Global Editions

سائنس دان زندہ آرگنزم کے ڈی این اے میں اینی میٹڈ جف امیج ڈالنے میں کامیاب ہوگئے ہیں

ہارورڈ یونیورسٹی کے ریسرچرز ڈی این سٹوریج کی گنجائش ٹیسٹ کرنے کے لیے بیکٹیریا کے جینومز میں امیجز ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ڈی این اے کو سٹوریج کے طور پر استعمال کرنے کا مطلب ہے کہ آپ اپنی تمام تصویریں، اپنی تمام موسیقی، یا اپنے پسندیدہ ٹی وی پروگرام کو ایک چھوٹے سے مالیکیول میں محفوظ کرسکتے ہیں، اور اس کے بعد کافی جگہ بھی بچ جائے گی۔

لیکن اگر وہ ساری معلومات آپ کی جلد کے اندر ہی نصب کردہ جائے تو؟ ہارورڈ یونیورسٹی کے جینیاتی سائنس دان جارج چرچ (George Church) اور ان کی ٹیم کو یقین ہے کہ ایک دن ایسا ممکن ہوجائے گا۔

یہ ٹیم CRISPR نامی جین میں ترمیم کرنے کے سسٹم کی مدد سے زندہ اشیریکیا کولی (Escherichia coli) بیکٹیریا کے جنومز میں ایک چھوٹی اینی میٹڈ تصویر، یعنی کہ جف، ڈالنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ ان ریسرچرز نے ہر تصویر کے پکسلز کو ڈی این کے بنیادی حصوں، یعنی کہ نیوکلیوٹائڈز، میں تبدیل کرلیا ہے۔

ان سائنس دانوں نے 1870ء کی دہائی میں انگریز فوٹوگرافر ایڈویرڈ مائی برج (Eadweard Muybridge) کی کھینچی گئی گھڑسوار کی موشن امیجز کو پانچ فریمز میں تقسیم کرکے زندہ بیکٹیریا میں متعارف کیا۔ اس کے بعد یہ ریسرچرز بیکٹیریل ڈی این اے کی ترتیب بدلنے کے بعد پکسل کے نیوکلیوٹائیڈ کوڈ کو پڑھ کر اس فلم کو 90 فیصد درستی کے ساتھ دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اس طریقے کی تفصیلات نیچر (Nature) نامی جریدے میں فراہم کی گئی ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس دان اور بائیولوجسٹ یانیو ایرلیخ (Yaniv Erlich) کے مطابق، جنھوں نے اس مطالعے میں حصہ نہیں لیا تھا، زندہ خلیات میں معلومات ذخیرہ کرنے کے بعد اگلا مرحلہ انسانی خلیات میں اس کا استعمال ہوگا۔

آج کل کی دنیا میں وافر مقدار میں ڈیجیٹل ڈیٹا تخلیق کیا جارہا ہے، اور سائنس دان اس ڈیٹا کے پائیدار ذخیرے کے لیے ڈی این اے کے استعمال پر غور کررہے ہیں۔ آخرکار، ہزاروں بلکہ لاکھوں سال پرانے ڈی این اے کو لیب میں ایکسٹراکٹ کرکے اس میں سے معلومات بھی تو حاصل کی جارہی ہے۔

اب تک سائنس دانوں نے ڈی این اے کو سٹوریج کے لیے استعمال کرنے کے متعلق جو ریسرچ کی ہے، اس میں ان ہی کا بنایا گيا مصنوعی ڈی این اے استعمال ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ، مصنوعی ڈی این اے میں جس پیمانے پر معلومات کو ذخیرہ کیا جاچکا ہے، اس کے مقابلے میں یہ جف امیج، جس کی چوڑائی محض 36 پکسل اور لمبائی محض 26 پکسل ہے، بہت چھوٹی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندہ خلیات کی مسلسل حرکت، تبدیلی، تقسیم، اور خاتمے کی وجہ سے ان میں معلومات ذخیرہ کرنا زيادہ مشکل ہے۔

ایرلیچ کے مطابق بیکٹیریا جیسے زندہ خلیات کے جوہری دھماکوں، ریڈيشن یا شدید گرمی جیسے حادثات کے باوجود بھی زندہ بچنے کی صلاحیت کی وجہ سے ذخیرہ کردہ ڈیٹا کا زيادہ تحفظ ممکن ہوگا۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں چرچ کے لیب میں اس تحقیق کی سربراہی کرنے والے سیٹھ شپ مین (Seth Shipman) کہتے ہیں کہ وہ ڈیٹا ذخیرہ کرنے کے علاوہ اس تکنیک کے ذریعے کسی خلیے میں کیا ہورہا ہے، اسے ریکارڈ کرنے کے لیے سنسرز بنانا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں "ہم ایسے خلیات بنانا چاہتے ہیں جو اپنے اندر کے اور اپنے اطراف کے ماحول کی معلومات کو ذخیرہ کرسکتے ہیں۔"

یہ تکنیک فی الحال آپ کے جسم میں ڈیٹا ذخیرہ کرنے کے لیے تو استعمال نہیں ہونے والی ہے، لیکن اس کا ریسرچ میں کافی فائدہ ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر، خلیات کے ارتقاء کے پیچھے مالکیولز کی تبدیلی، جیسے کہ دماغ کی نشونما کے دوران نیورونز کی تشکیل، کو ریکارڈ کیا جاسکتا ہے۔

شپ مین کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص ان بیکٹیریا کو اپنے جسم میں یا دنیا میں کہیں بھی استعمال کرکے معلومات حاصل کرنے کے بعد، اس بیکٹیریا میں موجود ڈی این اے سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

تحریر: ایملی مولن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top