Global Editions

سائنسدانوں نے صحرائے اعظم میں بارشیں برسانے کا طریقہ دریافت کر لیا

امریکہ کی یونیورسٹی آف الینوائے کی ایک تحقیق کے مطابق صحرائے اعظم کو بارشوں سے سیراب اور سرسبز کرنا جلد ممکن ہو جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ہوا اور شمسی توانائی جیسے توانائی کے قابل تجدید منصوبوں کو صحرا میں پھیلایا جائے تو اس سے صحرائے اعظم کے نوے لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں تسلسل کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں خشک سالی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ صحرا سرسبز ہو سکتا ہے۔ محققین کے مطابق صحرا کے جن حصوں میں ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبے لگائے گئے وہاں بارش میں اوسطاً اعشاریہ پچیس فیصد یومیہ کے حساب سے تقریباًدوگنا اضافہ دیکھا گیا۔ تحقیق کے مطابق سولر پینلز اور وِنڈ ٹربائنز صحرائی زمین کی سطح کو سخت اور گہرا سیاہ بنا دیتے ہیں اور یہ امر بارشوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق وِنڈ فارمز سے تین ٹیرا واٹ جبکہ سولر فارمز سے 79ٹیرا واٹ ماحول دوست بجلی پیدا ہو رہی ہے۔تحقیق کے ٹیم لیڈر یان لی کے مطابق ونڈ اور سولر انرجی جہاں بارشوں اور زرعی پیداوارمیں اضافے کا باعث بنتی ہے وہاں مشرق وسطیٰ ‘صحرائے اعظم اور قریبی علاقوں کے لئے زراعت کے فروغ‘معاشی ترقی اور سماجی خوش حالی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ صحرائے اعظم میں کل 25 لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں جن کی اکثریت مصر، ماریطانیہ، مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس تحقیق سے صحرا کے بہت بڑے رقبے کو قابل کاشت بھی بنایا جا سکتا ہے۔

Authors
Top