Global Editions

ڈارک میٹر کی کھوج

انٹارکٹکا میں واقع امنڈسن سکاٹ ساؤتھ پول سٹیشن کی آئس کیوب لیب میں خام ڈیٹا حاصل کرنے والے کمپیوٹرز رکھے گئے ہیں۔ سیٹلائٹ کی بینڈوڈتھ کی تقسیم کے باعث اس لیب میں تشکیل نو اور ایونٹ کی فلٹرنگ تقریبا ًریئل ٹائم میں ہوتی ہے۔ یو ڈبلیو میڈیسن کے پاس صرف وہی ایوینٹس بھجوائے جاتے ہیں جنہیں فزکس کے مطالعے کے اعتبار سے دلچسپ تصور کیا جاتا ہے، اور یہاں آئس کیوب کی شراکت کا کوئی ایک رکن انہيں استعمال کے لیے تیار کرتا ہے۔
اس کوشش میں نمایاں کردار ادا کرنے والی ٹیم میں شامل ایک پاکستانی محقق کائنات کے خفیہ ترین راز فاش کرنے کی مہم پر روشنی ڈالتے ہوئے۔

میکسیکو کی ریاست پوئبلا میں آبادی سے کئی میل دور واقع سیرا نیگرا (Sierra Negra) نامی بنجر آتش فشاں کا شمار میکسیکو کی بلند ترین چوٹیوں میں ہوتا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کو اس پہاڑ سے زيادہ اس کے قریب قائم کی جانے والی ہائی آلٹیٹیڈ واٹر چیرنکو آبزرویٹری (High Altitude Water Cherenkov Observatory – HAWC) میں دلچسپی ہے۔

سطح سمندر سے 4,100 میٹر کی بلندی پر واقع اس آبزوریٹری میں آپ کو اکثر امریکہ، یورپ اور میکسکو کے نمایاں ترین تعلیمی اداروں سے وابستہ سائندسان سٹیل کی 300 ٹینکیوں کے گرد کھڑے نظر آئيں گے۔ دیکھنے میں تو یہ ٹینکیاں بے ہنگم اور معمولی سی لگتی ہيں، لیکن درحقیقت یہ سائنسی تحقیق میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہيں۔

ان ٹینکیوں میں دو لاکھ کے قریب لیٹر پانی موجود ہے جس میں الٹراوائلٹ ویو لینتھزسے حساسیت رکھنے والے چار روشنی کے سینسرز نصب کیے گئے ہيں۔ جب بھی کوئی گیما شعاع (gamma ray) زمین کے کرہ ہوا سے گزرتی ہے تو ہوا میں چارج رکھنے والے ذرات پیدا ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں بننے والی روشنی سے پانی کی ان ٹینکیوں میں نصب سینسرز فعال ہوجاتے ہيں۔ گیما شعاعوں کے پیچھے کئی وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسے کہ سپرنووا (supernova)، کہکشاؤں کے مراکز، بلیک ہولز (black holes) یا ستاروں کے انضمام، اوران سینسرز کی مدد سے سائنسدان ان شعاعوں کی سمت اور شدت متعین کرنے کے بعد ان کے ذرائع کی تصویرکشی کرنے کی کوشش کرتے ہيں۔ اس طرح HAWC اعلیٰ توانائی استعمال کرنے والی دوربین کی طرح کام کرتی ہے جس میں 24 گھنٹوں میں آسمان کے دو تہائی حصے پر نظر رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔

HAWC کا شمار ان آبزرویٹریز میں ہوتا ہے جو ڈارک میٹر کی کھوج کو آگے بڑھانے کی کوششیں کررہی ہيں۔ سائنسدانوں نے ان ذرات کی تلاش میں دنیا کے دور دراز علاقوں کی خاک چھان لی ہے لیکن کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی ان کی نشاندہی نہيں ہوسکی ہے۔ 1930ء کی دہائی میں کہکشاؤں کے ایک مجموعے کے مشاہدے کے دوران کچھ سائنسدانوں کو پہلی دفعہ شک ہوا تھا کہ ان کے ماڈلز میں کسی چیز کی کمی ہے،لیکن اس وقت سائنسی برادری نے ان کے شبہات کو زیادہ اہمیت نہيں دی۔ ان کی رائے 1970ء کی دہائی میں ماہر فلکیت ویرا ریوبن (Vera Rubin) کے انکشافات سامنے آنے کے بعد تبدیل ہونا شروع ہوئی جن کے مطابق کہکشاؤں کے مراکز سے دور واقع ستاروں کی رفتار فلکیاتی فزکس کے قائم شدہ ماڈلز کے نتائج سے کہیں زیادہ تھی۔ اس کی پیچھے صرف کوئی ایسی کشش ثقل ہوسکتی تھی جس کے زور سے ان ستاروں کی رفتار متاثر ہورہی تھی۔ آگے چل کر اس کشش کا نام ڈارک میٹر پڑ گيا۔

