Global Editions

سرمایہ کار کے بانی رابیل وڑائچ کے ساتھ ایک نشست

رابیل وڑائچ سرمایہ کار کے بانی ہیں جو کہ پاکستان میں سٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے وقف ایک ملٹی ملین ڈالر سیڈفنڈ سنڈیکیٹ ہے ۔ وہ اس وقت پٹاری کے عبوری چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ انہوں نے اس سے پہلے مورگن سٹینلی اور جی آئی سی انویسٹمنٹ مینیجمنٹ جیسے سرمایہ کاری بینکنگ اور دوسری نجی ایکوئٹی کے اداروں میں کام کیا ہے۔ انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آ ف ٹیکنالوجی سے اکنامکس میں سپشلائزشن کی ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے پاکستان میں وینچر کیپیٹلزم کی صورتحال اور ابھرتے ہوئی ٹیکنالوجی کی سٹارٹ اپ کمپنیوں کے بارے میں بات کرنے کے لیے ان کے ساتھ ایک نشست کی۔

پاکستان میں وینچر کیپیٹلزم کا کیا سکوپ ہے؟
سب سے پہلے وینچر کیپیٹلزم کے تصور کو سمجھنا ضروری ہوگا کیونکہ پاکستان میں زیادہ لوگوں کو اس کے بارے میں معلوم نہيں ہے۔ وینچر کیپیٹلزم ان ابتدائی مرحلے کے کاروباروں کو دی گئی فنانس کی ایک شکل ہے جن میں بہت زيادہ خطرہ ہوتا ہے، ایسے کاروباروں کے لیے بینک یا قرضوں کے ذریعے رقم حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے، لہٰذا ان کے پاس کمپنی میں ایکویٹی پوزیشن کے بدلے میں سرمایہ کاروں سے فنانس حاصل کرنے کا اختیار موجود ہے۔ اس قسم کی فنانسنگ امریکہ اور دیگر ممالک میں کئی سالوں سے موجود ہے۔

ہمیں امید ہے کہ ہم اور حال ہی میں ابھرنے والے کچھ دوسرے پلیٹ فارمز آخرکار پاکستان میں اس صنعت کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ اب تک پاکستان میں ہم نے جو وینچر کیپیٹل کا کام دیکھا ہے، وہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی معاونت کی شکل میں تھا۔ مثال کے طور پر زمین ڈاٹ کام کی پیرنٹ کمپنی 3 کروڑ سے زائد ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اسی طرح پاک وہیلز اور روزی ڈاٹ پی کے کو بھی رقم ملی۔ اس کے علاوہ دراز ڈاٹ پی کے نے بھی علی بابا کے خریدنے سے قبل پانچ کروڑ ڈالر کے قریب حاصل کیےتھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں وینچر کیپیٹلزم کی سرمایہ کاری کی ابتدائی علامات موجود ہیں۔

ماضی میں لوکل وینچر کیپیٹل فنڈ موجود نہيں تھا۔ زیادہ تر بین الاقوامی فنڈز ایسا مقامی پارٹنر چاہتے ہیں جو نہ صرف فیصلہ سازی میں مدد فراہم کرے، بلکہ انہيں سرمایہ کاری کرنے کے بعد بھی معاونت فراہم کرتا رہے۔ ہم پاکستان میں ایسا ہی کام کرنا چاہتے ہیں، یعنی پاکستان کے لیے مخصوص وینچر کیپیٹل کی کمپنی قائم کرنا چاہتے ہیں جو نہ صرف بین الاقوامی مارکیٹوں کے مقابلے میں خطرے کو کم کرے بلکہ ابتدائی مراحل کے کاروباروں کی مدد کے لیے بہترین طریقے اور مہارت بھی پیش کرسکے۔

