Global Editions

سمندر کی سطح میں اضافے سے کروڑوں افراد متاثر ہوسکتے ہيں

پرنسٹن یونیورسٹی کے محققین کو معلوم ہوا ہے کہ توقعات سے کہیں زيادہ افراد سمندر کے قریب رہتے ہيں۔

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث برف کے پگھلنے اور پانی کے درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری سطح میں اضافہ ہورہا ہے اور اس صدی کے اختتام تک کئی علاقہ جات زيرسیلاب آسکتے ہيں، جہاں اس وقت کروڑوں لوگ آباد ہيں۔

لیکن کتنے لوگ متاثر ہوں گے؟ اس کی درست پیمائش کرنے کے لیے پہلے تو یہ جاننا ہوگا کہ لوگ سمندر سے کتنے فاصلے پر رہتے ہيں، جس کے لیے زمین کا جغرفیائی مطالعہ ضروری ہے۔

ایک نئی تحقیق میں سابقہ ماڈلز کی معلوم شدہ غلطیوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس مطالعے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماضی کے محققین نے سمندر کی سطح میں اضافہ سے متاثر ہونے والےا افراد کا تخمینہ کرنے میں غلطی کی ہے اور دراصل ان افراد کی تعداد ان ماڈلز سے حاصل کردہ اعداد سے تین یا چار گنا زيادہ ہے۔

اگر یہ تخمینہ درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس سے سمندر کی سطح کے اضافے کے باعث ہونے والے نقصانات کے علاوہ سمندری دیواروں کو اونچا کرنے کے اخراجات اور سمندر سے دور اجتماعی نقل مکانی میں اضافہ ہوگا۔

اب تک کئی تخمینوں کے لیے 2000ء میں ناسا کے اینڈیور (Endeavour) نامی سپیس شٹل پر نصب ریڈار سسٹم سے حاصل کردہ تھری ڈی نقشے کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم اس سسٹم کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس سے صرف زمین کے بجائے اوپری سطحوں (مثال کے طور پر اونچی عمارتوں یا درختوں کے اوپر کے حصے) کی پیمائش کی جاتی ہے، جس سے گنجان آباد علاقہ جات میں زمین کی بلندی کا درست اندازہ نہيں لگایا جاسکتا ہے۔

نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں پرنسٹن یونیورسٹی کے ریسرچرز نے زیادہ معتبر ڈیٹا کی مدد سے ناسا کے ماڈل میں “عمودی تعصب” کم کرنے کے لیے مشین لرننگ کے ایک سسٹم کو تربیت فراہم کرنے کی کوشش کی۔ سابقہ ماڈلز کے مطابق سمندری سطح کے اضافے سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2.8 کروڑ ہے لیکن اس نئے تجزیے کے مطابق یہ تعداد دراصل 11 کروڑ ہے۔

2100ء تک یہ شرح بڑھ کر 19 کروڑ ہوجائے گی، بشرطیکہ گرین ہاؤس گیس کے اخراجات کی مقدار میں زیادہ اضافہ نہ ہو۔ لیکن اگر ان اخراجات میں زيادہ اضآفہ ہوگا تو ان افراد کی تعداد بڑھ کر 34 کروڑ ہوجائے گی۔ اس کے برعکس پرانے ماڈلز کے مطابق یہ شرح محض 9.4 کروڑ تھی۔ اگر سالانہ سیلابوں کی سطح سے کم بلندی رکھنے والی زمین پر رہائش پذیر افراد کو خاطر میں لایا جائے تو ان اعداد و شمار میں مزید کئی کروڑوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors

*

Top