تصویر: آئس کیوب شراکت

وقت کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کی ڈارک میٹر میں دلچسپی بڑھتی گئی اور انہيں پوری کائنات میں اس کے مزید ثبوت ملتے گئے۔ مثال کے طور پر، انہوں نے دیکھا کہ کہکشاؤں کے مجموعے یا اس جیسے کسی دوسری بڑی شے سے گزرنے کے دوران روشنی کا رخ تبدیل ہوجاتا۔ اس شے کا دوسری طرف سے مشاہدہ کرنے والوں کو روشنی کے ذرائع کی شکل یا حجم میں تبدیلی نظر آتی۔ اگر اس روشنی کی راہ میں صرف عام قسم کا تابان مادہ ہوتا تو اس میں کسی قسم کی تبدیلی نظر نہ آتی۔ سائنسدانوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ روشنی کے رخ میں اس تبدیلی کے پیچھے ڈارک میٹر کا ہاتھ ہے۔

وہ کونسی چیز ہے جو پوری کائنات کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے؟ وہ کونسی طاقت ہے جو مادے کو تبدیل کیے بغیر اس میں سے گزر جاتی ہے لیکن جس کی کشش ثقل اتنی زیادہ ہے کہ اس سے روشنی بلکہ پوری کہکشاؤں کا رخ تبدیل ہوجاتا ہے؟ سائنسدان کئی دہائیوں سے اس معمے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہيں لیکن اب تک پوری طرح کامیاب نہیں ہوپائے ہیں۔

ڈاکٹر مہرالنساء انہی سائنسدانوں میں سے ایک ہیں جو اس وقت مشیگن سٹیٹ یونیورسٹی سے آسٹروفزکل نیوٹرینوز (astrophysical neutrinos) اور گیما شعاوں میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کی تحقیق مکمل کررہی ہيں۔ جب وہ پہلی دفعہ HAWC میں کام کرنے کے لیے میکسیکو روانہ ہوئيں، اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکہ کے صدر منتخب ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’’میکسیکو جانے سے میرا ذہن انتخابات کے نتائج سے ہٹ گیا۔ HAWC بہت خوبصورت بلکہ بہت شاندار ہے۔‘‘

مہر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کی مہاجرین کے خلاف پالیسیوں کے باعث خاصی پریشان تھیں۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئيں اور پلی بڑھیں۔ انہوں نے لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (Lahore University of Management Sciences – LUMS) سے فزکس میں انڈرگریجویٹ ڈگری حاصل کی، جس کے دوران انہيں پہلی دفعہ جنرل ریلیٹیوٹی (general relativity) کے متعلق علم ہوا اور ان کی کائنات میں دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ بعد میں وہ یونیورسٹی آف راچیسٹر سے فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے امریکہ چلی گئيں۔ مہر کوHAWC جا کر تحقیق کرنے میں جتنی خوشی محسوس ہورہی تھی اتنا ہی امریکہ کے سیاسی حالات دیکھ کر ڈر بھی لگ رہا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’’ایک طرف تو میں یہ سوچ رہی تھی کہ کیا میں واپس امریکہ جا پاؤں گی؟ لیکن دوسری طرف مجھے پانی کی ان ٹینکیوں میں روشنی دیکھ کر آسمان کی تصویرکشی کرنے کا پہلا موقع بھی مل رہا تھا جسے میں گنوانا نہيں چاہتی تھی۔‘‘

