Global Editions

روس خود کوعالمی انٹرنیٹ سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس کا کیا مطلب ہے؟

روسی حکومت کا یہ منصوبہ سیاسی اور تکنیکی طور پر پیچیدہ ثابت ہونے والا ہے، لیکن کریملن نے یہ کام کر دکھانے کا پکا ارادہ کرلیا ہے۔

اگلے چند ہفتوں میں روس ایک ایسا کام کرنے کی کوشش کررہا ہے جو اب تک کسی بھی ملک نے نہيں کیا ہے۔ وہ یہ ٹیسٹ کرنا چاہ رہے ہيں کہ کیا الیکٹرانک طور پر خود کو پوری دنیا سے منقطع کرنے کے باوجود بھی روسی شہریوں کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت برقرار رکھی جاسکتی ہے؟ ایسا کرنے کا مطلب ہے کہ روس کو بیرونی سرورز استعمال کرنے کے بجائے اندرونی طور پر ہی ڈیٹا کو ری راؤٹ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اس ٹیسٹ سے آزادانہ انٹرنیٹ کے متعلق ایک قانون کی بنیاد رکھی جائے گی جس پر اس وقت روسی حکومت کام کررہی ہے۔ اسے فی الحال پارلیمان نے ملتوی کردیا ہے، لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ جلد ہی صدر ولادمیر پیوتن اس قانون پر دستخط کردیں گے۔

انٹرنیٹ کو محدود کرنے کا خیال سننے میں تو بہت آسان لگتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی عملدرآمدگی نہ صرف بہت مشکل ثابت ہوگی بلکہ بہت مہنگی بھی ہوگی۔ روس کی مالی ضابطہ کار اتھارٹی کے مطابق اس پراجیکٹ کی قیمت 3.8 کروڑ ڈالر ہوگی، لیکن ممکن ہے کہ اسے مزید فنڈنگ کی ضرورت پڑے۔ بلوم برگ کے مطابق اس منصوبے کے ایک مصنف نے کہا ہے کہ اس منصوبے کی لاگت30.4 کروڑ ڈالر کے قریب ہوگی۔ تاہم صنعت سے تعلق رکھنے والے کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم سسٹم کو برقرار رکھنا تو دور کی بات، اسے چلانے کے لیے بھی کافی نہيں ہوگی۔

اس کے علاوہ یہ نیا تجویز کردہ قانون غیرمقبول ثابت ہورہا ہے۔ پچھلے ماہ ماسکو میں 15،000 کے قریب افراد اس قانون کے خلاف سڑکوں پر پرزور احتجاج کرنے کے لیے نکل پڑے۔

منقطع کرنے کا عمل

لیکن روس خود کو عالمی انٹرنیٹ سے منقطع کس طرح کرے گا؟ انٹرنیٹ سوسائٹی کے سی ای او اور صدر اینڈرو سلیون کہتے ہيں کہ اب تک یہ بات واضح نہيں ہوئی ہے کہ اس ٹیسٹ میں کیا کیا شامل ہوگا۔ ہمیں صرف یہی معلوم ہے کہ اگر یہ قانون پاس ہوجائے تو ملک بھر کے انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز کو صرف وہی ایکسچینج پوائنٹس استعمال کرنے کی اجازت ملے گی جنہيں روس کی ٹیلی کام کی ضابطہ کار اتھارٹی نے منظوری دی ہے۔

ایکسچینج پوائنٹس سے مراد وہ مقام ہیں جہاں انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ٹریفک کے تبادلے کے لیے ان کی کیبلنگ کو جوڑا جاتا ہے۔ ان مقامات کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کو انٹرنیٹ ایکسچینج پرووائڈرز کہا جاتا ہے۔ روس کا سب سے بڑا ایکسچینج پرووائڈر ماسکو میں واقع ہے، اور نہ صرف مشرقی روس بلکہ اس کے پڑوسی ملک لیٹویا میں واقع ریگا کو بھی متصل کرتا ہے۔

