Global Editions

مصنوعی پتے ایجاد کرنے کی دوڑ

ورن شورام کی نئی کتاب Taming the Sun کے اس اقتباس میں، دو حریف سائنسدانوں کی غیرمتوقع ذرائع سے ایندھن بنانے کی کوششوں کی روداد پیش کی گئی ہے۔

1970ء کی دہائی سے سائنسدان ایسی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہيں جس کی مدد سے کاربن ڈائی آکسائيڈ، پانی اور سورج کی روشنی کو فوٹوسنتھیسس، یعنی وہ عمل جس کے ذریعے پودے سورج کی روشنی سے کاربوہائیڈریٹس پیدا کرتے ہیں اور توانائی ذخیرہ کرتے ہيں، کے مقابلے میں زيادہ موثر طریقے سے ایندھن میں تبدیل کیا جاسکے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو مصنوعی پتے کا نام دیا ہے۔

ایک تجارتی طور پر قابل عمل مصنوعی پتے کی تخلیق سے صاف توانائی کو درپیش پیچیدہ ترین مسائل کا حل بھی ممکن ہوسکے گا۔ اس سے نہ صرف شمسی توانائی کو ذخیرہ کرنے کا براہ راست اور کم قیمت طریقہ میسر ہوگا، بلکہ نقل و حمل کی صنعت میں انقلاب لانے والاا کاربن پیدا نہ کرنے والا ایندھن بھی حاصل ہوگا، اور ممکن ہے کہ آگے چل کر ہوائی جہاز کےطویل سفر بھی ماحولیاتی طور پر پائيدار ثابت ہوسکیں گے۔

اس عمل کے دو اہم مراحل ميں قابل قدر پیش رفت ہوچکی ہے۔ سائنسدان پانی کو آکسیجن اور ہائيڈروجن میں تقسیم کرنے کے لیے شمسی توانائی استعمال کرنے والے عمل انگیز مواد تیار کرنے کے علاوہ ایسے دیگر عمل انگیز مواد بھی تخلیق کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں جو ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائيڈ کو ایک ایسے ایندھن میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو کم مقدار میں زيادہ توانائی فراہم کرسکے۔ اب سوال یہ ہے کہ سستے اور وافر مقدار میں دستیاب مواد کو ایک کم قیمت طریقہ عمل میں کس طرح بروئے کار لایا جائے؟

یہ تحریر ماہر طبیعیات اور کونسل برائے خارجہ تعلقات کے فیلو ورن شورام کی نئی کتاب کا اقتباس ہے، جس میں انہوں نے مصنوعی پتہ بنانے اور اسے تجارتی شکل دینے کے خواہشمند دو سائنسدان، کیل ٹیک کے نیتھن لوئيس (Nathan Lewis) اور ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈينیل نوسیرا (Daniel Nosera) کی کوششوں اور موجودہ پیش رفت کے متعلق تفصیلات فراہم کی ہیں۔

حال ہی میں بیورلی ہلز میں ایک خوبصورت سی شام کو کونسل برائے خارجہ تعلقات کے تمام ممبران پیننسولا ہوٹل میں جمع ہوئے، جہاں ایک سائنسدان مصنوعی پتے کے خواب کے متعلق ایک خطاب کرنے والے تھے۔

شرکاء میں شامل ایگزیکٹو اور سابقہ سفیر نہایت بے یقینی کا شکار تھے، اور جب میں نے خطاب کرنے والے سائنسدان کا تعارف پیش کیا، تو وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ شاید وہ توقع کررہے تھے کہ یہ صاحب انہیں فزکس کا ایک نہایت مشکل فہم لیکچر سنانے والے ہیں۔

لیکن اس رات میرے مہمان، کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کیل ٹیک - Caltech) کے پروفیسر نیٹ لوئیس (Nate Lewis) ان کے توقعات کے برخلاف پیچیدہ خیالات کو مختصر اور دلچسپ طریقے سے پیش کرنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ ان کے سفید بالوں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے مصنوعی پتوں کے پیچھے اپنی زندگی کے کتنے سال لگادیے ہيں، اور اس روز انہوں نے یہ کہہ کر تمام سامعین کی دلچسپی حاصل کرلی "اگر آپ بجلی ذخیرہ نہيں کرسکتے ہیں تو چار بجے کے بعد آپ کو بجلی بھی نہيں ملے گی۔"

