Global Editions

حکومت پنجاب نے آخرکار کرونا وائرس کے لیے اقدام کرنا شروع کردیے، لیکن کیا اب بہت دیر ہوچکی ہے؟

ہسپتالوں میں افراتفری، سہولیات کی عدم دستیابی، اور عوام الناس میں آگاہی کی کمی کرونا وائرس کے بحران کی شدت میں اضافے کی وجہ بن رہے ہيں۔

24 مارچ کی دوپہر تک پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے انفیکشن COVID-19 کے شکار افراد کی تعداد 903 تک پہنچ گئی، جن میں سے 265 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اس وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے 23 مارچ کو صوبے بھر میں 6 اپریل تک ”جزوی لاک ڈاؤن“ کا اعلان کردیا۔

15 مارچ کو حکومت پنجاب نے ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے سیکشن 144 کا نفاذ کیا اور صوبے بھر کے تمام تعلیمی اداروں اور اجتماعی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی۔ اس کے علاوہ، شہریوں کو کرونا وائرس کے بچاؤ کے لیے اقدام کرنے اور خود کو دوسروں سے علیحدہ رکھنے کی ہدایات دی گئيں۔ تاہم ان تمام پالیسیوں کے باوجود COVID-19 کے شکار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔

ہسپتالوں میں افراتفری

حکومت پنجاب COVID-19 پر قابو پانے کے لیے پھرتی دکھا رہی ہے، لیکن کچھ روز قبل تک انہيں بروقت اقدام نہ کرنے کی وجہ سے خاصی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ لیکن حکومت نے پچھلے چند دنوں میں جو اقدام اٹھائے ہیں، ان میں منصوبہ بندی کا فقدان صاف نظر آرہا ہے۔

لاہور کے بڑے ہسپتالوں کی صورتحال دیکھ کر یہ بات واضح ہے کہ حکومت COVID-19 کے پھیلاؤ کے لیے بالکل بھی تیار نہيں ہے۔ اس کے علاوہ، ان ہسپتالوں میں موجود صورتحال کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کرونا وائرس قابو میں آنے کے بجائے مزید پھیلتا چلا جائے گا۔

لاہور میں واقع سروسز ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے وابستہ ڈاکٹر انوشہ شمون ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتی ہيں کہ ہسپتالوں کو مریضوں کی علامات چیک کرنے کے بعد انہيں علیحدگی کے وارڈز میں بھیجنے کی ہدایات جاری کی گئی ہيں، جہاں ان سے سیمپلز حاصل کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مریضوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ ہسپتال میں موجود وسائل کم پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔

وہ کہتی ہيں کہ ”ہمیں ٹیسٹنگ کٹس ملنے سے پہلے ہی مریض سکریننگ کروانے پہنچ گئے اور ہم سے بدتمیزی کرنے لگے۔ انہيں یہ بات سمجھ نہيں آرہی تھی کہ ہمارے پاس موجود وسائل اس بحران سے نمٹنے کے لیے کافی نہيں ہیں اور ہم صرف محدود افراد ہی کی سکریننگ کرسکتے ہيں۔“

اس وقت سروسز ہسپتال میں صرف ان افراد کی ٹیسٹنگ کی جارہی ہے جن کی علامات شدت اختیار کرچکی ہيں یا جنہوں نے حال ہی میں بیرون ملک سفر کیا ہو۔ ڈاکٹر شمون بتاتی ہیں کہ ”پچھلے ہفتے میرے پاس ایک مریض آیا جو ٹیسٹنگ کروانا چاہ رہا تھا اور اس نے ہمیں بتایا کہ وہ حال ہی میں چین سے لوٹا تھا۔ تاہم جب ہم نے تفتیش کی تو ہمیں معلوم ہوا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔“