اس ایکسچینج پوائنٹ کا نام ایم ایس کے نائن ہے اور اس کا شمار دنیا کی سب سے بڑی ایکسچینجز میں ہوتا ہے۔ یہ ویک ڈیز میں چوٹی کے اوقات کے دوران 500 سے آئی ایس پیز کو جوڑتی ہے اور اس میں 140 گیگا بٹس سے زیادہ ڈیٹا گزرتا ہے۔ کئی آئی ایس پیز ایسے ایکسچینجز کا بھی استعمال کرتے ہیں جو پڑوسی ممالک میں واقع ہیں یا جو بیرون ملک کمپنیوں کی ملکیت ہيں۔ اب ان ایکسچینجز کے استعمال پر پابندی عائد ہوجائے گی۔ اس مرحلے کے اختتام کے بعد، روس کو ایک "آن یا آف کرنے کا سوئيچ" میسر ہوجائے گا جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی کے مطابق انٹرنیٹ کو بیرونی دنیا سے منقطع کرنے کا یا کھلا رکھنے کا فیصلہ کرسکتے ہيں۔

نام میں کیا رکھا ہے؟

اپنے آئی ایس پیز کو ری راؤٹ کرنے کے علاوہ، روس کو اپنے عالمی ڈومین نیم سسٹم (ڈی این ایس) کو بھی غیرمتصل کرنا ہوگا تاکہ ٹریفک کسی بھی ایسے ایکسچینج پوائنٹ سے نہ گزر سکے جو روس میں واقع نہ ہو۔

ڈی این ایس انٹرنیٹ کے لیے ایک فون بک کی طرح کام کرتی ہے۔ جب بھی آپ اپنے براؤزر میں کوئی بھی یو آر ایل ثائپ کرتے ہیں تو آپ کا کمپیوٹر ڈی این ایس کی مدد سے اس ڈومین کے نام کو ایک آئی پی ایڈریس میں تبدیل کرتا ہے، جس کی مدد سے درست سرور کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ اگر ایک سرور جواب نہ دے تو دوسرا سرور اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ ٹریفک بالکل پانی کی طرح ہے، وہ اپنا راستہ خود بخود تلاش کرلیتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے کمپیوٹر سائنٹسٹ بریڈ کار بتاتے ہیں "ڈی این ایس ایک ایسا سسٹم بنانا چاہتے تھے جو اس وقت بھی کام کرنے کے قابل ہو اگر اس کے کچھ حصے کام کرنا بند کردیں۔" انٹرنیٹ کی ساخت کی اس پائیداری کی وجہ سے روس کے لیے اس منصوبے کو عملدرآمد کرنا اور بھی مشکل ہوجائے گا۔

کئی تنظیمیں اس ڈی این ایس کے نظام کو چلا رہی ہيں، لیکن بیشتر بنیادی سرور (جنہيں "روٹ سرورز" کہا جاتا ہے) امریکہ میں واقع گروپس کے زیرنگرانی کام کررہے ہيں۔ روس کی نظر میں یہ ایک بہت بڑی خامی ہے، اور وہ اپنے خود کے روٹ سرورز پر مشتمل ایک نیا نیٹورک قائم کرنا چاہتے ہيں۔

تھاؤسنڈ آئیز نامی سافٹ ویئر کمپنی کے انٹرنیٹ مانیٹرنگ کے ماہر امیت نائیک کہتے ہیں "روس کے بیشتر انٹرنیٹ کے صارفین کے لیے متبادل حقیقت تخلیق کرنے کے لیے متبادل ڈی این ایس کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جو بھی اس ڈائریکٹری کو کنٹرول کرنے گا، پورا انٹرنیٹ اس کے ہاتھ میں ہوگا۔" لہٰذا اگر روس اپنا ڈی این ایس تخلیق کرنے میں کامیاب ہوجائے، تو وہ کچھ حد تک انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

سلیون اعتراف کرتے ہيں کہ یہ کام آسان نہيں ہوگا۔ اس میں نہ صرف کئی ہزار سسٹمز کو تشکیل دینا ہوگا بلکہ انٹرنیٹ تک رسائی کے تمام مختلف طریقہ کار (جیسے کہ لیپ ٹاپس، سمارٹ فونز، آئی پیڈز وغیرہ) کی نشاندہی کرنا بھی ناممکن ثابت ہوگا۔ ان میں سے کچھ آلات بیرون ملک واقع سرورز، جیسے کہ گوگل کا پبلک ڈی این ایس، استعمال کررہے ہوں گے، جس کی نقل بنانا ممکن نہيں ہوگا، اور جب بھی کوئی صارف ان تک رسائی کرنے کی کوشش کرے گا تو کنکشن ناکام ہوجائے گا۔

