Global Editions

سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا مقابلہ کرنے کے لیے الگارتھم اور مصنوعی ذہانت کا استعمال

نام: ریڈائیٹ ابیبی (Rediet Abebe)
عمر: 28 سال
ادارہ: کورنیل یونیورسٹی (Cornell University)
جائے پیدائش: ایتھوپیا

ریڈائیٹ ابیبی الگارتھمز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے پسماندہ طبقوں کی مختلف مواقع تک رسائی کو بہتر بنا رہی ہیں۔ جب وہ اپنے آبائی ملک ایتھوپیا سے امریکہ ہارورڈ کالج میں تعلیم حاصل کرنے آئیں تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ دنیا کی سب سے امیر قوم میں بھی اہم وسائل اکثر کمزور لوگوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ وہ اب سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے کمپیوٹیشنل(computational)  تراکیب کا استعمال کر رہی ہیں۔

جب ابیبی مائیکروسافٹ میں ایک انٹرن کی حیثیت سے کام کر رہی تھیں تو انہوں نے ایک مصنوعی ذہانت کا منصوبہ تشکیل دیا جو سرچ کیوریز (search queries) کا تجزیہ کرتے ہوئے افریقہ میں لوگوں کی صحت کی معلومات کی ان ضروریات کی نشاندہی کی جنہيں پورا نہيں کیا جارہا تھا۔ ان کی تحقیق کے نتیجے میں ان آبادیاتی گروپس کی نشاندہی ہوئی جو ایچ آئی وی (HIV) کے قدرتی علاج میں ممکنہ طور پر دلچسپی رکھتے ہوں اور ان ممالک کو اجاگر کیا گیا جس کے باشندے ایچ آئی وی/ایڈز (HIV/AIDS) کی بدنامی اور امتیاز کے بارے میں خاص طور پر فکر مند ہیں۔ یہ پہلا کام ہے جس نے بڑے ویب بیسڈ ڈیٹا (web-based data) کو استعمال کرتے ہوئے تمام 54 افریقی ملکوں میں صحت کے حالات کا جائزہ لیا۔

صحت کی پروگرامنگ کی آگاہی بڑھانے کی کوشش میں ابیبی اب پورے برِ اعظم کی صحت کی وزارتوں میں موجود ماہرین کے پاس یہ نتائج لے کر جا رہی ہیں۔ وہ نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھس ایڈوائزری کمیٹی (National Institutes of Health’s Advisory Committee) کے ساتھ مل کر امریکہ میں صحت کے عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے بھی مدد فراہم کر رہی ہیں۔

اس کام میں توسیع کے لیے انہوں نے میکینیزم ڈیزائنر فار سوشل گڈ (Mechanism Design for Social Good) کی بنیاد رکھی ہے جو ایک ایسا کثیر ادارہ جاتی تحقیق کا منصوبہ ہے جو الگارتھمز کی مدد سے کم آمدنی والی رہائش کو مختص کرنے سے لے کر صحت کے نتائج کو بہتر بنانے تک کئی مختلف مسائل سے نمٹتا ہے۔

تحریر: اریکا بیراس (Erika Beras)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top