Global Editions

بیکٹریا کے جینوم میں مصنوعی تبدیلی

محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ای کولی(E.coli) بیکٹیریا کی تمام جینیات کو لیب میں تیار کی گئی ایک مکمل نقل کے ساتھ تبدیل کر لیا ہے۔ یہ جرثوموں کی تخلیق کی طرف ایک قدم ہے جس میں جینیاتی طور پر مخصوص مواد بنانے والے جیسا کہ کیولر یا دیگر پولیمر بنائے جاتے ہیں۔

کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے نیچر میں رپورٹ کیا کہ کس طرح انہوں نے جرثومے میں آہستہ آہستہ پورا جینوم تبدیل کیا۔ اس میں 4 ملین ڈی این اے لیٹرز ہیں اور مصنوعی طور پر بنائے گئےجینوم ساتھ ہیں۔

برطانیہ کے میڈیکل ریسرچ کونسل کے ایک ماہر حیاتیات جیسن چن کہتے ہیں، “اس کام میں دو سال لگ گئے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں ہم ایک نیا مصنوعی جینوم ایک ماہ سے بھی کم وقت میں تیار کر سکیں۔ اس چیز سےاس فیلڈ میں بڑے پیمانے پر تیزی آئے گی، ہم زیادہ چیزیں بنا سکیں گے اورٹیسٹ کر سکیں گے۔”

پہلے مصنوعی بیکٹیریل جینومز 2008 ء اور 2010 ءمیں جے کریگ وینٹرانسٹی ٹیوٹ میں تخلیق کیے گئے تھے لیکن ای کولی جینوم ،جو کہ سائز میں چار گنا بڑا ہے،نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ایک الگ ادارہ مصنوعی جینز کے ساتھ بیکر کی خمیر پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن یہ منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے۔
ایک بیکٹیریم کے جینوم کو تبدیل کرنے کو بھی چن کی ٹیم نے سادہ کردیا اوراس کےتین لیٹر ڈی این اے کی ہدایت کے سیٹ یا کوڈنز کو تبدیل کیاہے۔ ان سیٹس کو خلیات میں موجود 20 امینو ایسڈ کا تعین کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ایک پروٹین میں شامل کرتے ہیں۔

آخر میں، چن کے ای کولی عام طور پراستعمال کئے گئے64 کوڈنز کی بجائے صرف 61 کوڈنز رکھتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جرثوموں کی نئی اقسام جنہیں Syn61 کہا جاتا ہے، نہ صرف انسا نوں کی طرف سے بنائے گئے جین رکھتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ”کمپریسڈ”(Compressed)جینیاتی کوڈ کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔

چن کا کہنا ہے، ” یہ ایک تکنیکی کامیابی ہے؛ دوسرا یہ آپ کو بائیولوجی کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات بھی دیتے ہیں اور جینیاتی کوڈ کی خرابی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ “

ای کولی کے جینوم کوسادہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ کوڈ کے غیر استعمال شدہ حصے اب دوسری چیزیں کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ مثال کے طور پر، بیکٹریا کاعام طور پر استعمال نہ ہونیوالے امینو ایسڈ پروٹین بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان بیکٹیریا کو غیر معمولی پولیمر کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چن کا کہنا ہے کہ یہ بھی سائنسی سوال ہے۔ 1960ء سےجب سائنسدانوں نے کوڈ کو توڑا، تب سے یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ یہ اس طرح کام کیوں کرتا ہے۔

1968ء میں ڈی این کے کیمیکل سٹرکچرکو دریافت کرنے والے فرانسز کرک نے “فروزن ایکسیڈنٹ ” تھیوری تجویز کی۔ ان کا کہنا ہے کہ زندگی کی ایک بنیادی شکل ایک دفعہ بنی۔ ٹرپل کوڈ ایک جگہ میں لاک ہو گیاکیونکہ یونیورسل پروگرام سے انحراف میں نقصان ہو گا۔ چن نے کہا،”کوڈنز کو ہٹانے سے، ہم مشترکہ زبان کو ہٹا رہے ہیں۔ ہم کوڈ کو ان فریز کر رہے ہیں۔”

تحریر: انٹونیو ری گالڈو

Read in English

Authors

*

Top