Global Editions

کمرشل روبوٹس کی طلب نے امریکہ میں بہت سی ملازمتوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے

امریکی صدر کا شاید اگلا ہدف ملکی سطح پر کمرشل روبوٹس کی تیاری میں سرمایہ کاری کرنا اور اضافہ کرنا ہے کیونکہ اس وقت امریکہ میں کام کرنے والے زیادہ تر کمرشل روبوٹس چین سے منگوائے جارہے ہیں۔ امریکہ میں تو کھیتوں سے لے کر تیل نکالنے والی رِگز تک ملک کے زیادہ تر حصوں میں روبوٹک مزدوروں کو خوشدلی سے قبول کیا جارہا ہے۔ لیکن اس سے ٹرمپ کا ملک میں زیادہ سے زیادہ ملازمتیں پیدا کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ کمپنیوں کو روبوٹک مزدور بہت کم قیمت پر پڑتے ہیںلیکن یہ صورتحال نئے صدر کیلئے کافی تکلیف دہ ہے جو کاروبار کے فروغ اور سب سے پہلے امریکہ کے مقبول موقف کے حامی ہیں لیکن یہ صورتحال ان کے موقف کے برخلاف ہیںکیونکہ یہ روبوٹ زیادہ تر چین میں بنتے ہیں۔ روبوٹس کا گاڑیوں کے پرزے جوڑنے کا بڑا طویل ریکارڈ ہے۔ فیکٹری کے ماحول میں روبوٹ کا کام بڑھ رہا ہے لہٰذا انہیں غیر متوقع حالات میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ مثلاً بلوم برگ نے رپورٹ دی ہے کہ جن مقامات پر تیل نکالنے کیلئے ڈرلنگ ہوتی ہے وہاں پر زیادہ تر کاموں کو روبوٹس کے ذریعے خودکار کیا جارہا ہے۔ روبوٹس بھاری بھر کم پائپس اٹھا کر تیل کے کنوئوں میں ڈالتے ہیں۔ ایک تیل کی کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک کنویں پر 20مزدور چاہئے ہوتے ہیں جو مستقبل قریب میں کم ہو کر پانچ رہ جائیں گے۔ اس دوران کھیتوں میں تھکا دینے والے کاموں کو کرنے کیلئے بھی روبوٹس کی طلب بڑھتی جارہی ہے۔ اسی طرح کانکنی کی صنعت میں بھی یہی تبدیلیاں آرہی ہیںاور تعمیراتی کاموں کیلئے بھی روبوٹس کی طلب بڑھتی جارہی ہے۔ اس سارے پس منظر میں یوں لگتا ہے جیسے اچھی خاصی ملازمتیں خطرے میں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ بہت سے روائتی کام روبوٹس کی نظر ہو جائیں گے۔ امریکہ کو شاید اس بارے میں فکر لاحق ہو کہ یہ کام کرنے والے روبوٹس کہاں سے خریدے جائیں گے۔ فرہاد منجو اس بارے میں نیویارک ٹائم میں لکھتے ہیں امریکہ میں کام کرنے والے زیادہ تر روبوٹس چین سے آئیں گے کیونکہ امریکہ میں کمرشل روبوٹس کی تیاری کیلئے اتنی بھاری سرمایہ کاری نہیں کی گئی جبکہ چین میں کمرشل روبوٹس کی فوج کی فوج تیار کی جارہی ہے۔منجو کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ شاید امریکہ میں کمرشل روبوٹس تیار کرنے کیلئے کمپنیوں میں سرمایہ کاری بڑھائیں لیکن اس سے صدر کی ملکی سطح پر ملازمتوں میں اضافے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔

تحریر: جیمی کونڈولف (Jammie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top