Global Editions

روبوٹس کی آمد

ایک سماجی ادارہ لیگو اور روبوٹکس کی مدد سے پاکستانی بچوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں دلچسپی بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔

وہ زمانہ گزر گیا جب لیگو (Lego) بچوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا ۔ ہم بچپن میں جن بلڈنگ بلاکس سے کھیلا کرتے تھے، اب ان کی جگہ اعلیٰ قسم کے پروگرام ایبل روبوٹس نے لے لی ہے۔ لیگو کے بلڈنگ بلاکس کے اس سسٹم کے ہر ورژن میں کچھ ماڈیولر سینسرز اور موٹرز، میکانیکی سسٹمز بنانے کے لیے لیگو کے پرزے، اور اس پورے سسٹم کو کنٹرول کرنے کے لیے ای وی تھری (EV3)نامی ذہین کمپیوٹرز شامل ہیں۔

لاہور میں واقع ایک ادارہ لیگو اور روبوٹکس کی مدد سے سائنس، ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور ریاضی، – سٹیم، (Science, Technology, Engineering and Mathematics – STEM) کی تعلیم کی مقبولیت میں اضافہ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ 2015ء میں قائم کردہ روبوکڈز (Robokids) نامی یہ سماجی ادارہ روبوٹکس، گیمز کی پروگرامنگ، الیکٹرانکس اور ریاضی میں کئی انٹرایکٹو کورسز پیش کرتا ہے۔

دروازہ کھلتے ہی آپ ایک رنگ برنگے کمرے میں داخل ہو جاتے ہیں، جس میں آپ کو بچے آپس میں جڑنے والے رنگین اینٹوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے نظر آئيں گے۔ روبوکڈز جانتے ہیں کہ ایسی کئی صلاحیتیں ہیں جو تعلیمی اداروں میں سکھائی نہيں جاتی ہیں، لیکن یہ آگے چل کر بہت کام آتی ہیں، جن میں ٹیم مینیجمنٹ، آرگنائزیشنل صلاحیتیں، وقت کا بہتر استعمال اور جدت پسندی سرفہرست ہیں۔ لہٰذا وہ بچوں کو اکیسویں صدی کے لیے ضروری ان صلاحیتیوں سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں جو آگے چل کر ان کی پیشہ ورانہ زندگیوں میں فائدہ مند ثابت ہوں گی۔

روبوکڈز کے بانی اور ڈائریکٹر آفتاب خان کہتے ہيں، “ایسی کئی صلاحیتیں ہیں جو دنیا کے ہربچے کو سکھانی چاہیے، اور پروگرامنگ بھی ان میں سے ایک ہے۔ جس طرح بچے انسانی زبانیں سیکھتے ہیں، اسی طرح پروگرامنگ کی زبانوں کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔”
خان نے ناسا اور کولمبیا یونیورسٹی سے سٹیم کی تعلیم میں سند حاصل کی ہے۔ ان کی روبوکڈز کی ٹیم الیکٹریکل انجنیئرز اور کمپیوٹر سائنس کے گریجویٹس پر مشتمل ہے، جو خاص طور پر چھوٹے بچوں سے تعلق رکھنے والی سٹیم کی تعلیم کے متعلق عالمی تحقیقات پر نظر ڈالنے کے بعد تین سالہ بچوں سے لے کر بالغ افراد تک کے لیے کورسز تیار کرتے ہیں۔

خان کہتے ہيں، “ہم بچوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق چیزیں پیش کرنا چاہتے ہيں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو روبوٹکس میں دلچسپی ہوگی، تو اسے روبوٹس سے کھیلنے اور انہیں تیار کرنے اور پروگرام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح سمارٹ ڈیوائسز میں دلچسپی رکھنے والے بچوں کو سمارٹ ڈیوائسز کے متعلق سامان دیا جائے گا۔”

تین سال کے بچوں کی کلاسز میں لیگو کے خاص قسم کے بلاکس کا استعمال کیا جاتا ہے جنہيں ڈوپلو (Duplo) کہا جاتا ہے۔ یہ سائز میں عام لیگو کے پرزوں سے بڑے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے چھوٹے بچوں کے لیے ان سے کھیلنا زيادہ آسان اور نگلنا زيادہ مشکل ہوتا ہے۔ ہر سبق میں تین سال کے ان بچوں کو یہ بلاکس دینے کے بعد ان کی مدد سے سائنس اور روزمرہ کی زندگی سے تعلق رکھنے والا کوئی مسئلہ حل کرنے کی ہدایات دی جاتی ہيں۔ اس سرگرمی کا مقصد بچوں کو یہ سکھانا ہے کہ اگر منظم طریقے سے کام کیا جائے تو کسی بھی مسئلے کا حل ممکن ہوگا۔