جلتی بجھتی یہ روشنی مہر کی تحقیق میں بہت اہم کردار کرتی ہے۔ ان کا کام خلاء سے زمین پر اترنے والے نامعلوم ذرات کا مطالعہ کرکے ان کے ذرائع کی نشاندہی کرنا ہے۔ ڈارک میٹر کے ذرات کا مشاہدہ کرنا ممکن نہيں ہے۔ نہ تو وہ روشنی پیدا کرتی ہيں اور نہ ہی دوسرے ذرات کے ساتھ ٹکرانے کے بعد کسی قسم کے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ تاہم وہ ٹوٹ کر گیما شعاعوں، کائناتی شعاعوں یا نیٹرینوز جیسے معیاری ماڈل کے ذرات پیدا کرسکتے ہیں۔ جب یہ ذرات پانی جیسے میڈیم میں روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے گزرتے ہیں تو زیرآب جوہری ری ایکٹرز کی روشنی کی طرح ایک نیلی روشنی پیدا ہوتی ہے جسے چیرنکوو ریڈیشن (Cherenkov Radiation) کہا جاتا ہے۔  HAWC کے سینسرز میں گیما اور کائناتی شعاعوں کی بوچھاڑ کے باعث یہی روشنی نظر آتی ہے۔

مہر کہتی ہیں کہ ’’ہم ڈارک میٹر کے ان ذرات کے تمام نشانات تلاش کررہے ہیں لیکن ہمیں اس وقت صحیح سے معلوم نہيں ہے کہ ہمیں کس چیز کی تلاش ہے۔ لہٰذا ہم صرف ممکن چیزوں کی فہرست کو چھانٹتے ہیں یا معلوم شدہ چیزوں کو محدود کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ڈارک میٹر پروٹون کراس سیکشن (dark matter-proton cross-section) کو محدود کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس کے ذریعے ہم متعین کرسکتے ہيں کہ ڈارک میٹر پروٹونز پر مشتمل عام مواد کے ساتھ کس شدت سے ردعمل کرتا ہے۔‘‘

ڈارک میٹر کا پروٹونز کے ساتھ ردعمل کمزور بھی ہے اور نایاب بھی۔ اس لیے محققین کو اس ردعمل کی نشاندہی کے لیے وافر مقدار میں پروٹونز کی ضرورت پیش آئے گی۔

مہر بتاتی ہیں کہ ’’زمین پر اس قسم کا سیٹ اپ لگانا بہت مہنگا ثابت ہوگا۔ اس لیے سائنسدانوں کو سورج پر تجربات کرنے کا خیال آیا۔ یہاں ڈھیروں پروٹونز  موجود ہیں۔‘‘

ماضی کے دوسرے سائنسدانوں کی طرح مہر اور ان کے رفقاء کار نے سورج کے مرکز میں ڈارک میٹر کے حصول پر غور کرنا شروع کیا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو نیوٹرینوز اور گیما شعاعوں جیسے ثانوی ذرات کی تشکیل اور خاتمے کا عمل سورج کے مرکز میں ہی ہوتا۔ اور اگر یہ ذرات سورج کے کرہ ہوا سے خارج ہونے میں کامیاب ہوجاتے تو زمین پر موصول ہونے والے سگنل کے ذریعے سورج میں موجود پروٹونز کے ساتھ ڈارک میٹر کے ردعمل کی شدت کا اندازہ لگانا ممکن ہوجاتا۔

کا ڈیجیٹل منظر کشی DOM آئس کیوب کے

تاہم سورج کی سطح سے فرار ہونے والے ذرات کی وجہ سے معاملات مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ نظام شمسی کے مرکز میں واقع اس ستارے کا کرہ ہوا اس قدر متحرک اور گاڑھا ہے کہ مرکز سے خارج ہونے والی گیما شعاعیں جلد ہی جذب ہوجاتی ہیں یا بجھ جاتی ہیں۔ ماہرطبیعیات نے اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈارک میٹر کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی ماڈل تیار کیا ہے۔