سرمایہ کار تخلیق کرنے کے پیچھے کیا سوچ تھی؟
میرا بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ میں پاکستان میں بڑا ہوا اورامریکہ میں تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد میں برطانیہ چلا گیا اور سرمایہ کار بینکوں میں اپنا کیریئر شروع کر دیا۔ 2011ء میں میں ایک نجی سرمایہ کار کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ میں سینڈیکیٹس اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو اکٹھا کرنا چاہتا تھا جو پاکستانی کمپنیوں کی مدد کرسکیں، لیکن میرے پاس کوئی طریقہ نہيں تھا۔

غیر ملکی سرمایہ کار جنہوں نے پاکستان میں کبھی بھی وقت نہیں گزارا، انہيں یہاں سر مایہ کاری کا صحیح پلیٹ فارم معلوم نہيں ہے۔ ان کے لیے پاکستان کے بڑے گروپوں میں سے ایک کے ساتھ تعلقات کام کرنا کافی مشکل ہوسکتا ہے، جن میں 15 یا 16 مختلف کاروباری افراد ہوسکتے ہیں، جس میں سے صرف ایک ہی دوسرے کاروباروں میں سرمایہ کاری کررہا ہو۔

لہٰذا میں نے ان ہم خیال سرمایہ کاروں کو ایک ساتھ لانے کے ارادے سے سرمایہ کار کی بنیاد رکھی، اور مستقبل میں پاکستان میں ابتدائی مراحل کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے معاہدے کے لحاظ سے کام کرنے والے چھوٹے سنڈیکیٹس قائم کرنے کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کیے۔ اب میں خاص طور پر یہ کام کرنے کے لیے پاکستان واپس آچکا ہوں۔ ہم اپنے پہلے فلیگ شپ فنڈ کا اعلان کرنے والے ہیں، جو تقریباً تین کروڑ ڈالر کا وینچر کیپیٹل فنڈ ہوگا۔ ہماری ساری رقم بیرون ملک سے آئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پاکستان میں سب سے بڑی وینچر کیپیٹل کی کمپنی ثابت ہوگی، اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہم سب سے آگے ہوں گے، نہ صرف سیریز سی فنڈ نگ میں بلکہ سیریز اے میں بھی۔

کیا آپ ہمیں پاکستان میں کچھ کامیاب کمپنیوں کی مثال دے سکتے ہیں؟
ایک کمپنی جو صحیح معنوں میں کامیاب ثابت ہوئی ہے وہ زمین ڈاٹ کام ہے۔ یہ ایک ایسی مارکیٹ میں کامیاب ہوئے ہیں جس میں روایتی طور پر پراپرٹی ڈیلر ہی غالب تھے۔ وہ اپنے کاروبار کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں بھی متعارف کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
میں نے آپ کو صرف ایک چھوٹی سے مثال دی ہے۔ اس کے علاوہ دراز ڈاٹ پی کے کی مثال بھی موجود ہے جسے علی بابا نے خریدا ہے، جس سے سرمایہ کاری کے ماحول کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ چین کی سرمایہ کاری میں دلچسپی اور ایک پوری کمپنی کا حصول دو حوالے سے اچھا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کے مالکان نے اپنی کمپنیوں کو فروخت کرنا شروع کردیا ہے، اور دوسرا یہ کہ پاکستان کی ڈیجیٹل سپیس میں چینی دلچسپی حقیقی سرمایہ کاری کی شکل اختیار کررہی ہے۔

دراز کے لیے آ فر کی گئی رقم توقع سے کم ہے، لیکن اس کی کارکردگی اور دوسرے عناصر بہت اہم ہیں۔ مثال کے طور پرعلی بابا نے نہ صرف اس کے پاکستان میں بلکہ کچھ دوسرے ممالک میں دفاتر بھی خریدے ہیں۔

