Global Editions

سمارٹ سٹی کی خصوصیات نے شہری علاقوں کو تبدیل کر دیا

ایک اندازے کے مطابق روزانہ دس ہزار افراد دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں جس کی وجہ سے شہری علاقے زیادہ گنجان آباد ہو تے جارہے ہیں۔ اب ضروری ہے کہ شہریوں کی زندگیوں کو مزید بہتر، محفوظ، سمارٹ اور صحت مند بنانے کے لئے سمارٹ شہروں کے آئیڈیا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ آبادی کے اس بہاؤ کو عالمی کوششوں کے ساتھ سمارٹ اور محفوظ نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کر کے ہی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ سمارٹ شہر جہاں عمارتیں، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور دیگر روزمرہ امور انٹرنیٹ آف تھنگز یعنی IoT سے منسلک ہوں۔ ڈیجیٹل دور نے شہریوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں یہاں بہتر تعلیم، صحت کی سہولیات، سیر وتفریح کے مواقع اور معاشی سرگرمیاں اور معاشی ترقی زیادہ ہے اور انہی وجوہات کی بناء پر شہری آبادی کی جانب آنے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال میں سمارٹ شہر قائم کر کے نہ صرف عمدہ انداز میں شہر کی انتظامیہ کو چلایا جا سکتا ہے بلکہ ریونیو کے مواقع بھی بڑھائے جا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بچتوں میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ اس حوالے سے سسکو Cisco کے گلوبل پریذیڈنٹ انیل مینن (Anil Mennon) کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور شہری انتظامیہ بھرپور کوششوں میں ہے کہ کسی طرح بھی تمام شہریوں کو بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے لئے انہیں ڈیجیٹل انقلاب سے مدد لینا ہو گی۔ اسی طرح ریسرچ اور ایڈوائزی کمپنی Gartner کا ایک رپورٹ میں کہنا ہے دنیا بھر میں سال 2029 ء تک 9.7 ارب ڈیوائسز جن میں عمارتیں، گاڑیاں، سٹریٹ لائٹس، پارکنگ میٹرز وغیرہ انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہونگے اور سمارٹ شہر کسی حد تک وجود میں آ چکے ہوں گے۔ سمارٹ شہروں کا نظریہ اس وقت سامنے آیا جب دنیا بھر میں تبدیلی کا عمل جاری تھا اور ایک متوازن سماجی، معاشی اور ماحولیاتی وسائل کے لئے پہلے سے زیادہ کاوشیں جاری تھیں۔ ماہرین کا ماننا تھا کہ موجودہ شرح سے دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی جانب آبادی کا انخلاء موجودہ شہری ڈھانچے اور ماحولیات کے لئے نقصان دہ ہے۔ اقوام متحدہ کی دنیا کے بڑے شہروں کے حوالے سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی سال 2050 ء تک شہروں میں آباد ہو چکی ہو گی۔ سال 2050ء تک مزید سو بڑے شہر آباد کرنا ہونگے۔ اور آبادی کے شہری علاقوں کی جانب انخلا کے باعث عالمی ماحولیاتی اثرات بھی زیادہ سنگین ہو جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت شہری علاقے توانائی کا 75 فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں اور گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں شہروں کا حصہ 80 فیصد ہے۔ شہروں کو سمارٹ بنانے سے ٹریفک کے بہاؤ کو یقنی بنانے میں مدد ملے گی، عمارتیں، گاڑیاں اور دوسرا انفراسٹرکچر انٹرنیٹ کے ذریعے باہم مربوط اور منسلک ہو گا۔ حساس اور انٹیلیجنٹ سینسرز اور IoT کی مدد سے بگ ڈیٹا کی مدد سے انفراسٹرکچر کو مضبوط اور مربوط بنایا جا سکے گا۔ اس کےساتھ ساتھ تعمیر و مرمت کا کام بھی بغیر کسی دشواری کے خودکار انداز میں کیا جا سکے گا۔ انیل مینن کا کہنا ہے کہ اگر ضروریات اور وسائل کے درمیان فرق کو کم کرنا مقصود ہے تو ضروری ہے کہ پبلک پرائیویٹ سیکٹر اور اس کے ادارے ایک دوسرے سے تعاون کریں اور ایسا حل تلاش کریں جس کی مدد سے شہروں کو جلد از جلد ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ سے مربوط کیا جا سکے تاکہ شہری سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مربوط کوششیں کی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے شہر اپنی خصوصیات کی بناء پر اپنی مثال آپ ہونگے۔

MIT Technology Review Custom

Read in English

Authors

*

Top