Global Editions

سائنسدانوں نے ڈی این اے کے ذریعے مجرموں تک پہنچنے کا نیا طریقہ دریافت کر لیا

جنوبی آسٹریلیا کی فلنڈرز یونیورسٹی میں سائنسدانوں نے ایسا طریقہ دریافت کیا ہے جس کے ذریعے انگلیوں اور جسم کے دیگر حصوں کے چھوڑے گئے نشانات میں ڈین این اے کی مقدار کا تعین ہو سکے گا جو جرائم کو حل کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔تحقیق کے مطابق دروازے کے ہینڈل پر انگلیوں کے جو نشانات رہ جاتے ہیں اس میں دراصل ڈی این اے کی تمام معلومات ہوتی ہیں جن سے مجرموں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی نے اس سلسلے میں گیارہ ڈونرز کی انگلیوں کے 264نشانات لئے۔پھر انہیں ہاتھ دھونے کا کہا گیا جس کے بعد 180منٹ کے وقفوں سے نشانات لئے گئے۔محققین نے دریافت کیا کہ بعض لوگ جب کسی چیز کو چھوتے ہیں تو نشانات کی صورت میں نسبتاً زیادہ ڈی این اے چھوڑتے ہیں۔محققین نے اس سلسلے میں ایک ڈائی بھی تیار کی ہے جس میں دس سیکنڈ کے قلیل وقت میں ڈین این اے کی موجودگی اور مقدار کا تعین کیا جا سکتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین کی نسبت مردوں کے زیادہ مقدار میں ڈی این اے کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں اور ڈی این اے کے سب سے زیادہ درست نشانات انگوٹھے سے حاصل ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے اس تحقیق کے عملی استعمال کیلئے عالمی سطح پر جرائم کے تفتیشی اداروں سے رابطہ کر لیا ہے۔

Authors
Top