Global Editions

جیوانجنیئرنگ کے بنیادی اصول

ہمیں جیوانجنیئرنگ پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

2015ء کا پیرس کا معاہدہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صنعتی انقلاب کے پہلے کے درجہ حرارت حاصل کرنے کے لیے ابھی بھی بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔

اس وجہ سے جیوانجنیئرنگ، خاص طور پر سورج سے حاصل ہونے والی ریڈیشن کی خلاء کی جانب واپسی، یعنی شمسی ریڈيشن مینیجمنٹ، میں دلچسپی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ کس حد تک موثر ثابت ہوگا اور اس کے ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟ اس کے علاوہ اس کے استعمال اور گورننس کے متعلق اخلاقی سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔

شمسی ریڈیشن مینیجمنٹ کے ماحولیاتی اور سماجی نقصانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، لیکن اس سے عالمی درجہ حرارت میں بھی قابل قدر کمی آنے کا امکان ہے۔ تاہم یہ فوائد اور نقصانات سب کے لیے ایک جیسے نہیں ہوں گے۔

اگر جیوانجنیئرنگ کا عالمی منصوبہ تیار کیا جائے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اس وقت کثیرجہتی معاہدوں کی غیرموجودگی میں اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ چند ممالک مل کر جیوانجنیئرنگ پر یک طرفہ اقدام کریں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک ملک، یا کوئی بڑی کمپنی یا کوئی مالدار شخص اس پر کام کرے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے جواب میں دوسری کمپنیاں یا دوسرے ممالک اپنی اپنی حکمت عملیاں تیار کرنے میں لگ جائیں۔

اس سے بچنے کے لیے عالمی گورننس کا فریم ورک قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ایک ہی ایسا فورم ہے جو جیوانجنیئرنگ کے کسی بھی فریم ورک کو قانونی حیثیت دے سکتا ہے، اور وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ہے۔

یہ فریم ورک تیار کرنے کے لیے کئی سوالات پر غور کرنا ہوگا: "عالمی تھرموسٹاٹ" کس کے ہاتھ میں ہوگا؟ دنیا بھر میں عدم مساوات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کو کس طرح کم کیا جائے گا؟ مختلف ممالک اور مختلف نسلوں کے اخلاقی مسائل کس طرح حل کیے جائیں گے؟ مطلوبہ گورننس کے فریم ورکس کئی دہائیوں، بلکہ کئی صدیوں بعد سامنے آنے والے ممکنہ طور پر قابل قدر ارضی سیاسی تبدیلیوں کو کس طرح برداشت کریں گے؟ اخراج میں کمی کے ارادوں کو متاثر کیے بغیر ان اقدام کو کس طرح بروئے کار لایا جائے گا؟ ان اقدام کو شروع کرنے، جاری رکھنے اور روکنے کے متعلق فیصلے کس طرح کیے جائیں گے؟

آخری سوال سب سے زیادہ سنگین ہے۔ اگر جیوانجنیئرنگ کے کسی پراجیکٹ کو بیچ میں روک دیا جائے تو درجہ حرارت میں بڑی تیزی سے اور شاید نقصان دہ حد تک اضافہ ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ گورننس کے کئی مسائل کو حل کرنا ناممکن ثابت ہو، جس کی وجہ سے انھیں حل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔

ریسرچ کمیونٹی ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے، لیکن عالمی پالیسی کی کمیونٹی اور عوام اس میں کوئی کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔ ان اقدام میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

تحریر: جانوس پیزٹر (Janos Pasztor)

Read in English

Authors
Top