Global Editions

اندھے پن کے علاج کے لئے مواد تیار کرنے والی طالبعلم

نام: نکی بیات
عمر: 32
ادارہ: یونیورسٹی آف سائوتھ کیلفورنیا

انہوں نےایسامواد ایجاد کیا جو زخموں کو سیل کرکے آنکھوں کو شفا دے سکتا ہے۔

نکی ایران میں پلی بڑھی۔انہوں نے ہمیشہ انجینئرنگ میں اپنے رحجان کو بیماریوں سے متاثرہ لوگوں کے لئے استعمال کرنا چاہا۔ یہ رحجان خاص طور پر ان میں اس وقت زیادہ ہوا جب ان کے والد صاحب کو آنکھوں کی بیماری لاحق ہوئی اور وہ صحت کے دوسرےمسائل کی وجہ سے آنکھ کی سرجری نہیں کر اسکے۔ انہوں نے ایران بھر میں ہونیوالے انٹری ٹیسٹ میں آٹھویں پوزیشن لی اور انہوں نے ملک کی اعلیٰ یونیورسٹی میں کیمیکل انجئنیرنگ کی۔ پھر انہوں نے گریجویٹ اسکول کے لئے یونیورسٹی آف سائوتھ کیلیفورنیا میں داخلہ لیا اور مشہور کیمسٹ مارک تھامسن اور مارک ہمایوں کی لیبز کو جوائن کیا جنہوں نے پہلا مصنوعی ریٹینا تیار کیا۔ انہوں نے کہا، "میں نے انہیں قائل کیا کہ میں پولیمر کیمسٹری اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ کے درمیان فرق کو ختم کر سکتی ہوں۔"
اس نے ایسا ہی کیا اور اپنی کیمیکل انجنیئرنگ کی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ایسا مواد تیار کیاجس نے تکلیف زدہ آنکھوں کے زخموں کے علاج میں مدد کی۔ نکی بیات نے ایسے پولیمر تیار کیے جن کو ہائیڈروجیل کہتے ہیں۔یہ باڈی ٹمپریچر پر گلیو کی طرح انتہائی چپکنے والے ہوتے ہیں۔آنکھوں میں زخم کی صورت میں وہ متاثرہ جگہ پر لگائے جا سکتے ہیں اور وہ زخم کو مندمل کرکے اندھے پن سے بچا سکتے ہیں۔

پھر ایک ہسپتال میں ایک سرجن ایک نمکین پانی سے یہ مواد ہٹا لیتا ہے اور زخم کو ٹھیک کر دیتا ہے۔

بیات نے اس مواد کے ایسے ورژنز بھی تیار کیے ہیں جو اندھے پن کی دوائی یا اینٹی بائیوٹیکس کو کنڑول انداز میں خارج کرتے ہیں۔

2016 میں انہوں نے اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری کے دوران اس دوائی کو کمرشل بنیادوں پر لانچ کرنے کے لئے ایسکولا ٹیک (Aescula Tech) کمپنی بنائی۔ ان کی بنائی ہوئی دوائی مریض کو دن میں کئی بارآنکھوں میں قطرے ڈالنے سے بچاتی ہے۔ اس دوا کے نئے ورژنز متعارف کرانے سے پہلے ایسکولا ٹیک خشک آنکھوں کے علاج کے لئے پہلے پولیمر آلات کی منظوری لینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا حتمی مقصد اندھے پن کے علاج کے لئے نئے اور بہتر علاج کے ساتھ آنا ہے۔

تحریر: کیتھرین بورزیک (Katherine Bourzac)

Authors
Top