Global Editions

مرنے سے پہلے اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ

مرنے کے بعد اپنے پیاروں کو تما م اکاؤنٹس کامالک کیسے بنائیں۔ یا متبادل طور کے طور پر ان کو کیسے اپنائیں

اس پیراگراف کو پڑھنے سے پہلے اگر آپ مر جاتے ہیں تو آپ کے ڈیجیٹل اثاثہ جات کا کیا بنے گا۔

؟ کیا آپ کے پیچھے رہ جانے والے اس قابل ہونگے کہ جو کچھ آپ نے پیچھے چھوڑا ہے، اس کو سنبھال سکیں۔

بہت سارے لوگوں کو اس بارے میں پتا نہیں ہے: مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مکمل طور پرسانحہ رونما ہوتا ہے۔ 2016 کے گیلپ سروے کے مطابق آدھے سے زائد امریکیوں نے کوئی وصیت نہیں لکھی ہے۔ اس کے نتیجے میں زیادہ تر لواحقین کو مرنے والے کے اثاثہ جات (فزیکل اور ڈیجیٹل) کو سنبھلالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں ہوتا یا معالات کو سنبھالنے کے لئے کوئی قانونی اتھارٹی نہیں ہوتی۔

خوش قسمتی سے یہاں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو اب آپ وکیل کے بغیر کر سکتے ہیں جس سے آپ کے لواحقین کو سہولت ہو جائے گی۔

1۔ بیک ڈور بنائیں

15 سال پہلے اگر آپ مرتے اور آپ کے اگلے رشتہ دارکو بعد میں آپ کا لیپ ٹاپ مل جاتا تو وہ شخص آپ کےڈیٹا تک رسائی کی اسے گارنٹی ہوتی تھی۔ اس کے بعد، 2003 میں ایپل نے مکمل طور پر انکرپشن متعارف کرائی جو کہ ڈیٹا کو چوروں سے بچانے کے لئے ڈیزائن کی گئی تھی۔ لیکن یہ آپ کے بچنے والوں کی تکمیل سے بھی دور رکھتا ہے۔کرپٹو کرنسیوں کو بھی اسی طرح کا مسئلہ درپیش آتا ہے: اگر کسی کو آپ کے ڈیجیٹل ویلٹ تک رسائی نہیں ہے تو پھر اس کی قدر ضائع ہو جاتی ہے- شکایات کرنے کے لئے اس کا کوئی مرکزی سنٹر نہیں ہے۔

آج یہ بحث ہو رہی ہے کہ آیاٹیک کمپنیوں کو ان کرپٹو ٹیکنالوجیوں میں واپس بیک ڈور کو واپس لانا چاہئے تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کے دوران قبضے میں لئے گئے آلات سے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکیں۔ مختصر بات یہ ہے آپ کوخود خفیہ کاری کو واپس کرنا ہے: بس اپنے ہارڈ ڈرائیو کے ماسٹر پاسورڈ کوڈ کو لکھیں، کاغذ کو ایک لفافے میں ڈالیں اور اسے سیل کر دیں کریں۔ اپنے بٹ کوائن والٹ( wallet (Bitcoin کے ساتھ ایسا کریں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ اچھی طرح سے پوشیدہ ہے لیکن آپ کے عزیزو اقارب اس جگہ سے واقف ہیں۔

2۔ غیر فعال اکاؤنٹ مینیجر کے لئے سائن اپ کریں

اگر آپ کے پاس جی میل کا اکاؤنٹ ہے تو ایک غیر فعال اکائونٹ منیجر سےایک ای میل متعین کریں جو آپ کےگوگل اکاؤنٹ غیر فعال ہو نے کے تین ماہ بعد خود بخود غیر فعال ہونے کی میل بھیجتا ہے۔گوگل وسیع پیمانے پر “سرگرمی” کی وضاحت کرتا ہے: اگر آپ اپناجی میل چیک کرتے ہیں تو گوگل کی ویب سائٹ پر لاگ ان ہوتے ہیں، یا آپ اپنے اکاؤنٹ سے لاگ ان ہو کر گوگل کروم براؤزر کے ذریعہ سرچ کرتے ہیں تو گوگل سمجھے گا کہ آپ نہیں مرے۔ لیکن جب آپ کے ڈیجیٹل دل کی گھنٹیاں بند ہوجاتی ہیں تو اس سے کوئی آپ کے اعتماد کا بندہ آپ کے جی میل اکاؤنٹ، گوگل فوٹو اور دیگر ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

