Global Editions

جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خوراک : کیا ہمیں لیبل لگانے کی ضرورت ہے؟

امریکہ کی ورمونٹ پہلی ریاست ہے جس نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خوراک کے حوالے سے ایک قانون پاس کیا۔جس کے تحت جینیاتی طور پر بنائی گئی خوراک پر جی ایم او کا لیبل لگانا ضروری ہو گا۔ مئی میں ورمونٹ کے گورنر پیٹر شملین (Peter Shumlin)نےاس کے بِل پر دستخط کئے جس کے بعد یہ قانون بن گیا ( امریکہ کی درجن کے قریب ریاستیں جینیاتی طور پر بنائی گئی خوراک پر لیبل لگانےکا قانون پاس کرنے پر غور کررہی ہیں۔ ) خوراک کی بہتری کیلئے بہت سے سرگرم افراد بل کو بہتری کی طرف جانے والا ایک راستہ قرار دیتے ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خوراک کینسر کا سبب بنتی ہے لہٰذا وہ کسانوں کو زیادہ طاقتور زہریلا کیمیکل استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔تاہم اگر ورمونٹ کےحکمران ایمانداری سے سوچیں توپتہ چلے گا کہ ابھی تک کوئی ایسی قابل اعتبار رپورٹ سامنے نہیں آئی جسے پڑھ کر سوچا جائے کہ جینیاتی انجینئرنگ کی مدد سے کاشت کی گئی فصل انسانی صحت کے لئےنقصان دہ ہے۔غذا اور ادویات کی تیاری میں ٹیکنالوجی کو قریباً 30 سال سے نہایت احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ گزشتہ 15 سالوں کے دوران جوکسان کارن (Corn)کی جینیاتی تبدیل شدہ (GMO) فصل کاشت کررہے ہیں اس میں جراثیم کش ادویات کا استعمال دس گنا کم ہوگیاہے۔ اس لئے اپنی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ورمونٹ ریاست کا پاس کردہ بل ناقابل اعتبار ہے کیونکہ جینیاتی انجینئرنگ سے بنائے گئے پنیر یا سرخ گریپ فروٹ پر لیبل لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ان جانوروں کو بھی لیبل کرنے کی ضرورت نہیں جنہیں جی ایم او خوراک دی گئی ہو یا ایسی خوراک جسے جینیاتی محلول سے محفوظ کیا گیا ہو۔ تاہم اس قانون کے تحت ان فصلوں کو لیبل لگانے کی ضرورت نہیں ہے جن میں بائیو ٹیکنالوجی کی نامیاتی (organic )کیڑے مار ادویات استعمال ہوتی ہیں۔ لہٰذاورمونٹ میں پاس ہونے والا قانون صارف کو غذائیت سے بھرپوراور صحت بخش خوراک تک رسائی نہیں دیتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ کو لیبل کی احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ صارف یا تو لیبل دیکھنے کی زحمت گوارا کرے گا یا اسے نظر انداز کردے گا۔ جی ایم او کیخلاف تحریک نے صارفین کو خوفزدہ کردیا ہے۔ بہت سے لوگ روائتی طریقوں سے پیدا ہونے والی خوراک خریدنے کیلئے زیادہ ادائیگی کرنے کو تیار ہیں۔ یہ سوچ کسانوں کو کاشت کیلئے پرانے طریقے استعمال کرنے، زیادہ زہریلے اورمہنگے کیمیکل استعمال کرنے پر اکساتی ہے۔ جی ایم او سے خوفزدہ کرنے والی مہم نے غریب طبقے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں وٹامن اے کی کمی قریباً پانچ لاکھ لوگوں میں اندھے پن کا سبب بن رہی ہے۔ جینیاتی انجینئرنگ کی مدد سے اگائے ہوئے گولڈ رائس دس سال سے یہ کمی پوری کررہے ہیں۔ لیکن بھارت یا بنگلہ دیش یا دیگر ممالک کے حکام نے ابھی تک گولڈن رائس کی پیداوار کی اجازت نہیں دی۔ برکلے کے زرعی معیشت دان ڈیوڈ زلبرمین (David Zilberman)کہتے ہیں کہ گولڈن رائس کی جلد از جلد پیداوار سے کم از کم دس لاکھ لوگوں کو اندھے پن سے اور ہزاروں بچوں کو موت کی وادیوں میں جانے سے بچایا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا غذا پر لیبل ضرور لگائیں لیکن جس کی ضرورت ہے اسے لگائیں۔ غذا کے لیبل پر تفصیل ہونی چاہئے کہ فصل کیسے اگائی گئی، اور غذا کے عناصر کیا ہیں؟ تاکہ صارف اس کے فوائد اور نقصانات کا خود فیصلہ کرسکے۔ کسی شے کےبارے میں جاننے کا حق اسی وقت مفید ہو سکتا ہے جب معلومات درست ہوں۔

تعارف : پامیلا رونلڈ ٹوماروز ٹیبل میں آرگینک فارمنگ، جنیٹکس اور فیوچر آف فوڈ کی شریک مصنف ہیں

Read in English

Authors
Top