Global Editions

بہتر دوا کی تیاری سست روی کا شکار

جب 25جولائی 2014ء کو کرینا (Carina)پیدا ہوئی تو ایک بات واضح تھی کہ اس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کے نشاندہی ایک نرس نے کی ، اس کے دائیں جبڑے پر سوجن یا ابھار موجود تھا۔ پہلے تو ڈاکٹروں کو اس بارے میں معلوم ہی نہیں ہوا کہ یہ کیا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ کینسر کی ایک خطرناک قسم تھی۔ کینسر کی تشخیص کے پہلے ڈیڑھ سال میں کرینا کی 8کیموتھراپی اور سرجری کے متعدد آپریشن ہوئے۔ گزشتہ اکتوبر میں جب ٹیومر بڑھنے لگا تو اس کی ایک اور سرجری ہوئی اس کے والدین جو (Joe)اور کرسٹی (Christie)کو پتہ چلا کہ مرض اب اختیار سے باہر جارہا ہے۔ اس کا ایک علاج تو ریڈی ایشن (Radiation)تھالیکن اس سے دماغ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ ریڈیالوجسٹ نے انہیں کہا کہ پہلے کوئی تجرباتی دوا استعمال کروا کر دیکھ لیں۔

ٹیومر پر جینیاتی ٹیسٹ نے بتایا کہ اس کے دوجینز کا ادغام غیرمعمولی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ ادغام بیماری میں اضافے کے اشارے دے رہا ہے جو اسے کینسر کی طرف لے جارہی ہے۔ نیمورس چلڈرن ہسپتال (Nemours Children Hospital)میں کرینا کے اونکولوجسٹ (Oncologist)معالج راما مورتی ناگا سبرامنین (Ramamoorthy Nagasubramanian)کو معلوم ہوا کہ ایک دوا ایسی تیار کی گئی ہے جو پروٹین میں مداخلت کرتی ہے اس دوا کو ابھی جوان افراد پر ٹیسٹ کیا جانا تھا۔ انہوں نےدوا بنانے والی کمپنی لوکسو اونکولوجی (Loxo Oncology)سے رابطہ کیا ۔ دونوں نے مل کر امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے کرینا پر دوا کے استعمال کی اجازت طلب کی۔ اس طرح کرینا دوا کے تجرباتی استعمال کی پہلی مریض بنی۔

اگلے ماہ اس کے والدین جو (Joe)اور کرسٹی (Christie) نے دیکھا کہ ٹیومر سکڑ رہا ہے۔ جب علاج شروع کیا گیا تو ٹیومر ایک اخروٹ کے سائز کا تھا لیکن 28دنوں بعد ٹیومر مکمل طور پر غائب ہو گیا۔ اگرچہ کرینا مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوئی تاہم اب وہ معاشرے کی ایک فعال رکن ہے۔ اسے فی الحال دوا کو مسلسل لیتے رہنا ہے۔ کیونکہ امکان ہے کہ کینسر پھر ابھر کر سامنے آجائے گا۔ کرینا کے والدین کہتے ہیں کہکہتے ہیں کہ علاج سے ہم نے اپنی بچی کیلئے کچھ وقت خریدا ہے۔ ( اپنی نجی زندگی کو تحفظ دینے کیلئے خاندان نے اپنا آخری نام ظاہر نہ کرنے کا کہا ہے۔)

کرینا کیس ادویات کے استعمال کے نظریئے کی کامیاب کہانیوں میں سے ایک ہے جس میں مریضوں کے جینز کے انفرادی اختلافات پر توجہ دی جاتی ہے جو ماحول، صحت کی ہسٹری اور زندگی گزارنے کے طریقے سے متعلق ہے۔ یہ تشخیصی ریکارڈ پر مشتمل تجرباتی دوا (Precision Medicine)کہلاتی ہے ۔ یہ ایک وسیع اصطلاح ہے جس کے تحت ہر فرد کے مرض کی تشخیص کے دوران مختلف ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کرکے زیادہ موثر مریض مرتکز علاج کیا جاتا ہے۔ ہمارے موجودہ طبی ماڈل میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ جس میں جینیاتی نظریہ اور علاج پر توجہ دی جاتی ہےجو زیادہ سے زیادہ لوگوں کیلئے مناسب ہو۔ ان تشخیصی ریکارڈ پر مشتمل تجرباتی ادویات کی امکانی کامیابی کو دیکھتے ہوئے وہائٹ ہائوس نے 215ملین ڈالر سرمایہ کاری کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیویارک میں میموریل سلون کیٹرنگ کینسر سینٹر (Memorial Sloan Kettering Cancer Centre) مریضوں کے انفرادی علاج کیلئے 0000ٹیومرز کا ریکارڈ مرتب کیا ہے۔ کسی بھی بڑی تبدیلی کی طرح اسے بھی طبی صنعت میں ریگولیشن اور ڈرگ ڈیویلپمنٹ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