تاہم صحت کے ماہرین کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے علیحدگی کے وارڈز کے لیے خصوصی عمارتیں مختص کرنے کے بجائے انہیں ہسپتالوں کے اندر ہی قائم کیا جارہا ہے۔ اس سے مریضوں اور ہسپتال کے عملے، دونوں ہی کی گھبراہٹ میں اضافہ ہورہا ہے۔

گنگارام ہسپتال میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے ہسپتال کے بیچوں بيچ واقع انتہائی نگہداشت یونٹ کے ساتھ چھ بستروں پر مشتمل علیحدگی کا وارڈ قائم کیا گیا ہے۔ پچھلے ہفتے یہاں ایک خاتون کو لایا گیا جن میں کرونا وائرس کی علامات واضح تھیں اور جو حال ہی میں بیرون ملک سفر کے بعد پاکستان لوٹی تھیں۔ انہوں نے ایک نجی لیب سے اپنی ٹیسٹنگ کروائی تھی اور ان کے گھر والے گنگارام ہسپتال میں ان کے قرنطینہ کی ضد پکڑے ہوئے تھے، لیکن انہیں ہسپتال میں داخل کروانے کے بعد ان کے گھر سے ان کا خیال رکھنے کوئی نہيں آیا۔ دوسرے مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہسپتال کا عملہ سہولیات کے فقدان کے باعث ان سے دور رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنے گھر والوں کی غفلت اور عملے کی مصروفیت دیکھ کر ان خاتون نے پورا دن ہسپتال سر پر اٹھائے رکھا۔ اگلے روز ان کے ٹیسٹ کے نتائج منفی نکلے اور انہيں ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گيا۔

ڈاکٹرز کو سہولیات کی عدم فراہمی

سروسز اور گنگارام ہسپتال کی طرح جناح ہسپتال کا کرونا وائرس وارڈ بھی ہسپتال کی مرکزی عمارت کے اندر ہی قائم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اس قسم کے سیٹ اپ کے باعث یہ مرض پورے ہسپتال میں بڑی آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

پچھلے ہفتے، جناح ہسپتال کے ایک مریض میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اسے فوری طور پر انتہائی نگہداشت یونٹ منتقل کردیا گيا، لیکن دو روز بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ ایمرجنسی روم کے ڈاکٹرز، عملہ اور دوسرے مریض حفاظتی سامان کے بغیر ہی اس مریض کے قریب موجود تھے اور کسی کو خود کو قرنطینہ کرنے کے متعلق ہدایات جاری نہيں کی گئیں۔

جناح ہسپتال کے متعدد ڈاکٹرز اس صورتحال سے خوش نہيں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس اس مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز کے ذریعے دیگر عملے کے علاوہ دوسرے مریضوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جنہيں COVID-19 کا سب سے زيادہ خطرہ ہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہيں کہ ڈاکٹرز کو بنیادی حفاظتی سامان کی عدم فراہمی کے باعث انفیکشنز کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ممکن ہے۔ کئی ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز میں سکریننگ کے لیے کوئی علیحدہ جگہ نہيں بنائی گئی ہے، جس کے باعث یہ مرض بڑی جلدی دوسرے مریضوں تک پھیل سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کا شکار ہونے کے لیے کسی بھی متاثرہ شخص کے ساتھ چھ منٹ گزارنا کافی ہے۔ لیکن ہسپتال سے نکلنے کے لیے 30 منٹ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ کرونا وائرس کے وارڈز کو علیحدہ نہ کرنے کی وجہ سے عمارت میں موجود کوئی بھی شخص اس انفیکشن کا شکار ہوسکتا ہے۔

نوجوان ڈاکٹرز کی ہڑتال

پنجاب کے نوجوان ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے 17 مارچ کو ہڑتال کا اعلان کیا اور ہسپتالوں کےآؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (او پی ڈی) بند کردیے۔ انہوں نے ٹیسٹنگ کے کٹس اور حفاظتی سامان کی عدم فراہمی کی صورت میں تعلیمی ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز بند کرنے کی بھی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔

