Global Editions

اب وقت آگيا ہے کہ مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے بہتر کمپیوٹر بنائے جائیں

نام: ازالیا میرحسینی (Azalia Mirhoseini)
عمر: 32 سال
ادارہ: گوگل برین (Google Brain)
جائے پیدائش: ایران

گوگل برین کی تحقیقی سائنسدان ازالیا میرحسینی مصنوعی ذہانت کو اسی کی بہتر مائیکروچپس بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

مصنوعی ذہانت میں استعمال کی جانے والی کئی مائیکروچپس دراصل ان کیلیے خاص طور پر نہیں بنائی گئی۔ ان میں سے زیادہ تر مائیکروچپس کو ویڈیو اور گیمنگ کے ہارڈ ویئر میں سے نکال کر دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ پرانے انسانوں کے تیارکردہ نمونے توانائی کی کارکردگی، لاگت، اور فعالیت کے لحاظ سے غیر تسلی بخش ثابت ہوتے ہیں۔

میرحسینی کا سسٹم، جس نے خود کو ری اینفارسمنٹ لرننگ کے تصور کے تحت غلطیاں کرکے سکھایا ہے، صرف چند ہی گھنٹوں میں مائیکروچپس کے ڈیزائنز تیار کرسکتا ہے۔ (دنیا کے نامور ماہرین کو بھی کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں۔) ان کے مصنوعی ذہانت پر مشتمل طریقوں کی بدولت ایسی مائیکروچپس بن سکتی ہیں جو انجینئرز کی بنائے ہوئے نمونوں جتنی اچھی یا ان سے بہتر ثابت ہوتی ہیں۔ یہ ان سے زیادہ تیز ہیں، ان کی توانائی کی کارکردگی بھی بہتر ہے، اور ان کی اندرونی تار کی کل لمبائی بہت کم ہونے کی وجہ سے ان کی لاگت بھی کم ہوجاتی ہے۔

ری انفورسمنٹ لرننگ مصنوعی ذہانت کی ایک امید افزا کوشش ہے۔ جو سافٹ ویئر ان کا استعمال کرتے ہیں وہ بنیادی طور پر اپنے آپ کو ایک کام کو پورا کرنا سکھا دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ ایک انسان تَدریجاً ان کو پروگرام کرے۔ میرحسینی کہتی ہیں کہ ”اب وقت آگيا ہے کہ مشین لرننگ اور مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے بہتر کمپیوٹر بنائے جائیں۔”

تحریر: رس جوسکالیان (Russ Juskalian)
مترجم: ماہم مقصود

Read in English

Authors

*

Top