Global Editions

یہ آلات آپ کے اندر کی آواز سن سکتے ہيں

اپنے گیجٹس سے بات کرکے انہیں کنٹرول کرنا اب بہت پرانی بات ہوگئی ہے۔ مستقبل میں تو آپ کو ہونٹ ہلانے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

ایم آئی ٹی میڈيا لیب کے طالب علم ارنو کپور نے آلٹر ایگو نامی ایک ایسا پروٹوٹائپ آلہ تیار کیا ہے، جس کی مدد سے اب جلد ہی ایسا ممکن ہوجائے گا۔ تھری ڈی پرنٹنگ کی مدد سے تیار کردہ یہ آلہ ایک پتلے سفید کیلے کی طرح لگتا ہے، اور کپور اسے اپنے سر پر لگا کر ٹی وی چینلز تبدیل کرسکتے ہیں، بجلی کے بلب کے رنگ تبدیل کرسکتے ہيں، شطرنج کھیل سکتے ہيں، ریاضی کے پیچیدہ سوالات حل کرسکتے ہيں، اور اپنے گھر پر کھانا منگواسکتے ہيں - اور وہ بھی کچھ کہے یا کوئی حرکت کیے بغیر۔ اس آلے کی مدد سے دوسرے لوگوں سے بغیر الفاظ ادا کیے رابطہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

کپور نے یہ آلہ ایک ریسرچ پراجیکٹ کے لیے تیار کیا تھا، اور وہ اس کے بارے میں کہتے ہيں "مجھے لگتا ہے کہ میں سائبارگ ہوں، لیکن مجھے یہ بہت اچھا بھی لگتا ہے۔"

آلٹر ایگو ابھی تک لوگوں کے دماغ پڑھنے کی صلاحیت نہيں رکھتا ہے، لیکن اسے دیکھ کر ایسا ہی لگتا ہے۔ اس کے بجائے وہ خاموشی سے کتاب پڑھنے یا خود سے بات کرنے کے دوران استعمال ہونے والے گردن اور چہرے کے پٹھوں کی معمولی حرکتوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے چھوٹے برقی سگنلز کا استعمال کرتا ہے۔ آلٹر ایگو کے الیکٹروڈز ان سگنلز کو کیپچر کرکے انہيں بلیوٹوتھ کے ذریعے ایک کمپیوٹر کو بھیجتے ہيں۔ اس کے بعد ان سگنلز کو الگارتھمز کے ذریعے ڈی کوڈ کرکے ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس سسٹم میں ہڈیوں کے ذریعے کنڈکشنن استعمال کرنے والے ہیڈفونز بھی شامل ہيں، جن کے ذریعے آپ کو نہ صرف فیڈبیک ملتا ہے، بلکہ آپ کے کان بند کیے بغیر یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ آلٹرایگو کے دوسرے صارفین آپ سے کیا کہنا چاہتے ہيں۔

یہ بالکل اپنے ذاتی انٹرنیٹ سے جڑنے کی مانند ہے، اور کپور بتاتے ہيں کہ اسے اتارنے کے بعد "اچانک سب چیز روٹین پر لوٹ آتی ہے۔"

آج کل مصنوعی ذہانت میں تیزی سے بہتری پریشانی کا باعث بن رہی ہے، اور کئی لوگ روبوٹس کے قتل و غارت میں حصہ لینے، یا وسیع پیمانے پر بے روزگاری کا باعث بننے کے خدشات کا اظہار کرتے ہيں۔ تاہم، کپور کے مطابق آلٹرایگو کو ان خدشات کا حل ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے پچھلا پورا سال اس آلے پر کام کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ہماری جگہ لینے کے بجائے ہماری مدد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کی نظر میں یہ ایک نیا قسم کا کمپیوٹر ثابت ہوگا، جس ميں ایک سمارٹ فون کی طرح آپ کی اتنی توجہ استعمال نہيں ہوگی، اور الیکسا کے برعکس خاموشی سے کام ہوجائے گا۔ اس وقت پروٹوٹائپ صرف ابتدائی مراحل ہی ميں ہے، لیکن وہ سمجھتے ہيں کہ اس سے، مثال کے طور پر، اوبر بلائی جاسکے گی، یا بات کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنے والے افراد کو آسانی ہوگی۔

