Global Editions

تخلیق کاری میں استعمال کیے جانے والے نئے مرکبات کے لیے اینزائمز کی ترمیم جاری

نام: کرسٹینا بوول (Christina Boville)

عمر: 32 سال

ادارہ: ایرالیز بائیو (Aralez Bio)

جائے پیدائش: امریکہ

کرسٹینا بوول نے ایک ایسا پراسیس تیار کیا ہے جس سے کیمیائی ردعمل پر قابو پانے کے قدرتی طریقوں کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ وہ قدرتی ایننزائمز (یعنی زندہ سیلز میں کیمیائی ردعمل کو ممکن بنانے والے پروٹینز) میں ترمیم کرکے ایسے مفید کیمیائی مواد تیار کرتی ہیں جو قدرتی طور پر موجود نہیں ہوتے۔ اس سے دواسازی کی صنعت میں تخلیق کاری کی میعاد کئی مہینوں سے محض کچھ دن تک ہوسکتی ہے، اور فضلے میں 99 فیصد تک اور توانائی کے استعمال میں 50 فیصد کمی ممکن ہے۔

2019ء میں بوول نے ڈیوڈ رومنی (David Romney) اور فرانسس آرنلڈ (Frances Arnold) (جنہوں نے 2018ء میں اینزائمز پیدا کرنے کا نیا طریقہ ایجاد کیا تھا) کے ساتھ ایرالیز بائیو نامی کمپنی قائم کی۔ بوول کی ایجاد کی بدولت زراعت کے علاوہ مائیگرین اور ذیابیطس سمیت متعدد امراض کی 12 فیصد ادویات میں استعمال ہونے والے کیمیائی مواد پیدا ہوتے ہيں، جنہيں نان کینونیکل امائنو ایسڈز (non-canonical amino acids – ncAA) کہا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”قدرت 20 امائنو ایسڈز کی بنیاد پر کھڑی تھی اور ہمارے اینزائمز کی مدد سے سینکڑوں امینو ایسڈز تیار کیے جاسکتے ہیں۔ عام طور پر ادویات کے اجزاء بنانے میں پانچ سے 10 مراحل لگتے ہيں، لیکن ہم صرف ایک ہی مرحلے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔“

حال ہی میں ایک دوا ساز کمپنی نے ایسے ncAAs بنانے کے سلسلے میں ایرالیز بائیو سے رابطہ کیا جسے عام طور پر بنانے میں نو مہینے لگتے ہیں۔ بوول کے اینزائمز کی مدد سے یہی مرکب اب صرف چند گھنٹوں میں تیار کیا جاسکتا ہے۔

تحریر: رس جسکیلیئن (Russ Juskalian)

Read in English

Authors

*

Top