ایپ سٹوڈیو ون (App Studio I) نامی کلاس میں نو سے دس سال کے بچوں کو سمارٹ فون کی ایپس بنانا سکھایا جاتا ہے۔ تین بچے ایک کانفرنس ٹیبل کے گرد بیٹھتے ہيں، اور ایک انسٹرکٹر انہيں تکنیکی اصطلاحات سمجھاتا ہے۔ ایم آئی ٹی ایپ انوینٹر (MIT App Inventor) نامی اوپن سورس ویب ایپلیکشن کی مدد سے یہ بچے، جن کے پاس کمپیوٹر پروگرامنگ کا پہلے سے کوئی تجربہ نہيں ہوتا، اینڈرائيڈ آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والی سافٹ ویئر ا یپلی کیشن تیار کرتے ہيں۔

آٹھویں جماعت میں پڑھنے والا حماد ایک سمارٹ فون پر اپنی بنائی ہوئی ایپ کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جب وہ سکرین پر دکھائی جانے والی کئی تصویروں میں سے ایک گائے کی تصویر پر کلک کرتا ہے تو اس گائے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ اپنے لیپ ٹاپ پر اس ایپ میں ردوبدل کرنے کے لیے اس کے کوڈ میں کچھ تبدیلی کرنے کے بعد اپنے فون سے بار کوڈ سکین کرتا ہے، جس سے ایپ لیپ ٹاپ کی سکرین پر کھل جاتی ہے۔

چھ سال کے بچے بھی اس ٹول کی مدد سے ویب سائٹ پر اپنی ایپس اپ لوڈ کرسکتے ہیں اور مہینے کی بہترین ایپ کے مقابلے میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔ خان کہتے ہیں، “ان ایپس سے دنیا بدل نہيں جائے گی، لیکن اس سے بچوں کی صلاحیتوں میں اضافہ ضرور ہوگا، خاص طور پر اگر وہ آگے چل کر ٹیکنالوجی سے وابستہ پیشوں میں قدم رکھنا چاہتے ہوں۔ وہ ایسا نہ بھی کرنا چاہیں تو ان کے سوچنے اور کمپیوٹر کی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی صلاحیتیں اور پروگرامنگ کی سمجھ بوجھ دونوں ہی بڑھیں گی۔”

تہہ خانے میں طلباء کے تین گروپس ورلڈ روبوٹ اولمپیڈ (World Robot Olympiad)نامی مقابلے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس سال کا موضوع “غذائی مسائل” ہے۔ بچوں کو عمر کے لحاظ سے مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، اور ہر ٹیم میں دو سے تین افراد اور ایک کوچ شامل ہیں۔ اس مقابلے میں شرکت کرنے والی ٹیموں کو ایک مسئلہ پیش کیا جاتا ہے، جس کے حل کے لیے انہيں ایک روبوٹ ڈیزائن، تیار اور اس کی پروگرامنگ کرنے کو کہا جاتا ہے۔

اس سال منعقد ہونے والے مقابلے کا مقصد کھانے کے ضیاع میں کمی لانے والے روبوٹ کی تخلیق ہے۔ دنیا بھر میں 80 کروڑ افراد بھوک کا شکار ہیں، لیکن اس کے باوجود دنیا میں ایک تہائی کھانا ضائع کردیا جاتا ہے۔ ایان، سیف اور ربیان سات سے بارہ سال کے بچوں کے زمرے میں مقابلہ کررہے ہيں، اور انہیں ایک ایسا روبوٹ بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو کسی فارم میں اگنے والے پھلوں کو رنگ یا معیار کے مطابق چھانٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اس روبوٹ کے سامنے مختلف رنگوں کی اینٹیں رکھی جائيں گی، جن میں سے ہر مختلف رنگ اس فارم پر اگنے والے کسی ایک پھل کی نمانئدگی کرتا ہے، اور اس روبوٹ کا کام ان اینٹوں کو اٹھا کر ایسی جگہوں پر لے کر جانا ہے جہاں ان پھلوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں استعمال میں لایا جاسکے۔

زمین پر ایک رنگ برنگا نقشہ پھیلا ہوا ہے جس میں ایک کالے رنگ کی گرڈ بنائی گئی ہے۔ ایان اس نقشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتا ہے، “ہم ایک ایسا پروگرام بنا رہے ہيں جو یہاں موجود مختلف پھلوں کو چھانٹ سکتا ہے۔ ہر رنگ کا اپنا الگ مطلب ہے، ہرے بلاکس کا مطلب ہے کہ پھل کچے ہیں، نیلے کا مطلب خراب، اور لال کا مطلب تازہ ہے۔ ہمیں روبوٹ کی پروگرامنگ اس طرح کرنی ہے کہ وہ ان کالی لکیروں پر چلتے ہوئے، بلاکس اٹھا کر انہيں درست رنگوں کے لحاظ سے گروسری کی دکان، پکانے کے کمرے، یا بائیوگیس کے پاور پلانٹ تک لے جائے۔” روبوٹ کا کام اس وقت ختم ہوگا جب وہ اپنے کام کے اختتام کے بعد مختص کردہ مقام پر چلا جائے۔

