Global Editions

کم قیمت والے لیزر سےجین ایڈیٹنگ

نام: نبیہا ثقلین
عمر: 28
ادارہ: سیلینو بائیوٹیک

انہوں نے سستےلیزرز کے ساتھ جین میں ترمیم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا

جین میں ترمیم کی پروگرامنگ کو بہتر بنانے میں بے شمار اہمیت کی حامل ہےجیسا کہ بیمار سیل انیمیا کا سبب بنےوالے خلیوں کو ٹھیک کرنا۔ لیکن ماہرین حیاتیات کو ڈی این اے اور دوسرے اجزاء کو خلیات میں لانے کے لئے بہتری کی ضرورت ہے۔ عام طور پر جین میں ایڈیٹنگ وائرس کے ذریعےمتعارف کرائی جاتی ہے جس کے خطرناک اثرات ہوسکتے ہیں یا الیکٹروپوریشن( electroporation )کے عمل سے لائی جا سکتی ہے۔الیکٹروپوریشن ایک ایسی تکنیک ہےجس میں طاقتور برقی شعاعیں استعمال ہوتی ہیں جس سے کئی خلیات اس عمل کے دوران مر جاتے ہیں۔

لیزر ایک اچھے متبادل کے طور پر پیش ہوتےہیں لیکن دوسرے طریقوں کے اپنے مسائل ہیں۔ عام طوپر استعمال ہونے والے لیزرز بہت طاقتور اور مہنگے ہیں اور کلینیکل حوالے سے کافی سست ہیں کیونکہ یہ ایک وقت میں ایک خلیہ داخل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

نبیہا نے لیزر کے نظام کے ساتھ کچھ اضافی نینو سٹرکچر لگائے جس سے یہ ایک وقت میں ایک سے زائد ترمیم شدہ خلیات داخل کرنے کے قابل ہو گیا۔اس عمل میں مہنگےلیزر کی ضرورت نہیں ہے اگرچہ ان کواپنے دوسرے ساتھی محققین اور ایڈوائزرز کو قائل کرنے کے کچھ وقت لگا کہ نسبتاً سستے لیزرکافی طاقتور تھے۔ وہ کہتی ہیں ،"خلیات کو اس سے فرق نہیں پڑتا کہ لیزر مہنگے ہوں۔"

ثقلین نے اب اپنی ایجاد کو کمرشل بنیادوں پر متعارف کرانے کے لئے کمپنی سیلینوبائیوٹیک بنائی ہے اورخلیات میں جین ایڈیٹنگ اوزار استعمال کر رہی ہیں۔
انہوں نے ایک ماہر طبعیات کے طور پر تربیت حاصل کی ہے اور وہ غیر معمولی طور پر سائنس کے مختلف شعبوں بشمول لیزر طبیعیات، نینو میٹریلز اور مصنوعی حیاتیات میں آرام دہ محسوس کرتی ہیں۔ وہ سعودی عرب، بنگلہ دیش، جرمنی، اور سری لنکا میں مقیم پذیر رہتی ہیں۔وہ کہتی ہیں، "میں نئی جگہوں اور نئے شعبوں میں پرسکون ہوں"۔

تحریر: کیتھرین بورزیک (Katherine Bourzac)

Read in English

Authors
Top