ان کے مطابق اس ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں فوری طور پر ایسی ٹیکنالوجیز تیارکرنی ہوں گی جو سورج کی توانائی کو ایک ایسے ایندھن کی شکل میں ذخیرہ کرسکیں جسے حسب ضرورت استعمال کیا جاسکے۔ ان کا ترجیحی طریقہ کار ایک نہایت ہی نفیس قسم کا انٹیگریٹڈ شمسی ایندھن کا جنریٹر ہے جو پانی اور سورج کی روشنی استعمال کرکے گیس کی شکل میں ہائيڈروجن اور آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ اس ہائيڈروجن کو گاڑیاں چلانے، گرڈ کے لیے بجلی پیدا کرنے، یا گیسولین جیسے مزید پیچیدہ ایندھن پیدا کرنے کے لیے خام مواد کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

لوئيس، جو وفاقی پیسوں پر چلنے والے جوائنٹ سینٹر برائے مصنوعی فوٹوسنتھیسس (Joint Center for Artificial Photosynthesis) میں بنیادی محقق بھی ہیں، چاہتے ہيں کہ ان کے مصنوعی پتے کی کارکردگی قدرت کے بہترین پودوں سے بھی بہتر ہو۔ پودے کتنے ہی کامیاب کیوں نہ ہوجائيں، حقیقت یہ ہے کہ ان کی سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کچھ خاص اچھی نہيں ہے۔ جس شخص کو فوٹوسنتھیسس کے بارے میں کچھ بھی نہ معلوم ہو، وہ بھی پتوں کے ہرے رنگ کو دیکھ کر بتاسکتا ہے کہ پودے توانائی کی مکمل طور پر موثر تبدیلی کرنے سے قاصر ہیں (اگر پتوں کا رنگ کالا ہوتا تو وہ سورج کی کرنوں کو بہتر طور پر جذب کرپاتے)۔ پتوں کے سیلز کے ہرے رنگ کے کلوروپلاسٹس کی کارکردگی صرف پودوں کی ضرورت پوری کرسکتے ہيں۔ وہ پیچیدہ کیمیائی ردعمل کے ذریعے سورج کی روشنی استعمال کرتے ہوئے کاربن ڈائی آکسائيڈ اور پانی کو پودوں کے زندہ رہنے اور نسل آگے بڑھانے جیسی سرگرمیوں کے لیے ضروری توانائی ذخیرہ کرنے والی شکر میں تبدیل کرتے ہیں، لیکن پودے کتنے ہی موثر ہوں، وہ سورج کی روشنی کے صرف ایک فیصد حصے کو ہی ذخیرہ کردہ توانائی میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہتے ہيں۔

بہرحال، ہرے پودوں کو دیکھ کر سورج کی روشنی کو ایندھن میں تبدیل کرنے کا بنیادی ماڈل مل سکتا ہے۔ پودےضیائی تالیف کے ابتدائی مراحل میں پانی کو تقسیم کرکے ہائيڈروجن اور آکسیجن پیدا کرتے ہيں۔ آکسیجن کرہ زمین میں خارج ہوجاتا ہے جبکہ ہائيڈروجن کو آئندہ کیمیائی ردعمل میں استعمال کرلیا جاتا ہے۔

پانی کی تقسیم کے اس طریقہ کار کو دیکھ کر پہلا سبق یہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ پانی تقسیم کرنے کے کیمیائی عمل، یعنی ہائيڈروجن اور آکسیجن پیدا کرنے والے "آدھےعمل" کے نصف حصوں کو الگ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے آکسیجن کی موجودگی میں ہائيڈروجن جلنے سے محفوظ رہتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ پودوں میں عمل انگیز مواد، یعنی کہ نصف ردعمل کی رفتار میں اضافہ کرنے والے مالیکیولز موجود ہیں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ دونوں نصف ردعمل کو ایک جھلی کی مدد سے علیحدہ رکھا جاتا ہے، جو نہ صرف آکسیجن اور ہائيڈروجن کو الگ رکھتی ہے، بلکہ چارج شدہ آئنز کو بھی گزرنے میں مدد فراہم کرتی ہے، جو چارجز کا توازن برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔

شمسی ایندھن کے جینریٹرز بنانے والے محققین کو اسی طرح پرزے جوڑنے کی ضرورت ہوگی۔ پانی کی تقسیم کے دونوں نصف عمل انجام دینے کے لیے دو مواد کو، جنہيں "فوٹو الیکٹروڈز" کہا جاتا ہے، پانی میں ڈبودیا جاتا ہے، اور وہ روشنی کی شکل میں توانائی جذب کرنے لگ جاتے ہیں۔ ان نصف عمل کی رفتار میں اضافے کے لیے دو عمل انگیز مواد کا استعمال کیا جاتا ہے، اور ایک جھلی کی مدد سے آگ کی روک تھام کی جاتی ہے۔ اس پورے سیٹ اپ کو "فوٹو الیکٹروکیمیکل سیل" کہا جاتا ہے۔

لوئيس 747 کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہيں کہ انسانوں نے پہلے اڑنے والی چڑیاؤں کو دیکھا، اور اس کے بعد پر چھوڑ کر سیدھا ہوائی جہاز ایجاد کرلیا۔ یہی مثال مستقبل کے شمسی ایندھن کے جنریٹرز پر پوری اترتی ہے۔ انسانوں نے پودوں کے کام کرنے کا طریقہ سیکھ تو لیا، لیکن پھر اس کے بعد بہتر کارکردگی کی خاطر اس میں ردوبدل بھی کرڈالی۔ ممکن ہے کہ مستقبل کے شمسی ایندھن کے جنریٹروں میں پودوں کی طرح سورج کے سپیکٹرم کے ایک ہی حصے کو جذب کرنے کے لیے مقابلہ کرنے والے دو ہرے فوٹوالیکٹروڈز کا استعمال نہ کیا جائے۔ بلکہ پانی سے آکسیجن پیدا کرنے والا مثبت برقیرہ سپیکٹرم کے نیلے حصے سے روشنی کے رنگ استعمال کرے گا، جبکہ ہائيڈروجن پیدا کرنے والا منفی برقیرہ سرخ رنگ کے حصے کو جذب کرے گا۔

کم قیمت توانائی پیدا کرنے کے لئے سستے اور وافر مقدار میں دستیاب مواد استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ لیکن فوٹوالیکٹروڈ سیل کی ذمہ داری یہیں ختم نہيں ہوجاتی۔ اگر اس سیل کو کامیاب ہونا ہے تو اسے کم قیمت ہونے کے ساتھ ساتھ محفوظ، موثر اور مضبوط بھی ہونا ہوگا۔ تاہم، اب تک محققین کوئی ایسا آلہ بنانے میں کامیاب نہيں رہيں ہیں جن میں یہ چاروں خصوصیات بیک وقت موجود ہوں۔

 سب سے پہلے تحفظ کی بات کرتے ہيں۔ ہائيڈروجن اور آکسیجن کو مل کر پھٹنے سے روکنے کے لیے فوٹو الیکٹروڈ سیل میں دونوں نصف عمل کو علیحدہ کرنے کے لیے ایک جھلی کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ تاہم پانی سے آکسیجن پیدا کرنے والا نصف عمل اس پانی کی تیزابیت میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ ہائيڈروجن پیدا کرنے والا نصف عمل اس پانی کی اساسیت میں اضافہ کردیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سائنسدانوں کو فوٹوالیکٹروڈز اور عمل انگیز مواد کے لیے ایسے مواد تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو تیزاب یا اساس میں گھل نہ جائيں، اور اس طرح کئی کم قیمت مواد کو استعمال نہيں کیا جاسکے گا۔ لہذا کم قیمت مواد سے شمسی ایندھن کا جنریٹر تیار کرکے اسے محفوظ بنانے کے لیے جھلی سے آراستہ کرنے کا مطلب ہے کہ یہ جنریٹر مضبوطی کے اعتبار سے ناکام ثابت ہوجائے گا۔

