Global Editions

انٹرنیٹ پر ریاستی پابندی کو شکست دینے کی موجد

نام: شہر بانو
عمر: 31
ادارہ: یونیورسٹی کالج لندن

شہر بانو انٹرنیٹ پر ریاستی سنسر شپ کا منظم انداز میں مطالعہ کرنےکی بانی ہیں ۔ انہوں نے ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ریاستی سنسر شپ کو مات دی ۔انہوں نے یہ کام تب شروع کیا جب ان کے آبائی وطن پاکستان نے 2012میں یوٹیوب کو بلاک کر دیا۔انہوں نے ان پابندیوں پر اپنی اندرونی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا ،”پہلے لوگوں کو خیال تھا کہ یہ جادو تھا۔” لیکن وہ ان پابندیوں کو سمجھنا چاہتی تھی اور انہیں شکست دینا چاہتا تھی۔

لہٰذا بانو نے پاکستان سے تین سال کے آئی ایس پی کے ڈیٹا کی تحقیقات کیں ۔ان تجربات اور تحقیقات کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ نسبتاً مختلف قسم کی بنیادی تکنیکی پابندیاں تھیں جیسے سینسر ایک خاص ویب سائٹ کو لوڈ کرنے کے لئے درخواست دیتے ہیں اور پھر درخواست ختم کرنے کے لئے ویب سائٹ کے سرورز اور سرفر کے براؤزر دونوں کو سگنل بھیجتے ہیں۔ اس چیزکو سمجھتے ہوئےانہوں نے انکرپشن کو استعمال کیے بغیر اپنی ڈیوائس کو پابندیوں کو طرف بھیج دیا جیسا کہ جعلی درخواستیں بھیجنا جو سینسر دیکھتا تھالیکن غلط سپیلنگ کی وجہ سے نظر انداز کر دیتا تھا۔ اس عمل کے ذریعے اصلی درخواست بھی سلپ ہو جاتی تھی۔

بانو نے نہ صرف آن لائن سینسر شپ کا تجزیہ کیا؛ اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ سیکورٹی سافٹ ویئر جیسے ٹور اور اشتہار بلاک کرنے والے بھی غیرسرفرز سے چلتے ہیں چاہے اس کا تجربہ بدترین صارف کے طور پر ہو یاایک براہ راست پابندی کی صورت میں۔

بانو آن لائن کمونیکیشن کی آزادی کی حفاظت کے لئے کمپیوٹر سائنسدانوں کی ایک لہر میں شامل ہو گئی ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن میں ایک پوسٹ ڈاکٹر کےطور پر وہ شفافیت اور آن لائن سیکورٹی بہتر بنانے کے لئے بلاک چین پربنائے گئے نظام پر کام کر رہی ہیں۔

تحریر: رس جسکالین (Russ Juskalian)

Read in English

Authors

*

Top