Global Editions

ڈاکٹر عبدالسلام کی یاد میں۔۔۔

طبعیات میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام اس تصور پر یقین رکھتے تھے کہ ترقی پزیر ممالک کو چاہیے کہ وہ باہر سے ٹیکنالوجی درآمد کرنے کے بجائے اپنی سائنٹفک ایلیٹ کو ترقی دیں تاکہ وہ جدید علوم خود حاصل کر سکیں اور اس سے بھرپور استفادہ حاصل کر سکیں۔

ڈاکٹر عبدالسلام کے حوالے سے یہ بات ان سے تعلیم حاصل کرنے والے پروفیسر مائیکل ڈف (Michael Duff) نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے زیراہتمام تیسرے ڈاکٹر سلام مموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ یہ لیکچر پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی سالگرہ تقریبات کے سلسلے کی ایک کڑی تھا۔

پروفیسر ڈف جو امپریل کالج لندن میں ڈاکٹر سلام چئیر کے سربراہ بھی ہیں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی خواہش تھی کہ ترقی یافتہ ممالک خود اپنے پیروں پر کھڑے ہوں اور اپنی قسمت کے فیصلے خود کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام اپنا مرکز کسی ترقی پزیر ملک میں بنانا چاہتے تھے تاہم بعد میں انہیں ٓاٹلی منتقل ہونا پڑا کیونکہ وہاں تحقیقی مقاصد کے لئے فنڈنگ کا حصول نسبتاً آسان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1964 میں اپنے قیام کے بعد سے ہی اٹلی میں ڈاکٹر سلام کی جانب سے بنایا جانیوالا انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹکل فزکس ترقی پزیر ممالک میں سائنسی علوم کی ترویج کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام نے سائنسی امور پر حکومت پاکستان کے مشیر کی حیثیت سے بھی ملک میں سائنس کی ترقی کے لئے بھی اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1961 سے 1974 تک اس عہدے پر کام کرتے رہے تھے۔

ڈاکٹر ڈف کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سلام نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی یعنی اپنے ذاتی ریسرچ مقاصد اور ترقی پزیر ممالک کے درمیان سائنسی نالج کی ترویج میں توازن برقرار رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے بھی انہوں نے تھیوریٹکل فزکس کے تحقیقی کام کو آگے بڑھایا۔ ڈاکٹر عبدالسلام اور انکے دو ساتھیوں شیلڈن گلیشہائو (Sheldon Glashow) اور سٹیون وائن برگ (Steven Weinberg) کو 1979 میں مشترکہ طور پر طبعیات کے شعبے میں نوبل پرائز سے نوازا گیا۔

اس موقع پر پروفیسر ڈف نے شرکا کے سوالات کے جواب بھی دئیے اور ڈاکٹر عبدالسلام کے نظریے جس پر انہیں نوبل انعام ملا تھا پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ڈاکٹر سلام کے نظریے پر کام کرنے وہئے اب اب تحقیق کار آگے بڑھ رہے ہیں۔

تحریر: ٹیکنالوجی ریویو پاکستان (TR Pakistan)

Read in English

Authors
Top