اب اس کے بعد سورج کی توانائی کی مقدار کی بات کرتے ہیں جسے ہائيڈروجن کی شکل میں ذخیرہ کردہ توانائی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس اثراندازی کا انحصار فوٹوالیکٹروڈز کے مجموعی طور پر سورج کی روشنی جذب کرنے کی صلاحیت اور دونوں نصف ردعمل کی پانی کی تقسیم کرنے کی رفتار پر ہے۔ اگر فوٹوالیکٹروڈز اور عمل انگیز مواد کا صحیح سے انتخاب کیا جائے تو شمسی ایندھن کے جنریٹر میں 30 فیصد سے زيادہ اثراندازی ممکن ہے۔ مہنگے سیمی کنڈکٹر کی صورت میں کئی مختلف قسم کے مواد استعمال کیے جاسکتے ہيں، لیکن کم قیمت مرکبات کی صورت میں دستیاب مواد کی تعداد محدود ہوگی۔ اسی طرح پلاٹینم جیسی قیمتی دھاتوں کو عمل انگیز مواد کے طور پر استعمال کرنے سے ردعمل کی رفتار میں اضافہ تو ہوجائے ہے، لیکن یہ دھاتیں نایاب ہونے کے علاوہ مہنگی بھی ہیں۔ لوئیس متعدد شعبہ جات میں مہارت رکھنے والے افراد پر مشتمل جس ٹیم کی سربراہی کررہے تھے، اس نے بیک وقت چاروں معیاروں پر پورا اترنے والے مواد تلاش کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حساب کتاب کرنا شروع کیا، اور نہایت منظم طریقے سے ہزاروں مرکبات پیدا کرکے سب سے امیدافزا مواد کی لیب میں ٹیسٹنگ کرنا شروع کی۔

ان کی تحقیق میں سائنسی الہام کے علاوہ خوش قسمتی نے بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی دو مثاليں قابل ذکر ہیں۔ سب سے پہلے لوئیس اور ان کے رفقاء کار نے تیل کی ریفائنریوں میں پیٹرولیم کی مصنوعات سے ماحول میں آلودگی پیدا کرنے والا سلفر نکالنے والے عمل انگیز مواد سے سبق سیکھا۔ یہ عمل انگیز مواد نہ صرف کم قیمت ثابت ہوتے ہيں، بلکہ ہائيڈروجن پیدا کرنے والے نصف ردعمل کی رفتار تیز کرنے میں مہارت بھی رکھتے ہیں (بدقسمتی سے، محققین اب تک آکسیجن پیدا کرنے والے نصف ردعمل کے لیے سستا اور موثر عمل انگیز مادہ تلاش کرنے میں کامیاب نہيں ہوپائے ہیں۔)

دوسری پیش رفت یہ ہوئی کہ غلطی سے نمونوں پر ٹائٹینیم ڈائی آکسائيڈ کی ایک پتلی تہہ لگ جانے کے بعد لوئیس کے لیب کے محققین نے اتفاق سے ایک بہت اہم انکشاف کیا۔ ٹائیٹینیم ڈائی آکسائيڈ دھوپ سے بچاؤ کے کریم کا کلیدی جز ہے، اور سورج کی روشنی کی الٹراوائلٹ شعاعوں سے بچاؤ فراہم کرکے آپ کے جلد کو محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم اس صورتحال میں ٹائٹینیم کی اس پتلی سی تہہ نے فوٹو الیکٹروڈز اور عمل انگیز مواد کو اساسی محلول میں گھلنے سے محفوظ رکھا۔

اس طرح لوئیس اور ان کے ساتھ کام کرنے والے دوسرے ریسرچرز ایک بہت اہم دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 2015ء میں انہوں نے ایک ایسے مربوط شمسی ایندھن کے جنریٹر کا اعلان کیا جس کی سورج کی روشنی کو ہائيڈروجن کے ایندھن میں تبدیل کرنے کی اثراندازی کی شرح 10 فیصد سے زیادہ تھی۔ بڑی بات یہ تھی کہ کیل ٹیک کے آلے میں کم قیمت اور زمین میں وافر مقدار میں پائے جانے والے عمل انگیز مواد کا استعمال کیا گيا تھا، اور وہ دو دن مسلسل استعمال کے بعد ہائيڈروجن پمپ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اپنے خیال کے قابل عمل ہونے کے ثبوت کے طور پر، مستقبل میں ایک تجارتی طور پر قابل عمل مصنوعات کا امکان بھی سامنے آیا۔