اس توقع سے کم قیمت کے پیچھے کچھ عوامل ہیں جس میں پہلے سے حاصل کردہ رقم خرچ کرنے کا طریقہ شامل ہیں۔ کسی بھی ایکو سسٹم، خصوصی طور پر پاکستان میں سب سے بڑا چیلنج شعور پیدا کرنا ہے۔ پانچ سے سات سال پہلے، ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آپ پاکستان میں چیزیں آن لائن خرید سکتے ہیں۔ اس کے لیے دراز ڈاٹ پی کے نے سب کو آگاہی دی۔ اس کے بعد انہیں دیگر ای کامرس کی کمپنیوں کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑا تاکہ ایک طرف صارفین کو کھینچ سکیں اور دوسری طرف کم منافع پر فروخت ہونے والے اشیاء کے لیے اچھی قیمت حاصل کرسکیں۔ ان کے بنیادی اعداد کے لحاظ سے، میرے خیال سے جتنی رقم ادا کی گئی ہے، وہ بالکل مناسب ہے۔ اس کی قیمت کا تعین کیا گیا ہے، لیکن میرے خیال سے یہ اس رینج کے نچلے حصے پر تھی جس کا انہیں مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔

کیا آپ کے خیال میں اس وقت پاکستان میں سٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے کافی سرمایہ کاری موجود ہے؟
سرمایہ کاری شروع ہو گئی ہے لیکن ابھی کافی نہیں ہے۔ اگر ہم پچھلے سال کی تمام وینچر سرمایہ کاری جمع کریں تو یہ کراچی کی ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کی ایک گلی کی قیمت سے کم ہوگی۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس صنعت نے کتنا زور پکڑا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس حوالے سے کیپیٹل میں کمی کا سامنا ہے، اور ہمارے پاس ایک موقع ہے جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

وینچر کیپیٹل کی صنعت میں آپ کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن آپ اس امید سے کوشش جاری رکھتے ہیں کہ آپ ایک دن کامیاب ہوجائيں گے، اور آپ کو نہ صرف آپ کی سرمایہ کاری کی رقم واپس ملے گے، بلکہ آپ منافع بھی کمائيں گے۔ اس وجہ سے اس صنعت میں خطرے کا عنصر انتہائی اہم ہے۔ تاہم پاکستان میں خطرے مول لینا عام نہیں ہے کیونکہ لوگ روایتی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، اور خطرے والے بزنس ماڈلز کے ذریعے دستیاب مواقع مکمل طور پر نہیں سمجھتے پاتے، جن سے آگے چل کر بیش بہا قیمت وصول کی جاسکتی ہے۔ وینچر کیپیٹلسٹس کی نظر میں، ایسے ایک یا دو کاروبار سامنے آنے سے دیگر پر خطر کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے کا جواز مل جاتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت سٹارٹ اپ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کو کیا مشکلات درپیش ہیں ؟
اس حوالے سے کچھ چیلنجز ہیں۔ سب سے پہلے تو ضروری افرادی قوت کی کمی ہے۔ ہمارے پاس بہت سارے وسائل موجود ہیں لیکن ایسے لیڈرز نہیں ہیں جو کمپنیوں کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے کے قابل ہوں۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم ایسی کوئی انوویشن لائیں جس سے ہم آگے بڑھیں، اور جو قلیل مدتی کی بجائے طویل مدتی فائدہ دے۔ اس حوالے سے ابھی ہم سیکھ رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان بطور ملک اس مرحلے سے نہیں گزرا۔ مثال کے طور پر مجھے اپنے ارد گرد ایسے لوگ نظر نہيں آتے ہیں جن کے بارے میں میں کہہ سکوں کہ فلاں شخص نے یہ کمپنی بنائی، وینچر کیپیٹل اکٹھا کیا، اتنے ممالک میں داخل ہو گیا، اور پھر اسے فروخت کرکے اتنے کروڑ کمائے۔

پاکستان میں اس قسم کی کمپنیاں بنانے والے، یا اس قسم کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد سامنے نہیں آئے ہیں۔ ان میں سے اکثر بیرون ملک بیٹھے ہیں، انہوں نے بہت پیسہ کمایا ہے، اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اب تک پاکستان واپس نہيں آئے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اس قسم کی کسی کمپنی کی ذمہ داری لے کر اسے آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

