Global Editions

ریڈٹ کا آٹو ماڈریٹر کس حد تک موثر ہے؟

آٹو موڈ (AutoMod) نامی ٹیکنالوجی سے وقت کی بچت اور ذہنی امراض کی روک تھام ممکن ہيں، لیکن ابھی بھی انسانی عمل دخل کی ضرورت ختم نہيں ہوئی ہے۔

شگن جھاور (Shagun Jhaver) پچھلے چار سال سے ریڈٹ کے ماڈریٹر کے طور پر کام کررہے ہيں۔ اس دوران انہوں نے متعدد سب ریڈٹس (subreddits) سے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے یا توہین آمیز مواد پر مشتمل ان گنت پوسٹس بلاک کی ہیں۔

جیورجیا ٹیک میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے دوران مشمولات کے ماڈریشن پر کام کرتے ہوئے جھاور کو خیال آیا کہ اگر ان کے پاس ایک آٹومیٹک ماڈریٹر ہوتا تو ان کا کام بہت آسان ہوجاتا۔ اسی لیے انہوں نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ آٹو ماڈ نامی خودکار ماڈریٹر کی ٹیسٹنگ کرنے کی ٹھانی۔

ان کی ٹیم نے ریڈٹ کے کئی صفحات کی ماڈریشن کے علاوہ اس ویب سائٹ کے لاکھوں سبسکرائبرز رکھنے والے مقبول سب ریڈٹس کے 16 دوسرے ماڈریٹرز کو بھی انٹرویو کیا جو ماڈریشن میں آسانی کے لیے آٹوماڈ کا استعمال کرتے تھے۔

عرصہ دراز سے فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے انسانی ماڈریٹرز پرتشدد، نسل پرست اور توہین آمیز مواد کا خاتمہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ ماڈریٹرز کئی کئی گھنٹے نہایت کم معاوضے کے عوض ایسے مشمولات پڑھتے ہیں جن سے اکثر ان کا ذہنی سکون تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔

آٹوماڈریٹرز ماڈریٹشن کے ال منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ریڈٹ کے ایک ریجسٹرشدہ صارف چیڈ برچ (Chad Birch) نے اپنے چینل کی ماڈریشن میں آسانی کے لیے آٹوماڈ نامی ایک ٹول تیار کیا ہے جو کسی بھی صفحے پر پوسٹنگ کرنے کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے الفاظ کی نشاندہی کرتا ہے۔ آٹوماڈ جلد ہی بہت مقبول ثابت ہوگیا اور 2015ء میں ریڈٹ نے اپنی پوری سائٹ پر اس کا استعمال شروع کردیا۔ جلد ہی ٹوئيچ (Twitch) اور ڈسکارڈ (Discord) جیسے گیم سٹریمنگ پلیٹ فارمز نے بھی اس ٹول کو اپنالیا۔

اب سوال یہ ہے کہ آٹوماڈ کس حد تک موثر ثابت ہوسکتا ہے؟ ایک طرف تو یہ ٹول غیرمہذب الفاظ کی نشاندہی کرنے اور ان پر مشتمل پوسٹس کو بلاک کرنے کے لحاظ سے بہت کامیاب ثابت ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، وہ پوسٹ کرنے والوں کو اطلاعات کے ذریعے پوسٹ حذف کرنے کی وجوہات کے متعلق مطلع بھی کرتا ہے۔

اگر اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو یہ کارکردگی بری نہيں ہے۔ جھاور اور ان کی ٹیم کے مطابق مارچ اور اکتوبر 2018ء کے درمیان ریڈٹ پر 22 فیصد، یعنی 1.74 کروڑ پوسٹس، کو حذف کیا گيا تھا۔

