Global Editions

سنگاپور کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی بہترین مثال قائم کررہا ہے

ان کی حکمت عملی کے بنیادی ستونوں میں فوری کارروائی، وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور مستقل ٹریکنگ شامل ہیں۔

جب میں نے یہ مضمون لکھنا شروع کیا، اس وقت میں سنگاپور کے ریفلز ہوٹل (Raffles Hotel) میں بیٹھا ہوا تھا، جو یہاں برطانوی سامراج کی خوبصورت ترین یادگاروں میں سے ایک ہے۔ پچھلے ڈھائی سال سے ریفلز کی رینوویشن جاری ہے اور اب اس کا شمار دنیا  کے مہنگے ترین اور آرام دہ ترین ہوٹلوں میں ہوتا ہے۔ مجھے اس تبدیلی کو دیکھ کر 1965ء میں آزاد ہونے کے بعد سے لے کر اب تک سنگاپور کی ترقی کا خیال آتا ہے۔

سنگاپور کے بانی اور پہلے وزیر اعظم لی کوان یو (Lee Kuan Yew) ایک دوراندیش سیاست دان کے علاوہ ایک ٹیکنوکریٹ اور مضبوط شخصیت کے مالک بھی تھے۔ انہيں سنگاپور میں ایک آئيکن کا درجہ حاصل ہے اور نہایت سچا اور کھرا انسان سمجھا جاتا ہے۔ یو نے موجودہ سنگاپور کی بنیاد جن ستونوں پر رکھی تھی، ان میں شفافیت، منطق کی توہم پرستی پر سبقت، اور صفائی ستھرائی پر ایمان کی حد تک یقین شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سنگاپور پوری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے مقابلے کے حوالے سے پوری دنیا کے لیے ایک مثال قائم کرنے میں کامیاب ثابت ہورہا ہے۔

سنگاپور کا شمار چین کے اہم ترین تجارتی پارٹنرز میں ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انہيں کرونا وائرس کا نشانہ بننے میں زيادہ دیر نہيں لگی۔ ”ووہانی نزلے“ کی پہلے سرکاری نوٹس جاری ہونے کے بعد سنگاپور میں محض ایک ہفتے میں بارہ کیسز سامنے آگئے۔ لیکن دوسرے ممالک کے برعکس سنگاپوری حکام نے بڑی جلدی اندازہ لگالیا کہ یہ کوئی عام وائرس نہيں ہے اور بڑی تیزی سے اس کے خلاف مہم شروع ہوگئی۔ 2002ء اور 2003ء کے سارز (SARS) کے تجربے سے سبق حاصل کرتے ہوئے سنگاپور نے کرونا کے تمام کیسز کی تفتیش کرکے ان کے درمیان تعلقات قائم کرنے کی کوششیں شروع کیں اور ہر نئے کیس کے ابھرنے کے بعد حکام ایک دو روز کے اندر یہ جاننے میں کامیاب ہوگئے کہ کرونا وائرس کس طرح پھیل رہا تھا۔ ان تفصیلات کے حصول کو زیادہ آسان بنانے کے لیے فروری میں حکومت نے سرکاری دفاتر میں آنے والے ہر شخص سے رابطے کی معلومات حاصل کرنا شروع کیں۔

کیسز کی نشاندہی کے علاوہ سنگاپور نے ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری اور استعمال میں بھی پہل کی اور انہيں فوری طور پر بورڈر کنٹرول پر نصب کردیا گيا۔ سنگاپور میں داخل ہونے والے ہر شخص کو کوارنٹین (quarantine) کیا جاتا ہے اور حکام تین گھنٹے کے اندر ٹیسٹنگ مکمل کرکے کرونا وائرس کی موجودگی کا تعین کرسکتے ہيں۔

دوسری طرف امریکی حکام نہایت سست روی کا مظاہرہ کررہے ہيں۔ شروع میں کئی لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ صرف ”چینی“ یا ”ایشیائی“ افراد ہی کرونا وائرس کا شکار ہوسکتے ہيں اور یہ وبا کسی صورت بھی امریکہ میں نہيں پھیل سکتی۔ پبلک ہیلتھ کے ادارے بھی اسی غلط فہمی کا شکار رہے اور کافی عرصے تک کرونا وائرس کو نظرانداز کرتے رہے۔ امریکہ میں درجنوں بیمار افراد داخل ہوتے رہے اور اسی حالت میں اپنی روزمرہ زندگی گزارتے رہے، جس کی وجہ سے کرونا وائرس امریکہ میں داخل ہونے اور اس کے بعد پھیلنے میں کامیاب ہوگیا۔

جب لوگ کرونا وائرس کی علامات کا شکار ہوئے اور انہوں نے ٹیسٹنگ کا مطالبہ کرنا شروع کیا تو حکام انہيں اس وجہ سے ٹالتے رہے کہ نہ تو وہ کبھی چین گئے تھے اور نہ ہی وہ زيادہ بیمار نظر آرہے تھے۔ اگر ان افراد کا ٹیسٹ کروا بھی لیا جاتا تو کوئی فائدہ نہ ہوتا کیونکہ اس وقت حکومت کے پاس جو ٹیسٹنگ کٹس دستیاب تھے وہ ناقص تھے۔ دوسرا المیہ یہ تھا کہ 25 فیصد امریکی شہریوں کو بیماری کے باعث دفتروں سے چھٹی کرنے کی اجازت نہيں ہے۔ ٹیسٹنگ میں تاخیر اور ملازمت سے ہاتھ دھونے کے ڈر سے چھٹی نہ کرنے کے باعث لوگ حسب معمول کام پر جاتے رہے، جس کی وجہ سے انفیکشن کو مزید پھیلنے کا موقع ملا۔

میں اس وقت بورنیو کے جنوبی حصے میں واقع 50 سالہ بندروں کے ایک ریسرچ سینٹر میں موجود ہوں۔ میں پچھلے دو روز سے دوسروں سے رابطہ نہيں کرپایا ہوں اور یہ تحریر بذریعہ سیٹلائٹ ارسال کررہا ہوں۔ جب میں امریکہ سے نکلا تھا اس وقت صورتحال زيادہ پرامید نہيں نظر آرہی تھی اور وہاں لوگوں کے درمیان موجود دراڑیں پہلے سے بھی زيادہ گہری ہوتی دکھائی دے رہی تھیں۔ وائرسز کو سیاسی پارٹیوں کی بیان بازیوں، ملکی سرحدوں، لوگوں کے بینک بیلنس، کسی بھی چیز سے غرض نہيں ہے۔ انہیں صرف پھیلنے سے مطلب ہے، اور شاید ہی کوئی وائرس ہوگا جو یہ کام کرونا سے بہتر کرتا ہو۔

میں نے جب اپنے دوستوں کو بتایا کہ میں جنوب مشرقی ایشیاء جانے والا ہوں تو ان کا خیال تھا کہ مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹ لیا ہے۔ لیکن اس وقت امریکہ اور یورپ میں جو ہورہا ہے، اسے دیکھ کر مجھے بہت صدمہ تو پہنچا ہے، لیکن ساتھ یہ بھی احساس ہو رہا ہے کہ شاید میں نے یہاں آکر صحیح قدم اٹھایا ہے۔

تحریر: سپینسر ویلز (Spencer Wells)

Read in English

Authors

*

Top