میرے خیال میں یونیورسٹیوں اور اسکول کے نظام جس طرح لوگوں کو تربیت دے رہے ہیں، اس پر ایک طویل بحث کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم بحثیت قوم کاروباری ذہن رکھتے ہیں، لیکن ہمارے پاس صحیح قسم کی تربیت یا تجربہ نہیں ہے، جو کاروبار کو آگے بڑھانے، رقم جمع کرنے یا سرمایہ کار تلاش کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوگی۔ لہٰذا یہاں مسئلہ تعلیم کا ہے اور یہ مسئلہ سرمایہ کاروں کو بھی درپیش ہوتا ہے۔ جو چند سرمایہ کار سامنے آئے ہیں، وہ وینچر کیپیٹل بزنس سے واقفیت نہیں رکھتےاور عام طور پر اکثریت حصہ داری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ میر ے خیال میں یہ اپروچ کسی بھی کاروباری کمپنی کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔

دوسرا چیلنج یہ ہے کہ وینچر کیپیٹل سے تعلق رکھنے والے ضوابط اور پالیسیاں ابھی تک کچھ کمزور ہیں۔ ان کی صحیح وضاحت نہیں کی گئی ہے اور اسے ایک میوچل فنڈ کے طور پر ہی تصور کیا جاتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے اس میں کشش کم ہو جاتی ہے اور وہ وینچر کیپیٹل فنڈز میں کم رجسٹر ہوتے ہیں۔ ٹیکس اور ضابطے دونوں کے نقطہ نظر سے پاکستان کے باہر فنڈ قائم کرنا زیادہ آسان ہے۔

تیسرا چیلنج یہ ہے کہ ہمیں پاکستان کے اندر سے بھی مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سرمایہ کار ایک حد تک ہی پاکستان آ کر اچھے مواقع دیکھ کر بزنس کے ماحول کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ جب تک مقامی خاندان اور کارپوریشنز سٹارٹ اپ کمپنیوں کو کام نہيں دیں گے یا ان کے ساتھ کام نہيں کریں گے، ایک یا دو سے زيادہ کامیاب کمپنیاں سامنے نہيں آئيں گی۔

2016ء میں فاطمہ گروپ نے میڈیا سٹارٹ اپ کمپنی مینگو باز میں سرمایہ کاری کی۔ کیا آپ کے خیال میں یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقامی کارپوریشنز اس کاروباری ماحول میں دلچسپی لے رہی ہیں؟
میں اس کو کسی سٹارٹ اپ کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے کا نام دوں گا، فاطمہ گروپ کا اپنے وسیع سیٹ اپ اور تجربے کو مختلف کاروباروں میں لگانا نہيں۔ زیادہ تر کمپنیاں اسی طرف پیسہ لگاتی ہیں جہاں ان کے روایتی کاروبار ہوں۔ فاطمہ گروپ کا زراعت میں بڑا تجربہ ہے اور وہ زراعت میں ٹیکنالوجی کے کاروبار میں دلچسپی رکھتے نظر آتے ہیں لیکن انہوں نے ایسے کسی سٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ میرا مطلب کچھ اور ہے۔ انہیں مقامی سٹارٹ اپس کو موقع دینے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ان کو وہ مصنوعات یا خدمات فراہم کر سکیں جو دوسری صورت میں ان کو غیر ملکی وینڈر سے بہت زیادہ رقم ادا کرکے حاصل کرنی پڑے گی۔ اس حوالے سے گراؤنڈ لیول کی پش کی ضرورت ہے۔

بحیثیت ایک سرمایہ کار، میں سمجھتا ہوں کہ کمپنیوں کے لیے فنڈنگ کی بہترین شکل ان گاہکوں سے حاصل ہوتی ہے جو ان کی مصنوعات یا خدمات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم جب تک حکومت پاکستان اور بڑی کارپوریشنز بھی ان کے گا ہک نہیں بن جاتے، ان کمپنیوں کے لیے کاروبار کرنا اور شاید قومی سطح یا بین الاقوامی سطح پر کامیاب ہونا مشکل ہوگا۔