اگر یہ ٹیکنالوجی کبھی ایک تجارتی مصنوعات کی شکل اختیار کرجائے، تو ممکن ہے کہ یہ دور دور تک پتوں سے مماثلت نہ رکھیں۔ لوئيس کے خیال میں یہ منصوبہ سورج کی کرنوں کو جذب کرنے کے لیے ایک وسیع و عریض رقبے پر بچھے ہوئے ایک ترپال کی شکل اختیار کرے گا، جس میں تخلیق ہونے والے ہائيڈروجن کو جمع کرنے کے لیے نالیاں لگی ہوں گی۔ اس وقت لوئيس کی ٹیم نے جو پروٹوٹائپ تیار کیا ہے، اس کا حجم صرف ایک مکعب سنٹی میٹر ہے، اور اس قسم کا ترپال بہت دور کی بات ہے، لیکن ان کی بات سن کر آپ کو ان کے مقصد پر یقین آنا شروع ہوجائے گا۔

جستجو

اس ملک کے دوسرے کونے میں ایک اور نامی گرامی سائنسدان بھی مصنوعی پتے کو تجارتی شکل دینے کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ لوئيس کی طرح ہاورڈ یونیورسٹی کے ڈين نوسیرا (Dan Nocera) سائنس اور مواصلت دونوں ہی میں مہارت رکھتے ہيں، اور شمسی ایندھن کے شعبے میں کارل سیگن جیسی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ وہ امریکی فزیکل سوسائٹی کی سائنسی میٹنگز سے لے کر ایسپن انسٹی ٹیوٹ کے نیٹورکنگ کی تقریبات تک، ہر قسم کے لوگوں سے گھل مل کر ان کی دلچسپی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔

لوئیس اور نوسیرا دونوں ہی کے بال سفید ہوگئے ہیں، دونوں ہی سامعین کی دلچسپی حاصل کرنے کی یکساں صلاحیت رکھتے ہيں، بلکہ گریجویٹ سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران دونوں کے سپروائزر بھی ایک ہی تھے۔ تاہم مصنوعی پتے پر دونوں کی سوچ بالکل مختلف ہے، جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان کافی سخت مقابلہ رہتا ہے۔ لوئيس کی مکمل توجہ ہائيڈروجن پیدا کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ نوسیرا ہائيڈروجن کا مرحلہ پیچھے چھوڑ کر ایک ایسا آلہ بنانا چاہتے ہيں جو سورج کی روشنی کو استعمال کرکے آسان کاربن پر مشتمل ایندھن پیدا کرے جو فوری طور پر آج کل کی پیٹرولیم کی مصنوعات کی جگہ لے سکیں

ایک وقت ایسا تھا جب نوسیرا بھی ہائيڈروجن کرنے پر آمادہ تھے۔ 2011ء میں انہوں نے پانی کے ایک گلاس میں ایک گہرے رنگ کے ڈاک کے اسٹامپ سے ملتی جلتی کوئی چيز ڈال کر ہائيڈروجن اور آکسیجن کے بلبلے پیدا کرکے سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچادیا۔ یہ مصنوعی پتہ دیکھنے میں تو بہت سادہ سا تھا، لیکن اس کے پیچھے 30 سال کی تحقیق تھی، جو کیل ٹیک میں نوسیرا کے زمانہ تعلیم سے شروع ہوئی تھی۔ اس اہم دریافت کے بعد انہوں نے اس نئی ٹیکنالوجی کو تجارتی شکل دینے کی کوششیں شروع کردیں۔

اس وقت انہیں احساس ہوا کہ سب سے مشکل کام لیب میں دریافت کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے بعد میں کہا "سائنس میں اہم دریافت کرنے کا مطلب یہ نہيں ہے کہ آپ نے ٹیکنالوجی میں بھی اہم دریافت کرلی ہو۔ اور یہ بات سائنسدانوں اور پروفیسروں کی سمجھ میں اب تک نہیں آئی ہے۔" نامی سٹارٹ اپ کمپنی نے شمسی ایندھن پر کام ترک کرکے پاور گرڈ کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں پر کام کرنا شروع کردیا (2014ء میں لاک ہیڈ نے یہ کمپنی ایک نامعلوم رقم کے عوض خریدلی)۔