ایان نے مزید بتایا، ” تازے پھل گروسری کی دکان بھیجے جاتے ہيں، کچے پھل پکانے کے کمرے میں، بدصورت پھلوں کو جوس، سلاد یا ملک شیک بنانے کے لیے ایک فیکٹری لے جایا جاتا ہے، اور خراب پھلوں کو بائیوگیس پاور پلانٹ پہنچا دیا جاتا ہے۔”

کمرے کی دوسری طرف کچھ بچے اپنا ماڈل تیار کررہے ہیں۔ یہ بچے 13 سے 15 سال کے گروپ میں حصہ لے رہے ہيں، اور ان کا موضوع “پریسیشن فارمنگ” (precision farming) ہے۔

دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ہر سال غذائی پیداوار میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک طریقہ کار روبوٹس، ڈرونز اور سیٹلائٹس جیسی ٹیکنالوجیز کی مدد سے زرعی زمین کو زیادہ موثر بنانا ہے۔ اس روبوٹ کا کام مختلف فارمز کے کھیتوں میں مٹی کے معیار کے متعلق ڈیٹا حاصل کرنا ہے، جس کی بنیاد پر رنگین اینٹوں کی شکل میں بیجوں کو صحیح مقام پر بویا جاتا ہے۔

تیرہ سالہ سارہ ایک نقشے پر موجود مختلف رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتی ہے، “ہم نے روبوٹ کو اس وجہ سے بہت اونچا بنایا ہے کیونکہ ہم ان سے یہ رکاوٹیں پار کروانا چاہتے تھے۔” وہ روبوٹ کو نقشے کے اوپر رکھتے ہوئے بتاتی ہے کہ اس کی ٹیم نے اسی وجہ سے ان روبوٹس کے پہیے درمیان میں لگانے کے بجائے بازو میں لگائے تھے۔

وہ مزید کہتی ہے، “ابھی روبوٹس کے بازو لگانا اور اس کی پروگرامنگ باقی ہے۔”خان کہتے ہیں،”یہ سننے میں تو بہت آسان لگتا ہے، لیکن اگر آپ اس کا سیٹ اپ دیکھيں تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ درحقیقت بہت پیچیدہ کام ہے۔ اسے سمجھنے میں بہت وقت لگتا ہے، لیکن چاہے آپ مقابلے جیتیں یا نہ جیتیں، یہ سب سے اہم کام ہے۔ سیکھنے کا صحیح تجربہ کسی مشکل چیز کے حل کے لیے جدید ڈیزائن تشکیل کرنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔”

جب ہم نے سارہ سے روبوٹکس کی کلاس میں چھٹی والے روز شرکت کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا “مجھے لیگو اور روبوٹکس کا بہت شوق ہے، اور میں یہاں چار سال سے آرہی ہوں۔” اس کی ساتھ بیٹھی بینش روبوٹکس کی کلاسز لے چکی ہے۔ جب اس نے روبوٹکس کے مقابلے کے بارے میں سنا تو اس نے فوراً اس میں حصہ لینے کا ارادہ کرلیا۔

بچوں کا یہ شوق ان کے پراجیکٹس میں صاف واضح ہے۔ الیکٹرانک پراجیکٹس (آرڈوینو )کی کلاس میں کروائے جانے والے کام کے بارے میں بتاتے ہوئے خان کہتے ہیں، “جب ہم ان بچوں کو سکھاتے ہيں تو ان کی جدت پسندی ان کے کام میں نظر آتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک بچہ سمارٹ سٹریٹ لائٹنگ کے لیے کوئی ڈيوائس بنائے، اور کوئی اور بچہ گھر کے لیے آٹومیٹڈ سیکورٹی الارم ۔”

دنیا بھر میں روبوٹکس کی تعلیم مشہور ہو رہی ہے، لیکن پاکستان میں طلباء زيادہ قدامت پسند مضامین کو ترجیح دیتے ہيں اور بہت ہی کم افراد روبوٹکس کی طرف جاتے ہیں۔ تاہم اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ دنیا بھر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی پیش رفت میں روبوٹکس اور دوسرے شعبہ جات میں روبوٹکس کے انضمام کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ خان کہتے ہيں، “پروگرامنگ لینگوئيجز، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسی چیزیں ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ والدین اور سکولوں کی انتظامیہ کے لیے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وہ جتنی جلدی بچوں کو ان ٹیکنالوجیز سے متعارف کروائيں گے، انہيں اتنا ہی زيادہ فائدہ ہوگا۔”

تحریر: ماہ رخ سرور

Read in English

Authors

*

Top