آپ ابھرتے ہوئےانٹر پرینورز کو کیا مشورہ دیں گے؟
میں ان کو مشورہ دوں گا کہ وہ مسائل کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ اس ملک میں بہت سے مسائل ہیں جنہیں کو مقامی طور پر تیارشدہ حل کی ضرورت ہے۔ ہمیں پاکستان کا جدت سازی کا اگلا معرکہ مارنے کے بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان میں رائيڈ شیئرنگ کے پلیٹ فارم کیوں کام کر رہے ہیں؟ اس لیے کیونکہ پبلک ٹراسپورٹ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے پروچیک (ProCheck) نامی کمپنی کو سپورٹ کیا تھا، جو جعلی ادویات کا پتہ لگانے اور برانڈ کے تحفظ میں مدد دیتی ہے۔ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں 30 فیصد صارفین کی مصنوعات جعلی ہیں اور پاکستان میں بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال ہے۔ چند سال قبل، غیر معیاری ادویات کے استعمال سے 100 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ لہٰذا پروچیک ایک مقامی حل ہے جو نہ صرف مینوفیکچررز کو اپنے برانڈ کے تحفظ میں مدد دے رہا ہے بلکہ صارفین کو ایک سادہ ایس ایم ایس پیغام کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرنے بھی مدد دے رہا ہے کہ وہ جو دوائی استعمال کرنے جا رہے ہیں وہ اصلی ہے یا نہیں۔

پٹاری ایک دوسری کمپنی ہے جسے ہم نے سپورٹ کیا اور یہ پہلی کمپنی بنی جس نے فنکاروں کو رائلٹی ادا کرنے کے تصور کو متعارف کرایا۔ اس حوالے سے بھی پٹاری پہلی کمپنی ہے جس نے قانونی طور پر موسیقی کو پلیٹ فارم فراہم کیا اور اس کے پاس پاکستان میں قانونی طور پر حاصل کردہ موسیقی کا سب سے بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے پلیٹ فارم پر 3,000 سے زائد فنکار ہیں۔ پٹاری نے پہلے سے نامعلوم فنکاروں جیسا کہ عابد بروہی کو دریافت کیا، چھوٹی ملازمتیں کرنے والے افراد کو سٹار بنایا جن کے لیے اس صنعت میں جگہ بنانا بہت مشکل تھا۔ اور اس کی توثیق کیا ہے؟ لکس سٹائل ایوارڈز میں پٹاری کی پانچ نامزدگیاں تھیں۔ ممکن ہے کہ تجارتی معنوں میں کسی سرمایہ کار کے لیے اس چیز کی خاص اہمیت نہ ہو لیکن میں جس وجہ سے میں اس بات کو اجاگر کررہا ہوں، وہ یہ ہے کہ ہم نے حال ہی میں سنا ہے کہ ایمی نامزدگیوں کے حوالے سے نیٹ فلیکس ایچ بی او سے آگے نکل چکا ہے۔ کسی ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم کا مواد اور اپنے شو کے اوپر گرفت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ لوگ اسے دیکھنے یا سننے کے لیے تیار ہیں۔ ہم پٹاری کو بھی اسی شکل میں دیکھنا چاہتے ہيں، ایک ایسی کمپنی جو نہ صرف ڈسٹری بیوشن پلیٹ فارم ہو، بلکہ جو اپنا مواد بھی تخلیق کرے، اور جس کا کام سننے والوں سہولیات فراہم کرنا، اور اچھے فنکاروں کو سامنے لاکر ان کی موسیقی پیش کرنا ہو۔