اب تک کپور اور میڈيا لیب کے دیگر ریسرچرز نے کئی چھوٹی موٹی ایپلیکیشنز تیار کی ہیں، جن میں شطرنج اور گو کی اگلی چال بتانے والے معاون، دماغ سے سوچے جانے والے ریاضی کے مسائل حل کرنے والی ایپ، اور انٹرنیٹ آف تھنگز پر نوڈ بننے میں معاون ثابت ہونے والی ایک ایپ شامل ہيں۔

اس کے علاوہ، ان ریسرچرز نے آلٹرایگو کی خاموشی سے رابطہ کرنے کی ٹیسٹنگ بھی کروائی، اور ایک حالیہ پیپر کے مطابق یہ بات سامنے آئی کہ اس ایپ کی صارفین کی بات سمجھنے کی درستی 92 فیصد تھی۔

کارنیل یونیورسٹی کی ایسوسیٹ پروفیسر تنظیم چودھری، جو اس سکول کی پیپل اویئر کمپیوٹنگ لیب (People-Aware Computing Lab) بھی چلاتی ہیں، کہتی ہيں کہ آلٹر ایگو کا ان صورتوں میں بھی فائدہ ہوسکتا ہے جب کسی چیز کے بارے میں بات کرنے میں شرمندگی یا ذہنی تھکاوٹ محسوس ہو۔

ان کے مطابق اصل چیلنج ہارڈویئر اور انٹریکشن کو عجیب بنائے بغیر اس آلے سے کام کروانا ہے۔ انہوں نے بری طرح ناکام ہونے والے گوگل گلاس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اگر کسی ایک شخص نے اپنے سر پر کسی قسم کا آلہ پہنا ہوا ہو تو لوگوں کے درمیان روابط بری طرح متاثر ہوسکتے ہيں۔

کپور اس آلے کو بہتر بنا کر اسے ایک مصنوعے کی شکل دینا چاہتے ہيں، اور ان انہوں نے ان تمام مسائل کے بارے میں سوچنا شروع کردیا ہے جن کو حل کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مثال کے طور، اس وقت اس کا ذخیرہ الفاظ بہت محدود ہے، اور وہ صرف "ہاں"، "نہيں" اور "خداحافظ" جیسے چھوٹے چھوٹے الفاظ اور فقرے ہی سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایپ انگریزی کے خاموشی سے ادا کیے جانے والے الفاظ کو کئی زبانوں میں ترجمہ تو کرسکتی ہے، جس میں ہسپانوی اور جاپانی شامل ہيں، لیکن اس وقت صرف 15 ہی فقروں کا ترجمہ ممکن ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابھی الفاظ کی خاموش ادائيگی کا طریقہ بہت نیا ہے، اور اس وجہ سے ایک روایتی سپیچ کی پہچان کی ایپ کے برعکس آلٹرایگو الگارتھم کے پاس تربیت کے لیے بڑے ڈیٹا سیٹس موجود نہيں ہیں۔ لہذا ریسرچرز کو لوگوں سے استعمال کروا کر اس ایپ کے لیے ڈیٹا سیٹ بنوانے کی ضرورت پیش آئی۔

کپور کے مطابق وہ ہسپتالوں اور ری ہیب کے مراکز میں بھی مطالعہ سیٹ اپ کررہے ہيں، جہاں بات کرنے میں دشواریوں کے شکار افراد آلٹرایگو استعمال کریں گے، لیکن انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ہے کہ وہ کیا کررہے اور وہ کیا معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ اس کے علاوہ، ریسرچرز سسٹم کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ کرنے کی کوشش کررہے ہيں، ایپلی کیشنز پر کام کررہے ہيں، اور آلٹر ایگو کی شکل و صورت کو بہتر بنانے پر غور کررہے ہيں۔

وہ کہتے ہيں "یہ سب سپرپاور حاصل کرنا اچھا لگتا ہے۔"

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top