اگر روس ملک بھر میں اپنا ڈی این ایس سیٹ اپ کرنے میں کامیاب ہوجائے اور آئی ایس پیز کے لیے اس نیٹورک کو استعمال کرنا ضروری قرار دے، تو ممکن ہے کہ صارفین کو اس وقت تک احساس نہ ہو جب تک وہ کسی ایسی ویب سائٹ پر نہ جائيں جس پر پابندی عائد ہو۔ مثال کے طور پر، فیس بک پر لاگ ان کرنے والے کسی صارف کو فیس بک سے ملتی جلتی روسی ویب سائٹ vk.com پر بھیجا جاسکتا ہے۔

اس ٹیسٹ کی اب تک کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے، لیکن اس کی عملدرآمدگی سے ہمیں تیاری کے متعلق تصدیق مل جائے گی۔ مغربی دنیا کو روس کی صلاحیت اور عزم کو نظرانداز نہيں کرنا چاہیے۔

پائیداری اور کنٹرول

کریملن کے مطابق ان اقدام کا مقصد روس کے انٹرنیٹ کو خودکار بنانا اور اسے دوسرے ممالک کے حملوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس سے روس کو امریکہ اور یورپی اتحاد کی موجودہ اور ممکنہ پابندیوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک ملک کے انٹرنیٹ کو خودکار بنانے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر دنیا بھر کا انٹرنیٹ کام نہ کررہا ہو تو اس کا اثر اس ملک پر نہیں پڑے گا۔ مثال کے طور پر، 2008ء میں جہازوں کے لنگروں کی وجہ سے تین بار زیرسمندر انٹرنیٹ کے کیبلنگ کو نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ، بھارت اور سنگاپور میں واقع صارفین کی انٹرنیٹ تک رسائی منقطع ہوگئی۔ اگر ان ممالک میں ٹریفک کو ری راؤٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی تو انٹرنیٹ کی سہولت برقرار رہتی۔

کئی مبصرین کے مطابق یہ قدم روس کے شہریوں کو معلومات کی فراہمی کو کنٹرول کرنے کی روایت کے عین مطابق ہے۔ ماضی میں روس نے ایسے قوانین پاس کیے ہیں جن کے تحت سرچ انجنز کو کچھ نتائج حذف کرنے پڑے، اور 2014ء میں سوشل نیٹورکس کے لیے روسی صارفین کے ڈیٹا کو روس کے اندر ہی واقع سرورز پر ذخیرہ کرنا ضروری ٹھہرا دیا گیا۔ اس کے علاوہ، روس میں ٹیلی گرام جیسی ایپس پر بھی ممانعت ہے۔ روسی حکومت نے حال ہی میں ایک قانون پاس کیا ہے جس کے تحت "ریاست کی توہین" اور "جعلی خبریں پھیلانے" کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ آن لائن سینسرشپ میں مہارت رکھنے والے سٹین فورڈ یونیورسٹی کے روسی ریسرچر سرگے سینووچ کہتے ہيں یہ نیا منصوبہ اسی سلسلے کی ایک خطرناک کڑی ہے۔

چیٹہیم ہاؤس نامی تھنک ٹیک کے لیے کام کرنے والے روسی سیکورٹی کے ماہر کیر گائلز کے مطابق آئی ایس پیز اور سیکورٹی سروسز کے درمیان مذاکرات دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہیں۔ روسی سیکورٹی کے افسران کی نظر میں ہمیشہ سے ہی انٹرنیٹ ایک موقع کم اور خطرہ زیادہ رہا ہے۔

گائلز کہتے ہیں "روس خود کو عالمی انفراسٹرکچر سے منقطع کرکے اپنے آپ کو اس منصوبے کے نتائج سے محفوظ رکھنا چاہتے ہيں۔"

روس چین کے تجربے سے سبق حاصل کرسکتے ہیں۔ چین کو انٹرنیٹ پر ریاستی مقاصد کے مطابق مشمولات پیش کرنے کے سلسلے میں بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ قدم اس وقت اٹھایا تھا جب انٹرنیٹ ابتدائی مراحل میں تھا۔ روس اس وقت سویت یونین کے زوال سے گزررہا تھا، جس کی وجہ سے ان کے لیے اس وقت انٹرنیٹ کے حوالے سے کوئی قدم اٹھانا نہيں تھا۔ چین نے 2000ء کی دہائی کی ابتداء میں ہی وہ آئی ایس پی اور ڈی این ایس قائم کرلیے تھے جن پر روس اب کام کرنا چاہتا ہے، لیکن اس وقت اس قسم کی ساخت بنانا بہت مشکل ثابت ہوگا۔ نائيک کہتے ہيں "چین نے بہت جلدی قدم اٹھالیا تھا اور فیصلہ کرلیا تھا کہ تمام ٹریفک کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔"

اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟

اس کے برعکس چین کے مقابلے میں روس کے شہریوں اور کاروباروں کا عالمی انٹرنیٹ انضمام زيادہ ہے، اور وہ مائیکروسافٹ کلاؤڈ جیسی بیرون ملک سہولیات کا استعمال بھی زيادہ کرتے ہیں۔ اس وقت یہ بات واضح نہيں ہے کہ روسی کاروباریوں اور شہریوں پر انٹرنیٹ منقطع کرنے کا کیا اثر ہوگا، لیکن ممکن ہے کہ وہ ان سہولیات سے رسائی کھو بیٹھیں گے۔ کلاؤڈ کی کئی سہولیات مختلف علاقہ جات میں اپنے مشمولات کی نقول تشکیل کرسکتی ہیں، لیکن روس میں مائیکروسافٹ، گوگل یا ایمزان ویب سروسز جیسی بڑی سہولیات کے ڈیٹا سینٹرز موجود نہيں ہیں۔ روس کی حدود میں رہتے ہوئے ان سہولیات کی نقل بنانا کوئی آسان کام نہيں ہے اور نائیک کے مطابق اس کام کے لیے قابل قدر سرمایہ کاری اور وقت درکار ہوگا۔ سلیون کہتے ہیں کہ آنے والے ٹیسٹ کا مقصد اس مسئلے کے حل کی تلاش ہوسکتا ہے۔

اس کا ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ روس کے کئی آئی ایس پیز پر دوسری کمپنیوں کا ٹریفک بھی چل رہا ہے، اور دوسرے ملکوں کے آئی ایس پیز پر روسی ٹریفک۔ نائیک کہتے ہیں کہ اگر یہ عمل درست طریقے سے نہيں کیا گيا تو روس میں آنے اور جانے والا ٹریفک کہیں ضائع ہوجائے گا۔

اگر یہ تجربہ ناکام ہوجائے اور روس میں انٹرنیٹ بند ہوجائے تو ان کی معیشت کو بہت زیادہ نقصان ہوگا (ماضی میں جن ممالک میں انٹرنیٹ بند کردیا گيا ہو یا بند ہوچکا ہو، انہيں بہت نقصان اٹھانا پڑا)۔ تاہم گائلز کے مطابق اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ کریملن ایسا کرنے کی کوشش نہيں کرے گا۔

اگر ایسا ہوجائے تو روس اتنی آسانی سے اپنے ڈیجیٹل حقوق کو ہاتھ سے جانے نہيں دے گا۔ چین کی طرح تیکنالوجی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے شہری سسٹم کی خامیوں کا فائدہ اٹھا ہی لیں گے۔ مثال کے طور پر، ترکی کی احتجاجوں کے دوران، لوگوں سے عالمی ڈی این ایس تک رسائی کرنے کے طریقے ڈھونڈ نکالے، جس کی وجہ سے حکومت کی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی ناکام ثابت ہوگئی۔

حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے روس کو اس منصوبے پر غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ 2016ء کے انتخابات کے دوران امریکی سائبر کمانڈ امریکہ میں دراڑیں پیدا کرنے کے لیے مشتبہ طور پر سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والی روسی "ٹرول فیکٹری" انٹرنیٹ ریسرچ ریسرچ ایجنسی کو ہیک کرنے میں کامیاب ثابت ہوگئے تھے۔

ماسکو میں رہائش پذیر صحافی اور سیاسی ماہر کریل گوسوو کہتے ہيں "اس خطرے کو نظرانداز نہيں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی مخالفت کرنے والے مشمولات تک رسائی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔" حکومت میڈیا اور ٹیلی وژن کو تو کنٹرول کرسکتی ہے لیکن انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔ گوسوو مزید کہتے ہیں "اگر کے جی بی کے جاں نشین ایف ایس بی پیوتن کو ایک حملے کی اطلاع دے، اور اسے انٹرنیٹ پر آزادی کو روکنے کا بہانہ بنائے، تو مجھے بالکل بھی حیرت نہيں ہوگی۔"

اس وقت یہ بات واضح نہيں ہے کہ یہ قانون حقیقت کی شکل کب اختیار کرے گا۔ تاہم اس بات سے بھی انکار نہيں کیا جاسکتا کہ روسی حکومت کو عوامی دباؤ کی کچھ خاص پرواہ بھی نہيں ہے۔ اس قانون کے منسوخ ہونے کے بجائے اس میں تاخیر کے زیادہ امکانات ہيں۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors
Top