لیکن کچھ دیر کے لیے فرض کریں کہ کوئی غیرمہذب لفظ کسی پوسٹ کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہو۔ 2016ء کے صدارتی انتخابات سے پہلے خواتین کے اجسام کے نجی حصوں کو ہاتھ لگانے کے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی باتوں کی مثال لے لیں۔ ایسی کئی پوسٹس ہوں گی جنہيں اس موضوع کے متعلق غیرمہذب الفاظ پر مشتمل کے باعث فلیگ کیا گیا ہوگا لیکن درحقیقت ان میں ایسی کوئی ناقابل قبول بات نہیں ہوگی۔ جھاور کے مطابق اس سے صارفین پریشان ہوں گے اور انہيں ان پوسٹس کی بحالی کے لیے انسانی ماڈریٹرز سے رجوع کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اور اب جب ہم نے ایسے دور میں قدم رکھ لیا ہے جس میں لوگ تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے توہین آمیز مشمولات شیئر کرتے ہيں، آٹوماڈ جیسے ٹولز، جو صرف ٹیکسٹ ہی کو فلٹر کرسکتے ہيں، ناکام ثابت ہوجاتے ہيں۔

دو بڑے سب ریڈٹس کے ماڈریٹر رابرٹ پیک (Robert Peck) کو یہ بات بہت اچھے سے معلوم ہے۔ ان کے ہر پیج پر لاکھوں سبسکرائبرز ہیں جو اتنی زيادہ پوسٹس لکھتے ہيں کہ ان کی چھان بین کرنا کسی انسانی ماڈریٹر کے بس کی بات نہيں ہے۔

آٹوماڈ میں تصویروں کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت موجود نہ ہونے کے باوجود بھی اس سے پیک کا کام بہت آسان ہوگیا ہے۔ وہ بتاتے ہيں کہ ۔”صارفین اکثر اپنی تصویروں میں وضاحت کے لیے ٹیکسٹ شامل کرتے ہيں، جسے چیک کیا جاسکتا ہے۔ ہم ایسے اکاؤنٹس تلاش کرتے ہیں جو سپیم پیدا کرتے ہيں۔ ایسی پوسٹس میں اکثر بریکٹس کا استعمال کیا جاتا ہے اور ہم آٹوماڈ جیسے ٹولز کو اس قسم کے پیٹرنز کی نشاندہی کرنے کی ہدایات جاری کرسکتے ہیں۔ “

ان ٹولز کو جتنا برا بھلا کہا جائے، حقیقت یہی ہے کہ آگے چل کر سوشل میڈیا ماڈریشن کے شعبے میں آٹوماڈ جیسی ٹیکنالوجیز کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔ مشینوں کو مکمل طور پر انسانی زبان سمجھنے میں بہت وقت لگے گا اور ممکن ہے کہ ان ٹولز کے نتائج کبھی بھی سو فیصد درست نہ ہوں، لیکن ان سے انسانوں کا وقت ضرور بچے گا۔ جب ماڈریٹرز صرف حسب ضرورت ہی پوسٹس حذف کریں گے تو ان کا کام زيادہ اہم بھی ہوگا اور انہيں معنی خیز مشمولات کو فروغ دینے کا بھی موقع ملے گا۔

اس کا مطلب یہ نہيں ہے کہ ان ٹولز کی وجہ سے لوگ نقصان دہ یا توہین آمیز مشمولات پوسٹ کرنا بند کردیں گے۔ جب تک انٹرنیٹ قائم و دائم ہے یہ مسئلہ برقرار ہی رہے گا۔ لیکن ان سے قرق ضرور پڑے گا۔ پیک بتاتے ہيں کہ آٹوماڈ کی وجہ سے انہيں پوسٹس ”بیچز میں پراسیس“ کرنے میں بہت مدد ملی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اس ٹیکنالوجی سے بہت کچھ ہوسکتا ہے اور اسے استعمال کرنا بھی بہت آسان ہے۔ مجھے سمجھ نہيں آتا کہ اگر آٹوماڈ نہ ہوتا تو میں اپنا کام کس طرح کرسکتا تھا۔“

تحریر: تانیہ باسو (Tanya Basu)

Read in English

Authors

*

Top