ناکامی کا منہ دیکھنے کے باوجود بھی نوسیرا نے اب تک کوششیں کرنا نہيں چھوڑی ہیں۔ ان کا اگلا ہدف سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائيڈ استعمال کرکے کاربن پر مشتمل لیکوئيڈ ایندھن کی تیاری ہے، جو اس سے بھی زيادہ مشکل کام ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے کئی فوائد ہیں۔ مائع ایندھن کے دنیا میں وسیع و عریض انفراسٹرکچر کے نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں جن میں ذخیرہ کرنے کی سہولیات، بین البراعظمی پائپ لائنز اور تیل کے سپرٹینکرز کے علاوہ دنیا بھر میں فلنگ سٹیشنز قابل ذکر ہیں۔ اگر سورج کی روشنی کو ایندھن میں تبدیل کرنے والا کوئی آلہ ایجاد کرلیا جائے تو اس انفرا سٹرکچر سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے۔

لوئیس اس بات پر زور دیتے ہيں کہ سورج کی روشنی سے کاربن استعمال کرنے والے ایندھن پیدا کرنے کا سب سے امیدافزا طریقہ یہی ہے کہ پہلے سورج کی روشنی سے ہائيڈروجن تخلیق کیا جائے۔ اس کے بعد واقف صنعتی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے قدیم جانوروں کے باقیات سے حاصل کردہ ایندھن جلانے والے پاور پلانٹس اور فیکٹریوں سے حاصل کردہ کاربن ڈائی آکسائيڈ اور ہائيڈروجن کے امتزاج سے مختلف اقسام کے کارآمد ایندھن تخلیق کیے جاسکتے ہيں، جنہیں ہائيڈروکاربن کہا جاتا ہے۔ "شمسی ریفائنری" کی مدد سے اتنا ہی ہائيڈروکاربن ایندھن تخلیق کیا جاسکتا ہے جتنا کہ موجودہ تیل کی ریفائنریوں سے ممکن ہے، اور اس کے بعد اس ایندھن کو نقل و حمل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا پلاسٹک سے لے کر ادویات تک کئی مختلف اقسام کی مصنوعات میں بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔

نوسیرا جو کام کرنا چاہا رہے ہیں، وہ اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ وہ ہائيڈروجن کے پیداوار کا درمیانہ مرحلہ چھوڑ کر سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائيڈ استعمال کرتے ہوئے سیدھا کاربن پر مشتمل ایندھن کی تخلیق کے مرحلے پر جانا چاہتے ہي۔ اگر اس کام کو کم قیمت میں اور وسیع پیمانے پر کرنا ممکن ہو تو یہ ایندھنوں کے سب سے بڑی تعداد میں سورج کی روشنی ذخیرہ کرنے کا موثر ترین طریقہ کار ثابت ہوسکتا ہے، جو صرف ایک ہی مرحلے پر مشتمل ہو۔

سائنسی اعتبار سے تو یہ کام بالکل ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ پانی کو تقسیم کرکے ہائيڈروجن اور آکسیجن حاصل کرنا ہی ایک بہت مشکل کام ہے، اور قدرتی گیس ميں شامل ایک کاربن پر مشتمل میتھین جیسے سادہ ہائيڈروکاربن پیدا کرنا اسے سے کہیں مشکل ہے۔ اس کے لیے روشنی جذب کرنے اور کیمیائی عمل کی رفتار میں اضافہ کرنے والے مزید نئے مواد کا انکشاف ضروری ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہائيڈروجن پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں سورج کی توانائی سے کاربن استعمال کرنے والے ایندھن تیار کرنے والی تجارتی ٹیکنالوجی کے امکانات کم ہیں۔

بہرحال، پچھلے تین سالوں میں نوسیرا نے ایک کے بعد ایک کئی ناممکن دریافتیں کردکھائی ہیں۔ سب سے پہلے تو انہوں نے اپنا نظریہ تبدیل کیا، اور مصنوعی آلات استعمال کرنے کے بجائے قدرتی طریقہ کاروں ہی سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ نوسیرا یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ قدرتی طور پر ضیائی تالیف کے عمل میں سورج کی روشنی کو پیچیدہ شکروں میں تبدیل کرنے کے لیے پیچیدہ قسم کے انزائمز کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ انہیں جلد ہی یہ بات سمجھ آگئی کہ جینیاتی طور پر انجنیئرشدہ بیکٹیریا کو موثر انزائمز سے آراستہ کرکے اسی قسم کے نتائج حاصل کیے جاسکتے تھے۔