کیا آپ دوسرے وینچر سرمایہ داروں کو کوئی مشورہ دیں گے؟
یہ بات تھوڑی خودغرض لگتی ہے لیکن میرے خیال میں بین الاقوامی وینچر کیپیٹلسٹ کو مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں لوکلائزیشن کی ضرورت اتنی زیادہ ہے کہ بین الاقوامی وینچر کیپیٹلسٹ کے لیے اس وقت تک مالی فوائد حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا جب تک وہ مقامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کام نہیں کرتے۔ میں انہیں ابتدائی طور پر کچھ سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر سرمایہ کاری کرنے کو کہوں گا اور پھر دیکھیں کہ آیا وہ براہ راست رقم ڈالنا چاہتے ہيں یا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا چاہتے ہيں۔ بین الاقوامی سرمایہ کاروں میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ پاکستان میں رقم لگانا خطرے سے خالی نہيں ہے، کیونکہ آپ کو اپنا پیسہ واپس ملک سے باہر نکالنے کی اجازت ملنے میں دشواری ہوگی۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ درست ہے۔ ہمارے ملک کی تاریخ میں، ریاست نے کبھی بھی ایسا طرز عمل نہیں اپنایا کہ سرمایہ کار اپنا پیسہ واپس نہ لے جا سکیں۔ ہاں، کچھ تاخیر ضرور ہوئی ہے لیکن دیگر دوسری مارکیٹوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ پاکستان سرمایہ کاری کے لیے اصل میں بھارت سے بھی زیادہ پرکشش ہے۔ یہاں 100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت ہے، بہت سے ممالک کے ساتھ معاہدے ہیں، سرمایہ کاری کی آمدنی کے لحاظ سے قائم کردہ مناسب پروٹوکول موجود ہیں، اور اس سب کے علاوہ مناسب حکومتی ڈھانچے کو پہلے سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔

وینچر کیپیٹل انڈسٹری اشتراک پر منحصر ہے۔ ہمیں اپنی کامیابیاں اور ناکامیاں دونوں شیئر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بالآخر وینچرکیپیٹلزم اور وینچر صنعت انہی چیزوں کے گرد گھومتی ہے۔ آپ ہر صورتحال میں کامیابی میں حائل مشکلات کے بارے میں پیشگوئی نہیں کر سکتے ہیں کہ کوئی چیز کامیاب ہوگی یا بری طرح ناکام ثابت ہوگی۔ اس سے آپ کو دوسروں کے تجربات سے سیکھنے کا موقع میسر ہوتا ہے۔ سلیکون ویلی آج اس مقام پر اس وجہ سے ہے کیونکہ تمام ہوشیار لوگ شیئرنگ کے لیے ایک سازگار ماحول میں مل کر بیٹھے۔ جب کوئی کام چل پڑتا ہے تو دوسری کمپنیاں اس سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں اور اسی طرح کا کام کرنے کی کوشش کرناچاہتی ہیں۔ اور جب کچھ کام نہیں چلتا، لوگ اس سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی طرح کے کام پر مزید پیسے ضائع نہیں کرتے ہیں۔

مقامی وینچر کیپیٹل انڈسٹری میں اسی قسم کی چیز کی ضرورت ہے۔ ہمیں دوسرے سرمایہ کاروں کے ساتھ اپنے معاملات اور تجربات کا اشتراک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مجموعی طور پر ماحول کو فائدہ پہنچے جس سے سب ہی کو فائدہ ہوگا۔ تاہم یہ ذہنیت پاکستان میں روایتی طور پر پریکٹس کی جانے والی روایات سے بہت مختلف ہے ۔ جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں یہ بتایا گیا کہ ملک میں مجموعی دولت کا ارتکاز 22 خاندانوں کے پاس ہے۔ اب شاید 60 یا 70 خاندان ایسے ہو سکتے ہیں لیکن بہت کم ایسا ہوا ہے کہ ان خاندانوں میں سے کسی ایک نے کسی کمپنی میں شراکت داری کی ہو اور کسی دوسرے خاندان نے ان کو فالو کیا ہو۔ سارا مسئلہ کنٹرول کا ہے کیونکہ وہ اکثریت حصہ چاہتے ہیں۔ وینچر کیپیٹل میں اگر آپ کنٹرول پوزیشن لے رہے ہیں تو آپ بانیوں کی ٹیم کو مکمل طور پر ختم کر رہے ہیں۔ اور اس چیز سے کام نہیں چلتا۔ اس سے پہلے کسی ماحول میں ایسا کام نہیں ہوا ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ پاکستان میں بھی اس قسم کا کام کامیاب ثابت ہوگا۔

تحریر: ماہ رخ سرور

Read in English

Authors
Top