مہر کہتی ہيں کہ ’’ہم جس ماڈل کو دیکھ رہے ہيں اس کے مطابق ڈارک میٹر تباہ ہونے کے بعد طویل العمر میڈی ایٹرز (mediators) کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ میڈی ایٹرز کا شمار بھی اندھیرے علاقوں کے ذرات میں ہوتا ہے جن کا مشاہدہ کرنا ممکن نہیں ہے۔‘‘ ڈارک میٹر کی تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے میڈی ایٹرز کو بجھنے میں وقت لگتا ہے اور  وہ سورج کی سطح سے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہيں۔ اس کے بعد ان میڈی ایٹرز کے خراب ہونے کے نتیجے میں گیما شعاعیں پیدا ہوتی ہیں جو زمین تک پہنچتی ہيں۔

HAWC ان گیما شعاعوں کی نشاندہی کرسکتا ہے لیکن اس میں نیوٹرینوز کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت موجود نہيں ہے۔ مہر نے اپنا پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد قطب جنوبی میں واقع آئیس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری (IceCube Neutrino Observatory) سے حاصل کردہ  ڈیٹا کی مدد سے ایسٹروفزیکل نیوٹرینوز کی تحقیق شروع کی۔ یہ آبزرویٹری بھی انجنیئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔ آئس کیوب کی ٹیم نے پہلے انٹارکٹکا کی برفانی زمین میں ابلتا ہوا پانی استعمال کرنے والے تیز دباؤ کے پائپس کی مدد سے ڈھائی کلومیٹر کی گہرائی رکھنے والے 80 سوراخ کیے۔ اس کے بعد برف دوبارہ جمنے سے پہلے ان سوراخوں میں گول آپٹیکل سینسرز ڈال دیے گئے۔ مستحکم ہونے کے بعد یہ سینسرز مستقل طور پر جم گئے اور ڈارک میٹر سمیت کئی مختلف ذرائع سے نیوٹرینوز کی نشاندہی کے لیے تیار تھے۔

HAWC کی پانی کی ٹینکیوں میں نصب سینسرز کی طرح قطب جنوبی میں واقع سینسرز بھی نیوٹرینو کے برف کے ساتھ ردعمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ثانوی ذرات کی چیرنکوو ریڈیشن کی نشاندہی کرسکتے ہيں۔ پانی اور برف کی انعطافی (refractory) خصوصیات اور شفافیت کے باعث وہ نیوٹرینوز اور کائناتی شعاعوں (cosmic rays) کی نشاندہی کے لیے نہایت موزوں ثابت ہوتے ہیں۔

مہر اور ان کی ٹیم HAWC اور آئس کیوب سے حاصل کردہ ڈیٹا کی مدد سے ایسے ہیڈرونک (hadronic)پراسیسز کا مشاہدہ کرسکتے ہیں جن سے نیوٹرینوز اور گیما شعاعیں دونوں ہی پیدا ہوتی ہوں۔ ایک ہی ذریعے سے حاصل کردہ دونوں ثانوی ذرات کی تلاش کامیاب ہونے کی صورت میں ان کے لیے انہيں کائنات کے پراسرار ترین اشیاء کی نشاندہی کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ ہر نئے مشاہدے کے بعد یہ ٹیمیں اپنی پابندیوں کو مزيد سخت کرتی ہیں جس سے ان کے لیے یہ معلوم کرنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے کہ کونسی چیزوں کو ڈارک میٹر کا نام نہيں دیا جاسکتا۔

دنیا بھر میں ڈارک میٹر کی کوششوں کو تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

پہلے زمرے کو بلاواسطہ نشاندہی (direct detection) کہا جاتا ہے۔ اس تکنیک میں ڈارک میٹر میں شامل ویکلی انٹرایکٹنگ میسیو پارٹیکلز (Weakly Interacting Massive Particles – WIMPs) نامی فرضی ذرات اور ایٹم کے مراکز کے درمیان موجود سگنلز کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تجربات زمین کی گہرائیوں میں منعقد کیے جاتے ہيں۔

دوسرے زمرے، یعنی بالواسطہ نشاندہی (indirect detection) میں مہر اور ان کی ٹیم کے تجربات شامل ہیں جن میں ڈارک میٹر کی تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جانے پہچانے ذرات، جیسے کہ نیوٹرینوز اور گیما شعاعوں، کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔

آخری طریقہ کا استعمال سوئیٹزرلینڈ میں واقع سرن (CERN) میں کیا جارہا ہے۔ یہاں موجود لارج ہیڈرن کولائيڈر (Large Hadron

Collider -LHC) کے ذرات کے ایکسلریٹر (particle accelerator) میں اعلیٰ توانائی کے تصادم کے ذریعے ڈارک میٹر کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مشین میں 26.7 کلومیٹر لمبی سرنگوں پر پھیلی ہوئی ٹیوبز (tubes)میں اعلیٰ توانائی رکھنے والے ذرات پر مشتمل شہتیروں (beams) کو خلاء سے بھی کم درجہ حرارت میں ایک ویکوم (vacuum) میں ایک دوسرے کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ ایک طاقت ور مقناطیسی فیلڈ کے ذریعے ان شہتیروں کو سرنگوں میں اس وقت تک رہنمائی فراہم کی جاتی ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے نہيں ہیں۔ اس تصادم کے نتیجے میں ایک نیا اور زیادہ وزنی ذرہ پیدا ہوتا ہے جس کی ڈیٹیکٹرز (detectors) کے ذریعے نشاندہی کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے ماہر طبیعیات توانائی اور رفتار میں کمی کی پیمائش کرتے ہيں۔

ان کوششوں کے باوجود اب تک ڈارک میٹر یا معیاری ماڈلز سے ہٹ کر کسی دوسرے ذرے کا کوئی ثبوت نہيں مل سکا ہے۔ تاہم سائنسدانوں کی کھوج جاری ہے اور مہر کو امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر معیار کا ڈیٹا حاصل کرنے کی وجہ سے ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور ان کے قدم چومے گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’’ہم اپنی تحقیق میں  تبخیری (evaporating) بلیک ہولز سے حاصل ہونے والے گیما شعاعوں یا کشش ثقل کی لہروں، گیما شعاعوں اور نیوٹرینوز کی مشترکہ نشاندہی جیسے نئے اور دلچسپ کرشمے تلاش کرتے ہیں۔ آئس کیوب نے اب تک خلائی نیوٹرینوز کے ایک ہی ذریعے کی تصدیق کی ہے۔ اگر ہم نیوٹرینوز کا ایک بھی ذریعہ معلوم کرنے میں کامیاب ہوجائيں تو ہم اسی سے خوش ہوجائیں گے۔‘‘

ڈاکٹر مہر النساء

مہر کو ڈارک میٹر سے متعارف کرنے کا سہرا یونیورسٹی آف روچیسٹر کے تجرباتی ماہر طبیعیات سیگیو بینزوی (Segev BenZvi) کے سر جاتا ہے۔ مہر کی پی ایچ ڈی کے پہلے سال کے دوران اس موضوع میں دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوئی، اور بعد میں بینزوی ان کے پی ایچ ڈی کے ایڈوائزر کی حیثیت سے انہیں رہنمائی فراہم کرنے لگے۔

مہر کی فزکس میں دلچسپی اس سے بھی زيادہ پرانی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’’بچپن میں میرے ہاتھ جو کتابیں لگتی تھیں میں انہیں بڑے شو‏ق سے  پڑھا کرتی تھی۔‘‘ سٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) کی کتاب A Brief History of Time اور کارل سیگن (Carl Sagan) کی کتاب  Cosmos نے ان کا شوق بڑھانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ہاکنگ کی کتاب پڑھنے کے بعد انہيں احساس ہوا کہ فزکس کے شعبے میں سکول میں رٹائے جانے والے فارمولوں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ افسوس کی بات یہ تھی کہ پاکستان میں خالص سائنس کی تعلیم کو زيادہ اہمیت نہيں دی جاتی ہے۔

مہر بتاتی ہیں کہ ’’جب میں نے اپنے والد صاحب کو اپنی فزکس میں ڈگری حاصل کرنے کی خواہش کے بارے میں بتایا تو وہ مجھ پر برس پڑے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں انجنیئرنگ یا میڈيسن پڑھوں۔ جب مجھے ایک ماسٹرز کے پروگرام میں داخلہ ملا اس وقت انہوں نے میرا ساتھ دینا شروع کیا۔‘‘