3۔ اپنے میڈیکل ریکارڈز کو خود ڈاؤن لوڈ کریں

اگرچہ آپ کے ڈاکٹر نے آپ کے ٹیسٹ کے نتائج اور دیگر ریکارڈوں کی کاپیاں برقرار رکھنا ہوتی ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ آپ خود بھی کاپیاں رکھیں اور انہیں اسکین کریں۔ آپ اپنا ریکارڈ براہ راست حاصل کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں اگر آپ کی صحت کی سہولت مہیا کرنے والے امریکی حکومت کے بلیو بٹن کنیکٹر میں حصہ لے رہے ہیں۔اس سے آپ اپنی پی ڈی ایف کی فائلیں ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور دوسرے صحت کی سہولیات مہیا کرنے والوں کے لئے بھی حاصل کر سکتے ہیں ( آپ کو ان کو بھی کاپی دینی چاہیے۔)

میرے بزرگ والد اپنی یوایس بی کی چھڑی میں یہ ریکارڈ رکھتے ہیں جو ہر وقت ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ اس وقت کام آتا ہے جب کوئی ماہر ڈاکٹر ان کو چیک کرتا ہے اور بنیادی دیکھ بھال فراہم کرنے والے کمپیوٹر تک رسائی نہیں رکھتا ہے۔ جی ہاں خطرہ موجود ہے کہ چھڑی غلط ہاتھوں میں لگ جائے۔ لیکن یہ ڈیٹا چھڑی میں رکھنے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس ان کے ڈیٹا کی بوقت ضرورت رسائی نہ ہو۔

4۔ اپنےپاس ورڈ مینیجر کا استعمال کریں

پہلے سادہ کام ہوتا تھا کہ کسی مرنے والے کی بینک سٹیٹمنٹ اور ٹیکس کے بلوں کی بذریعہ ڈاک پہنچنے سے اس کا پتا چل جاتا تھا۔ ان دنوں دو تہائی امریکی آن لائن بینکنگ کرتے ہیں (امریکی بینکرز ایسوسی ایشن کے 2017 کے سروے کے مطابق) اور بہت سارے لوگوں کو کاغذ پر بینک سٹیٹمنٹ نہیں ملتی۔ یہ چیزنمایاں طور پران مواقع کا اضافہ کرتی ہےکہ آپ کے بینک اکاؤنٹس یا ریٹائرمنٹ کے اکاؤنٹس کو “ترک کر دیا جائے” کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا ایک پاس ورڈ مینیجر جیسے 1 پاس ورڈ یا لاسٹ پاس ورڈ( (LastPass استعمال کریں۔ اب اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے شوہر، یا وکیل، یابچے، یا والدین، یا کسی کے پاس آپ کے اکاؤنٹس حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔(جسے وہ چلا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی بھی پیاری تصاویر کو بچانے یا آپ کے فوت ہو جانے کے بعد آسانی سے ان اکاؤنٹس کو حذف کر سکتے ہیں۔)

ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جوڑے ایک دوسرے کے اکاؤنٹس تک پاس ورڈ شئیر کرکے رسائی حاصل کرسکیں۔ یہ چیز مشکل ہو رہی ہے جیسے جیسے ویب سائٹس دو فیکٹرز کی توثیق پر عمل درآمد کروا رہی ہیں۔ لیکن یہ اب بھی ایک سے زیادہ دوسرے عوامل (جیسے FIDO یونیورسل فیکٹر ڈیوائس) کی طرف سے ممکن ہے اور اس کاہر ایک حصہ اپنے پارٹنر کو دیا جائے۔