بزنس رپورٹ کیلئے یہ ایک بڑا سوال ہے کہ اس مداخلت سے صحت کی صنعت کے کون سے شعبے فائدہ اٹھائیں گے۔ سرمایہ کاروں کا ایک گروپ تو پہلے ہی ٹیکنالوجی پر مشتمل نئی کمپنیاں قائم کرچکا ہے۔ وینچر سرمایہ داروں نے تو گزشتہ سال بائیو فارما سیوٹیکل (Biopharmaceutical)میں ریکارڈ 7ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ سلیکون ویلی بنک کے اعدادوشمار کے مطابق زیادہ تر سرمایہ کاری جینیاتی میڈیسن اور دیگر ٹیکنالوجیز میں نئی اختراعات کی توقع میں کی گئی۔ کرینا کیلئے دوا بنانے والی کمپنی لوکسو اونکولوجی نے اس شعبے میں چھوٹی کمپنیوں کے کام کی مثال قائم کی۔ لوکسو کے بانی جوشوا بیلنکر (Joshua Bilinker)کہتے ہیں کہ کمپنی کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کینسر جینوم ایٹلس جیسے عوامی معلومات کے مختلف ذرائع فراہم کئے گئے ہیں۔ اس شعبے میں نجی اور سرکاری سرمایہ کاری بھی دستیاب ہے ۔ لوکسو کو سرمایہ کاروں نے قریباً 250ملین ڈالر فراہم کئے ہیں۔ بیلنکر کہتے ہیں کہ ان کی کمپنی قدرے سادہ جینیاتی کینسر پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہےتاکہ جلد از جلد پتہ چل سکے کہ علاج کام کررہا ہے یا نہیں۔ یہ سرمایہ داروں کیلئے ایک اچھی خبر ہے۔

امید ہے کہ تشخیصی ریکارڈ پر مشتمل تجرباتی ادویات (Precision Medicines)کو بتدریج بڑی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ لیکن ان کا استعمال بڑا چیلنجنگ ہو گا کیونکہ ان کے استعمال کی شرائط بڑی پیچیدہ ہیں اور شاید واضح جینیاتی عناصر موجود نہیں ہیں۔ پھر مریضوں کے چھوٹے گروہ سے بہت بڑی آمدن بعید از قیاس ہے۔ لوکسو جیسی کمپنیوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے ہر مریض سے علاج کے سلسلے میں بھاری رقوم لینا پڑیں گی۔ اس وقت کینسر کے علاج پر اٹھنے والے ماہانہ اخراجات 10000ہزار ڈالر ہیں۔ لیکن کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے مریض اور انشورنس کرنے والے ایک دہائی کے بعد کی قیمتوں کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں۔

ایسی ادویات کے استعمال میں ٹیکنالوجی کا رسک بھی موجود ہے۔ کمپنی ایڈیٹاس میڈیسن (Editas Medicine)جینز میں خرابی کے طبی علاج کیلئے جینیاتی ترمیم کی نئی ٹیکنالوجی سی آر آئی ایس پی آر کیس نائین (CRISPR/Cas9)استعمال کررہی ہے۔ کمپنی اپنی دوا اگلے سال کلینکل تجربے کیلئے پیش کرے گی۔ تاہم اس دوا کو پیش کرنے سے پہلے کمپنی کو اس کی پیچیدہ سائنسی مشکلات کو دور کرنا ہو گا۔ یعنی دیکھنا ہو گا کہ جینیاتی علاج میں دوا متاثرہ سیل پر ہی اثرانداز ہو رہی ہے۔ جینیاتی علاج میں تشخیصی ریکارڈ پر مشتمل تجرباتی ادویات ماحول، فرد کا زندگی گزارنے کے انداز اور صحت سے متعلق ہسٹری پر انحصار کرتی ہے۔ کچھ کمپنیاں یہ ریکارڈ مرتب کرتی ہیں۔ کمپنیاں ویل ڈوک (WellDoc)اور اوماڈا(Omada)مریضوں سے رابطے کیلئے موبائل فون اور کمپیوٹرز استعمال کررہی ہیں۔ ان میں خاص طور پر وہ مریض شامل ہیں جو شدید بیماری مثلاً شوگر، ہائیپر ٹینشن میں مبتلا ہیں۔ تاکہ معالجین کو مریضوں کے علاج میں مدد دینے کیلئے ان کی صحت سے متعلق ہسٹری اور زندگی گزارنے کے انداز کی معلومات فراہم کی جاسکیں۔

ان میں سے کچھ پروگرامز کامیاب ہیں۔ اومانڈا کا کہنا ہے کہ 64فیصد مریض ایک سال سے ان کا پروگرام استعمال کررہے ہیں۔ تاہم بوسٹن میں قائم پارٹنر ہیلتھ کئیر میں کنیکٹڈ ہیلتھ کا پروگرام چلانے والے جوزف کویڈار (Joseph Kvedar)کہتے ہیں کہ اوماڈا کو مریض کی طرف سے مکمل توجہ نہیں ملی ۔ جس طرح سنیپ چیٹ، انسٹا گرام اور فیس بک لوگوں سے رابطے کرتی ہے اس طرح کے رابطے کی سہولت ہمارے پاس نہیں ہے۔ جوزف کویڈار کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بیماری کے بارے میں پیغام دینا کوئی خوش کن تصور نہیںہے۔لیکن ہمارے پاس کمپیوٹر اور موبائل ڈیٹا کی صورت میں بہت بڑی سہولت ہے جس کے ذریعے ہم مریض کی صحت ، جینیاتی رحجان اور بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔

تحریر: نانیٹے بائرنز (Nanette Byrnes)

Read in English

Authors
Top