لہذا 2015ء ميں نوسیرا نے دیگر مصنوعی پتوں کی ٹیکنالوجیز کی طرح ہائيڈروجن تخلیق کرنے کے لیے غیرنامیاتی عمل انگیزمواد کی مدد سے پانی کو تقسیم کرنے والا ہائيبرڈ آلہ بنایا۔ اس کے بعد اسی آلے کے ذریعے مائع ایندھن بنانے والے بیکٹیریا کو ہائيڈروجن اور خالص کاربن ڈائی آکسائيڈ فراہم کیے جاتے ہيں۔ یہ بیکٹیریا کاربن ڈائی آکسائيڈ اور ہائيڈروجن کو مختلف اقسام کے ایندھن میں تبدیل کرنے میں کامیاب تو ہوگئے، لیکن غیرنامیاتی عمل انگیز مادے کی وجہ سے ردعمل کا اظہار کرنے والا آکسیجن بھی پیدا ہوا، جس سے بیکٹیریا کا ڈی این اے تباہ ہوگیا۔

اس کے بعد 2016ء میں نوسیرا اور ان کے رفقاء کار نے سائنس نامی جرنل میں شائع ہونے والے ایک پیپر میں کوبالٹ اور فاسفورس سے بنے ہوئے ایک نئے عمل انگیز مادے کا اعلان کیا، جس سے نہ صرف بیکٹیریا محفوظ رہا، بلکہ قدرتی طور پر پائے جانے والے عمل انگیز مواد کی طرح یہ بیکٹیریا محلول کے باہر خود سے تیار بھی ہوگیا۔ جب عمل انگیز مادہ اور بیکٹیریا ایک ساتھ کام کرنے لگے تو نوسیرا کے آلے کی سورج کی روشنی کو الکوحل پر مشتمل ایندھنوں میں تبدیل کرنے کی شرح 10 فیصد رہی۔ نوسیرا نے بتایا کہ اس بیکٹیریا کو گاڑیوں کے ایندھن سے لے کر مختلف اقسام کے پلاسٹک تک دیگر کئی کاربن پر مشتمل مالیکیولز پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد، 2017ء میں انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عمل انگیز مادے کو بیکٹیریا کے ساتھ استعمال کرکے کرہ زمین میں موجود نائيٹروجن کے ذریعے امونیا پیدا کیا جاسکتا تھا۔  اس وقت موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ کاربن پر مشتمل ایندھن بنانے والے آلات کے مقابلے میں ہائيڈروجن بنانے کے لیے سورج کی روشنی استعمال کرنے والے آلات زيادہ آگے نکل جائيں گے۔

اس بات کا اب تک فیصلہ نہيں ہوپایا ہے کہ کیا نوسیرا کا زندہ حیاتیات کو استعمال کرنے کا فیصلہ ٹھیک ہے یا نہيں۔ بیکٹیریا اپنے ماحول کی تیزابیت اور درجہ حرارت کے معاملے میں بہت حساس ہیں، جس کی وجہ سے ان پر انحصار کرنے والے کسی بھی سسٹم کی تشکیل کرنا آسان نہيں ہے۔ اس وقت موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہی لگ رہا ہے کہ کاربن پر مشتمل ایندھن بنانے والے آلات کے مقابلے میں ہائيڈرجون بنانے کے لیے سورج کی روشنی استعمال کرنے والے آلات زيادہ آگے نکل جائيں گے۔ لیکن جدید مواد اور قدرتی طور طریقوں کے امتزاج سے ممکن ہے کہ ایک نہ ایک دن محققین ہائيڈروجن کو پیچھے چھوڑ کر قدیم جانوروں کے باقیات کے 100 فیصد صاف متبادل تلاش کرنے کا قابل عمل طریقہ ڈھونڈ نکاليں گے۔

تحریر: ورن شورام (Varun Sivaram)

Read in English

Authors
Top