5۔ سماجی میڈیا کی پیچیدگیوں پر غور کریں

اگر آپ فیس بک یا ٹویٹر کے مستقل صارف ہیں تو آپ ان کی موت کے بعد ڈیٹا پالیسیوں کو پڑھنے کے لئے کچھ وقت نکالیں۔ شاید یہ آپ کو پسند نہ آئیں۔
جب فیس بک کو مطلع کیا جاتا ہے کہ اس کا کوئی صارف کسی طور پر میڈیکل طور پر معذور یا مردہ ہو چکا ہے تو کمپنی مجاز افراد کو ان کی درخواست پراجازت دیتی ہے کہ صارف کے اکاؤنٹ کویا تو “یادگار” یا ہٹا دیا جائے۔  آگاہ رہیں: یادگار اکاؤنٹس کووراثتی رابطے کے ذریعے (جس کو پیشگی مطلع کیا جاتا ہے) منظم کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ شخص فیس بک اکاؤنٹ پر لاگ ان نہیں ہوسکتا ، ماضی کے پیغامات کو ہٹانے یا تبدیل کرنے یا نجی پیغامات نہیں پڑھ سکتا۔ ایک مشہور کیس میں ایک 15 سالہ جرمن لڑکی ایک سب وے پر ٹرین کی ٹکر کی وجہ سے مر گئی تھی۔ اس کے والدین اس لڑکی کے فیس بک اکاؤنٹس کھولنے میں ناکام رہے اور وہ یہ اس لئے چاہتے تھے تاکہ اس بات کا تعین کرسکیں کہ آیا وہ فیس بک پر تنقید کی وجہ سےڈیپریشن کی وجہ سے تو نہیں مری یا اس کی موت واقعی ایک خطرناک حادثہ تھا۔

ٹویٹر کی پالیسی بھی اسی طرح کی ہے: آپ کے مرنے کے بعد، خاندان کا کوئی ایک رکن اس کمپنی کے ہیلپ پیج پر اس سے رابطہ کر سکتا ہے اور وہ پوچھ گچھ کے بعد آپ کا اکاؤنٹ حذف کردیں گے۔

ٹویٹر بھی درخواست کرنے پر ایک شخص کی موت سے پہلے یا بعد مخصوص عکاسی اورپیغامات کو ہٹا دیتا ہے۔ لیکن ٹویٹر کسی مرنے والے صارف کے نجی پیغامات تک خاندانی کے اراکین کورسائی نہیں دے گا۔

اگر آپ فیس بک پر کچھ ذخیرہ کر رہے ہیں جو کہ آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے مرنےکے بعد بھی اس تک رسائی حاصل کریں تو آپ باقاعدگی سے اس ڈیٹا کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اسے ذخیرہ کریں جہاں سے آپ کے پیاروں اس تک رسائی مل سکے۔ مثال کے طور پر گوگل ڈرائیو پر۔

6۔ اپنی خواہش کے بارے میں محتاط رہیں

چند مہینے قبل میں نے یہ مشورہ ایک سائبر سیکورٹی کی میٹنگ میں دیا اور کمرے میں موجود تمام لوگوں نے سمجھا کہ میں پاگل ہوں۔ وہاں زیادہ تر مردوں نے کہا کہ وہ اپنے پاس ورڈ اپنے بیوئوں کے ساتھ کبھی نہیں شئیرکرسکتے ہیں۔

اور وہ شائد ایک نقطہ پر پہنچ گئے ہیں۔ نیو ہیوون یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ڈیجیٹل فرانزک میں ماہر ابراہیم بیگگلی نے خبردار کیا ہے کہ خاندان کے اراکین کو ان خفیہ ڈیجیٹل رویوں کو کھولنے کے حوالے سے محتاط رہنا چاہئے۔ ابراہیم بیگگلی کا کہنا ہے کہ “میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو مر گیا ہے۔ اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوی نے اس کے ای میل اور آئی پیڈ تک رسائی حاصل کی اور اپنے بارے میں تمام چیزوں کو تلاش کیا جو کہ وہ نہیں جاننا چاہتی تھی۔ “وہ اس سے واقعی محبت کرتی تھی لیکن اس کا پورا نقطہ نظر تبدیل ہو گیا۔”

تحریر:سیمن گارفنکل

Read in English

Authors

*

Top