وہ کہتے ہیں "اس وقت آپ کے لیے یہ سوچنا بہت مشکل ہے، کیونکہ آپ کو اپنی فیڈ پر معلومات دیکھنے اور پڑھنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ اگر فیس بک آپ کو اپنے زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی کام کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے تو آپ کو بہت عجیب لگے گا۔"

دیکھنے میں تو ایسا لگتا ہے کہ لوگ فیس بک، ٹوئیٹر، انسٹاگرام وغیرہ پر اپنی مرضی کے مطابق شیئرنگ کررہے ہیں، اور اپنے کلکس، لائکز یا ری ٹوئیٹس کے ذریعے اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہیرس کے مطابق ہمیں سوشل میڈیا پر حقیقی معنوں میں کنٹرول حاصل نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں "فیس بک کے پاس میرے بارے میں جو معلومات ہے، وہ اس کا استعمال کرکے مجھے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدام کرنے کے لیے آمادہ کرسکتے ہیں۔ اور انھیں قائل کرنا بہت اچھے سے آتا ہے، کیونکہ وہ پہلے بھی مجھے کئی چیزوں کے لیے قائل کر چکے ہیں۔"

یہ ٹولز خصوصی طور پر مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ فیس بک کچھ برانڈز کو پبلک پوسٹس اور کمینٹس دیکھنے کی اجازت دے رہے ہیں تاکہ ان کمپنیاں کے لیے اپنے صارفین کو بہتر طور پر ٹارگیٹ کرنا زیادہ آسان ہوسکے۔

میں نے فیس بک سے رابطہ کرکے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ کیا وہ اپنے صارفین کو اخلاقی طور پر قائل کرنے پر کسی بھی قسم کا کام کررہے ہیں لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

ہیرس فیس بک کے انتظار میں نہیں بیٹھے ہیں۔ ان کی اور میک نیمی کی اولین ترجیح ٹیک کمپنیوں کے اپنے صارفین کی زندگیوں پر کنٹرول کے متعلق سیاست دانوں کے علاوہ عوام الناس کو سوچنے سوچ اور فیصلوں میں تبدیلی لانے کی کوشش ہے۔ میک نیمی کہتے ہیں کہ ان کا مقصد اس مسئلے کے متعلق مکالمہ چھیڑنا تھا، اور وہ اس سلسلے میں کئی لوگوں سے مذاکرات بھی کر چکے ہیں، لیکن انھوں نے کسی کا نام نہیں بتایا۔ ہیرس پرامید ہیں کہ ٹیک کی کمپنیوں کے ملازمین بھی اس سلسلے میں دلچسپی لینے لگیں گے۔ ان کی باتوں نے ٹیک کمپنیوں کے چند ملازمین کو اس حد تک قائل کرلیا ہے کہ وہ اپنی ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں۔

وہ کہتے ہیں "جب تک کمپنیوں کو کھڑکایا نہیں جائے گا وہ خود سے کوئی کام نہیں کریں گے۔"

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top