Global Editions

ریڈار کی مدد سے ہدف تک پہنچنے والانیا ڈرون تیار

دیکھا جائے تو ڈرون کی آنکھیں نہیں ہوتیں اور اسے منزل یا ہدف تک پہنچنے کےلئے آپریٹر کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپریٹر کے نیوی گیشن سسٹم کی بدولت ہی ڈرون راستے میں آنیوالی رکاوٹیں عبور کرتا اور گردونواح کی صورتحال کے ساتھ ساتھ دیگر جہازوں کی موجودگی سے باخبر رہتا ہے۔ تاہم اب ایک ایسے ڈرون کا پروٹو ٹائپ تیار کر لیا گیا ہے جس میں ملٹری ریڈار نصب کیا گیا ہے جس کی مدد سے یہ ڈرون کسی آپریٹر کی مدد کے بغیر ازخود پرواز کر کے منزل یا ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ڈرون گردونواح کی صورتحال اور فضا میں موجود دیگر طیاروں کی موجودگی سے بھی باخبر رہ سکتا ہے۔ اس ڈرون کے پروٹو ٹائپ کے حوالے سے حال ہی میں ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں اس ڈرون کو پرواز کرتے دیکھایا گیا ہے۔ جیسے ہی یہ ڈرون اڑان بھرتا ہے خاردار تاروں کی باڑھ دکھائی دیتی ہے جسے ڈرون کے ریڈار پر دیکھا جا سکتا ہے پھر ریڈار فضا میں ایک اور طیارے کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے اور اس طیارے کی سمت اور رفتار کے بارے میں دستیاب معلومات سے آگاہ کرتا ہے۔ اسی طرح کے دیگر تجربات میں ریڈار کی مدد سے اس ڈرون میں موجود سکرین پر فضا میں ہلکے طیاروں کی موجودگی کے بارے میں بھی آگاہی فراہم کی گئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو Echodyne نامی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈلیوری ڈرونز کی تیاری کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ بڑی کمپنیاں جن میں ایمزون بھی شامل ہے صارفین کو سامان کی ترسیل ڈرون کے ذریعے کرنے کی خواہشمند ہے۔ اس سے پہلے امریکی محکمہ شہری دفاع کا یہ موقف سامنے آچکا ہے کہ ڈرون کو آپریٹر کی نظر سے اوجھل ہو جانے کی صورت میں ڈرون میں ایسا نظام موجود ہونا چاہیے جس کی مدد سے ڈرون پرواز کے دوران رکاوٹوں سے محفوظ رہ سکے اور ڈرون گردونواح کی صورتحال سے آگاہ رہ سکے۔ اس وقت تک اس کا کوئی حل دستیاب نہیں۔ مختلف کمپنیاں جن میں انٹل اور سکائی ڈو شامل ہیں وہ حساس کیمروں اور سینسرز سے مزین ڈرونز تیار کرنے کے تجربات کر چکی ہیں۔ یہ ڈرونز رکاوٹیں عبور کر سکتے ہیں اور درختوں کے درمیان بھی پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم یہ ڈرون طیارے دوران پرواز فضا میں موجود دیگر طیاروں کی موجودگی سے باخبر رہنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ Echodyne اس ریڈار سسٹم کو آئندہ برس ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ امریکی محکمہ شہری ہوابازی کی جانب سے عائد کردہ پابندی کا ازالہ ہو سکے۔ الیکٹرانک ملٹری ریڈار اس وقت صرف ملٹری کے زیراستعمال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ریڈار وزن میں بھاری اور پیچیدہ ہے۔ اس کےساتھ ساتھ اس ریڈار کی لاگت ہزاروں ڈالر ہے۔ شہری مقاصد کے لئے اس ریڈار کو ڈرون میں استعمال کرنے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اس حوالے سے کمپنی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ایبن فرینکنبرگ (Eben Frankenberg) کا کہنا ہے کہ مختلف ڈرون ساز کمپنیاں ہماری تیارکردہ اس ٹیکنالوجی کے تجربات مکمل کر چکی ہیں تاہم انہوں نے ان کمپنیوں کے نام افشا کرنے سے گریز کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کمپنی اپنے ریڈار سسٹم کا بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں پر بھی تجربہ کر رہی ہے تاکہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی جلد تیاری ممکن ہو سکے۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors

*

Top