Global Editions

سکرینز پر زیادہ وقت گزارنے سے بچوں کے دماغ تبدیل ہوسکتے ہيں

حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکٹرانک آلات کے استعمال سے بچوں کی خواندگی اور لسانی صلاحیتوں کو بہت نقصان پہنچتا ہے اور اب ان کے دماغوں کے ایم آر آئی سکینز میں بھی اس بات کا ثبوت نظر آرہا ہے۔

مطالعے کی تفصیلات: اس تحقیق کے دوران ایک طرف تین سے پانچ سال تک کی عمر کے سینتالیس بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کی جانچ کے لیے ایک ٹیسٹ دیا گيا۔ دوسری طرف ان کے والدین سے ان کے سکرین ٹائم کے متعلق سوالات پوچھے گئے، جن میں ان سے سکرین کے استعمال کے دورانیے اور مشمولات سے وابستہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش  گئی جس کے بعد ان کے جوابات کا امریکن اکیڈمی آف پیڈیٹرکس (American Academy of Pediatrics) کے رہنما اصولوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا۔ ساتھ ہی ایک ایم آر آئی مشین کی مدد سے ان بچوں کے دماغوں کے سکینز بھی حاصل کیے گئے۔

دماغ کی تبدیلیاں: ان سکینز سے یہ بات سامنے آئی کہ سکرینز کے ساتھ زيادہ وقت گزارنے والے بچوں کے دماغوں میں ”سفید مواد کی سالمیت “ کی شرح بہت کم تھی۔ سفید مواد دماغ کے اندرونی مواصلتی نیٹورک کی طرح ہے۔ اس میں شامل لمبے اعصابی فائبرز برقیاتی سگنلز کو دماغ کے مختلف حصوں میں پہنچانے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ اعصابی فائبرز جتنے زیادہ منظم اور مضبوط ہوں گے، سفید مواد کی سالمیت اتنی ہی زيادہ ہوگی اور ذہن اتنا ہی زيادہ تیز ہوتا جائے گا۔ لسانی صلاحیتوں میں اضافے اور سفید مواد کی سالمیت کے درمیان براہ راست تعلق موجود ہے۔

اس تحقیق کے مصنف سنسناٹی چلڈرنز ہسپتال (Cincinnati Children’s Hospital) کے جان ہٹن (John Hutton) نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتایا کہ ان کے مطالعے میں سکرینز کے زيادہ استعمال اور سفید مواد کی سالمیت کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا ہے۔ ان بچوں کو جو ذہنی صلاحیتوں کا ٹیسٹ دیا گيا تھا اس سے بھی اس نتیجے کی تصدیق ہوئی۔ جن گھرانوں میں بچے سکرینز کے سامنے زيادہ عرصے تک بیٹھتے ہیں، ان کی لسانی اور خواندگی کی صلاحیتیں پوری طرح پروان نہيں چڑھ پاتیں۔ ہٹن کہتے ہيں کہ ”ان تجربات میں دماغ کے متعدد موازنوں کو سختی سے کنٹرول کیا گيا تھا، جس کے باعث ان اثرات کو قابل قدر تصور کیا جاسکتا ہے۔ “

یاد رکھیں: اس تحقیق کا پیمانہ بہت چھوٹا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلگری کی سائن لارن برے (Signe Lauren Bray) نے اس تحقیق میں حصہ نہيں لیا تھا لیکن وہ بذریعہ ای میل بتاتی ہیں کہ اس سے یہ بات حتمی طور پر واضح نہيں ہوئی ہے کہ الیکٹرانک آلات کے استعمال سے دماغ کی نشونما پر منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نتائج کئی دوسرے عناصر کی وجہ سے بھی متاثر ہوسکتے تھے۔ برے متعدد بچوں کے دماغوں پر fMRI  سکینز کرچکی ہيں اور انہوں نے بتایا کہ ایسی کئی تحقیقیں موجود ہيں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹیلی وژن اور موبائل آلات کے ساتھ زيادہ وقت گزارنے والے بچوں میں اے ڈی ایچ ڈی کا شکار ہونے کا زیادہ امکان موجود ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان مطالعہ جات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچے پہلے ہی سے اے ڈی ایچ ڈی کا شکار تھے جس کی وجہ سے وہ گیجٹز کا زیادہ استعمال کررہے تھے۔ برے یہ بھی کہتی ہيں کہ سماجی اور معاشی عناصر کے باعث بھی بچوں میں ٹیلی وژن اور موبائل آلات کا زيادہ استعمال نظر آتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اگر ان عناصر کو خاطر میں لایا جائے تو نتائج بہت مختلف ہوں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر بچوں کو الیکٹرانک سکرینز کے ساتھ کتنا وقت گزارنا چاہیے؟ اس کا کوئی سیدھا جواب نہيں ہے۔ ہٹن کہتے ہيں کہ ”یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ بچوں کو کس عمر سے اور کس حد تک ٹیلی وژنز اور موبائل آلات سے متعارف کروایا جانا چاہیے۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کم از کم تین سال کی عمر تک تو بالکل بھی ایسا نہيں کرنا چاہیے۔ اس طرح پری سکول جانے تک بچوں میں نہ صرف اپنے اطراف موجود لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی بلکہ لسانی صلاحیتوں کی بنیاد بھی رکھی جاسکے گی۔ “

اس مطالعے کا پیمانہ زیادہ وسیع نہيں ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہيں کیا جاسکتا۔ ہٹن کہتے ہيں کہ ”اگر اس تحقیق کا ایم آر آئی کے دوسرے مطالعہ جات سے موازنہ کیا جائے، تو اس کا پیمانہ اتنا بھی چھوٹا نہيں ہے۔ اس کے علاوہ یہ پہلا مطالعہ ہے جس میں الیکٹرانک آلات اور دماغی ساخت کے درمیان تعلقات معلوم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ “ اگر والدین الیکٹرانک آلات کا استعمال کریں گے تو ان کے بچوں پر کیا اثرات سامنے آئيں گے؟ یہ جاننے کے لیے مزيد ٹیسٹس ضروری ہيں۔

سبق: ہٹن کہتے ہيں کہ ہمیں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ”بچوں اور بڑوں میں بہت فرق ہے، اور جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہيں ان کی ضروریات میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔“

تحریر: تانیہ باسو (Tanya Basu)

Read in English

Authors

*

Top