Global Editions

فیس بک کی کرپٹوکرنسی کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟

نام: مورگن بیلر (Morgan Beller)

عمر: 27 سال

ادارہ: نووی (Novi)

جائے پیدائش: امریکہ

2017ء میں جب مورگن بیلر فیس بک کی کارپوریٹ ڈیولمپنٹ ٹیم میں کام کررہی تھیں، انہوں نے اپنے سپروائزر سے ایک ایسا کام کرنے کی اجازت مانگی جو اس وقت ان کی کمپنی میں کوئی بھی نہيں کررہا تھا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ فیس بک ڈیجٹل کرنسی کی مارکیٹ میں کس طرح اترسکتی تھی۔

بیلر کو فیس بک میں ملازمت اختیار کیے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا، اور ان کی اس کمپنی میں ابتدائی تربیت بھی مکمل نہيں ہوئی تھی۔ تاہم انہیں ایک وینچر کیپٹل کمپنی کا تجربہ حاصل تھا، جہاں انہوں نے کرپٹوکرنسی کی سرمایہ کاریوں پر کام کیا تھا۔ انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ عالمی مالی کمیونٹی میں ایک انقلاب آنے والا تھا۔

انہيں جلد احساس ہوگیا کہ فیس بک میں کوئی بھی شخص بلاک چین پر کام نہيں کررہا تھا۔ اسی لیے بیلر نے اس کام کی ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا اور انہی کی کوششوں سے فیس بک کا اوپن سورس بلاک چین انفراسٹرکچر لبرا (Libra) اور اس کا ڈیجیٹل والٹ نووی (Novi) متعارف ہوا۔ آج بیلر نووی کی سٹریٹجی کے ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی کررہی ہیں اور ڈیجٹل کرنسی کے ڈیولپرز کے ساتھ کام کررہی ہيں۔

جب فیس بک نے لبرا متعارف کرنے کا اعلان کیا تو فیس بک اور اس کے بانی مارک زکربرگ کو بہت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بیلر کو اس بات سے زيادہ حیرت نہيں ہوئی۔ وہ کہتی ہيں کہ ”ہم سسٹم تبدیل کرنا چاہتے ہيں اور ایسے کئی لوگ ہیں جنہیں موجودہ نظام سے بہت فائدہ ہوتا ہے اور وہ اسے تبدیل نہيں کرنا چاہتے۔“

لبرا ابھی پوری طرح متعارف نہيں ہوا ہے، لیکن زکربرگ کے اعلان کے نتیجے میں چین سمیت متعدد ممالک نے اپنی قومی ڈیجٹل کرنسیوں پر کام شروع کردیا ہے۔ لبرا ایسوسی ایشن نے حال ہی میں لبرا کے پیمانے کو کم کرنے اور ایک ایسا سکہ متعارف کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے پیچھے ایک مقامی کرنسی ہے۔ لیکن ان ترامیم کے باوجود بھی اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ لبرا کے باعث مارکیٹ میں انقلاب ضرور آیا ہے۔

تحریر: کیتھرن مائلز (Kathryn Miles)

Read in English

Authors

*

Top