سیگن کی کتاب Cosmos پڑھنے کے بعد مہر نے ایک اور بہت اہم سبق سیکھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے اس کتاب میں پہلی دفعہ چوتھی صدی عیسوی کی قدیم مصری سائنسدان، ماہر فلکیات، اور ماہر ریاضی ہائپیشیا (Hypatia) کا نام سنا تھا۔ سیگن نے دنیا کے کئی مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے تاریخی سائنسدانوں کا ذکر کیا ہے اور بڑی تفصیل سے بتایا ہے کہ سائنس سے مختلف معاشروں کو کس طرح فائدہ پہنچا ہے۔ اس کتاب سے میری بہت حوصلہ افزائی ہوئی اور میں نے سیکھا کہ خالص سائنس پڑھنے کے لیے کسی مخصوص ثقافت سے تعلق رکھنا ضروری نہيں ہے۔‘‘

اس کے باوجود سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بحیثیت ایک عورت مہر کو خاصی مشکلات کا سامنا رہا۔ ان کا سب سے پہلا لیکچر سننے صرف چند سفید فام آدمی آئے تھے۔ اس ہال میں مہر کے علاوہ صرف ایک خاتون بیٹھی تھیں جو محض دوستی کے ناطے ان کا حوصلہ بڑھانے آئيں تھیں۔ مہر کو کبھی بھی اس سے زيادہ فرق نہيں پڑا، لیکن وہ یہ ضرور چاہتی ہیں کہ اس شعبے میں عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔ انہوں نے بہت کم خواتین کے ساتھ کام کیا ہے، لیکن جب بھی کام کیا ہے ان کی پیداواری میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ ان خواتین کی ہمدردی اور حوصلہ افزائی تھی جو تنقید کے دوران بھی جھلکتی تھی۔

تاہم عورتوں کی تعداد میں اضافے کی کوششوں کے جہاں کافی فوائد ہیں وہیں پر کچھ نقصانات بھی ہيں۔ ایک طرف تو اس سے اس شعبے میں ذہین عورتوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن دوسری طرف بعض لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ ان خواتین نے مثبت امتیاز سے فائدہ اٹھایا ہے۔

مہر کہتی ہیں کہ ’’بعض دفعہ لوگوں کی باتوں سے مجھے یہ لگتا ہے کہ ان کی نظر میں مجھے صرف عورت ہونے کی وجہ سے یہ نوکری ملی ہے۔ میں اسے اپنی توہین سمجھتی ہوں۔ وہ دن گئے جب سائنسدان صرف سرپھرے، سفید فام مرد ہوا کرتے تھے۔‘‘

مہر کہتی ہيں کہ ہر کسی نے ان کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ نومبر 2016ء میں جب انہوں نے HAWC کی پانی کی ٹینکیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر امریکہ میں ٹرمپ کی دیوار کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا تو ان کی پوری ٹیم نے ان کا بہت ساتھ دیا۔ اس وقت مہر کو کارل سیگن کے پیغام اور سائنس کی عالمی اور مجموعی نوعیت کا عملی ثبوت مل گيا۔

وہ کہتی ہيں کہ ’’میری ٹیم کے ایک رکن نے صحیح ہی کہا تھا۔ جب دو مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر ٹرمپ کی دیوار کی آدھی قیمت میں اتنے پڑے پیمانے پر قدرت کے کرشمے دریافت کرسکتے ہيں تو انسانوں اور ان کے مسائل کی حیثیت ہی کیا ہے؟‘‘

سیدہ آمنہ حسن یو سی برکلے گریجوئیٹ سکول آف جرنلزم (U.C. Berkeley Graduate School of Journalism) سے صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ انہوں نے ماضی میں دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے کیسز میں ثبوت حاصل کرنے کے لیے فوجدار عدالتوں میں بحیثیت تفتیش کار کام کیا ہے۔ وہ اس وقت آئی ٹی یو کی فیکلٹی کا حصہ ہیں اور قصور اور شیخوپورہ میں جنسی زیادتی کے شکار بچوں کے لیے تشکیل کردہ پروگرام کی پراجیکٹ کوآرڈینیٹر ہيں۔

تحریر: سیدہ آمنہ حسن

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top