صوبہ پنجاب کی وزیر برائے صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس ہڑتال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ”ان نوجوان ڈاکٹروں کو شرم آنی چاہیے۔ ہمارا ملک بحران کا شکار ہے اور اپنے ہم وطنوں کی مدد کرنے کے بجائے وہ ہسپتال بند کر کے بیٹھے ہیں۔“

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور سے ملاقات کے بعد ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال منسوخ کردی۔ گورنر نے ڈاکٹروں سے اس وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا وعدہ بھی کیا۔

ایمرجنسی وارڈز میں اس وقت عام اوقات سے دگنے مریض اور ان کے اٹینڈنٹس موجود ہيں اور نوجوان ڈاکٹرز بتاتے ہيں وہ بار بار ہسپتالوں سے ذاتی تحفظ کے لیے سامان کی درخواست کرچکے ہيں۔ وہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال میں شرکت کرنے والے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ”وہ یہ بات بالکل بھی ماننے کو تیار نہيں ہیں کہ تمام مریضوں کی ٹیسٹنگ اور تمام ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔ جب تک ہم ہر مریض کو ٹیسٹ نہيں کریں گے ہمیں معلوم ہی نہيں ہوگا کہ کون اس وائرس کا شکار ہے اور کون نہيں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی مریض میں علامات کی شدت کم ہو لیکن اس کے ذریعے یہ مرض کسی دوسرے شخص کو لگ جائے اور اس کی علامات شدت اختیار کرلیں۔“

ڈاکٹرز مزید بتاتے ہيں کہ حکومت کے ہاتھ کھڑے کرنے کے بعد انہوں نے خود ہسپتال کو بنیادی سامان مہیا کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ چند ہسپتالوں کے پروفیسروں نے اپنی جیب سے ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو گوگلز، گاؤن، اور ماسک خرید کر دیے۔ اس وقت پورے ملک میں سرجیکل ماسکس کی تنگی ہے اور N-95 ماسکس صرف بلیک مارکیٹ ہی کے ذریعے دستیاب ہیں۔

معاملے کی سنجیدگی سے انکار

حکومت پنجاب کو اس بحران کے متعلق غیرسنجیدہ بیانات کے باعث بھی تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق ”پیناڈول کی گولیوں سے کرونا وائرس کا علاج ممکن ہے“ جبکہ گورنر صاحب کا خیال ہے کہ اسے ”گرم پانی“ پی کر ختم کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ، متعدد ڈاکٹرز بتاتے ہيں کہ صوبے کے حکام متاثرہ افراد کی درست تعداد بتانے سے کترا رہے ہيں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بہت کم مریضوں کی ٹیسٹنگ کی جارہی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ہسپتالوں کو ”خوف پھیلانے سے گریز“ کرنے کی ہدایات جاری کی ہيں۔

جناح ہسپتال کی ڈاکٹر ابیرہ وجاہت ربانی ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتاتی ہیں کہ ”حکومت بڑے بڑے دعوے کررہی ہے لیکن ہمارے ہسپتال میں ایسا کچھ بھی نہيں ہے۔ مریضوں کی تعداد کم کر کے بتائی جارہی ہے۔ ہمارے پاس تشخیصی سہولیات موجود نہيں ہیں اور ہم کرونا وائرس کے شکار افراد کی نشاندہی نہيں کرپارہے ہيں۔“

ڈاکٹر ربانی کا خیال ہے کہ مریضوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زيادہ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ”لاہور میں ہی ہزاروں مریض ہوں گے۔“

وہ مزيد بتاتی ہيں کہ ”ہسپتالوں کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، لیکن درحقیقت یہ وبا ان کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ مریضوں کو آئی وی انجیکشنز لگانے والی نرس، خون کے سیمپلز حاصل کرنے والا عملہ، سب ہی کو خطرہ ہے۔ اور حکومت کچھ نہيں کررہی۔ میں پاکستان تحریک انصاف کی بہت بڑی حامی ہوں، لیکن مجھے ان کی کارکردگی دیکھ کر بہت مایوسی ہورہی ہے۔“

خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہيں

ڈاکٹروں کو ڈر ہے کہ متاثرہ افراد سے رابطے کی وجہ سے یہ وائرس مزید پھیلتا چلا جائے گا۔ کرونا وائرس کی انکیوبیشن کی میعاد 14 روز ہے، یعنی علامات ظاہر ہونے میں 14 روز لگتے ہيں۔ اس دوران متاثرہ شخص کیریئر (carrier) بن جاتا ہے، یعنی ان کے ذریعے یہ وائرس دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے 17 مارچ کو قوم سے ایک خطاب میں کہا کہ ”کرونا وائرس دوسرے ممالک میں بھی بڑی تیزی سے  پھیل رہا ہے۔ ان کے پاس ہم سے بہتر طبی سہولیات ہیں، اور اسی لیے ہمیں توقع ہے کہ یہ وائرس پاکستان میں زيادہ پھیلے گا۔“ اس خطاب میں وزیراعظم نے اپنا تکیہ کلام ایک بار بھر دہرایا: ”آپ نے گھبرانا نہيں ہے۔“

حکومت سندھ نے چند روز پہلے صوبے بھر میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور وفاق سے بھی اسی قسم کے اقدام کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ 22 مارچ کو عمران خان نے ایک بار پھر قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ”لاک ڈاؤن کسی بھی صورت ممکن نہيں ہے۔“ دو روز بعد حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں ”جزوی لاک ڈاؤن“ کا اعلان کردیا۔

ان بار بار تبدیل ہونے والے بیانات کے باعث حکومت کے کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے ارادوں کے متعلق  کئی شک و شبہات کھڑا ہونا شروع گئے ہیں۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عدم یقینی کے باعث بحران کی شدت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے گی۔

میو ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرانٹینڈینٹ ڈاکٹر رضوان سیگل بتاتے ہيں کہ انکیوبیشن کی میعاد کے باعث COVID-19 کا خطرہ لوگوں کے تصور سے کہیں زيادہ ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے ان کیریئرز کی تعداد دوسروں سے کہیں زیادہ ہیں جن میں علامات سامنے نہيں آتے۔

وہ کہتے ہيں کہ پاکستان کی آبادی کا بیشتر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی قوت مدافعت دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسے لوگوں میں کیریئر ہونے کے باوجود اکثر علامات سامنے نہيں آتیں، لیکن ان کی وجہ سے دوسروں کو کرونا وائرس کا شکار ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لاہور کے پاس اس قسم کی وبا سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہيں ہے۔ میو ہسپتال کی مثال لے لیں، جہاں 50 میں سے صرف ایک مریض کو داخلہ دیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر سیگل مزید بتاتے ہيں کہ جن ممالک میں ہیلتھ کیئر کے سسٹمز پاکستان سے بہتر ہیں، وہاں بھی شرح اموات دو فیصد سے کم نہيں ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”خدا نہ کرے، اگر پاکستان کی چار فیصد آبادی ہی کرونا وائرس کا شکار ہوجائے، تو اس کا مطلب یہ کہ 80 لاکھ افراد متاثر ہوں گے، جو کوئی چھوٹی بات نہيں ہے۔ اور دو فیصد شرح اموات کا مطلب ہے کہ 160،000 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔“

وسائل کا استعمال

وزیراعلی پنجاب نے COVID-19 کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے صوبے کے لیے پانچ ارب روپے کے فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ لاہور میں ایک ہزاروں بستروں کا عارضی ہسپتال قائم کیا گيا ہے۔ اس کے علاوہ مظفرگڑھ اور راول پنڈی میں بھی کرونا وائرس کے لیے مخصوص ہسپتال اور صوبے کے تمام اضلاع میں 41 یونٹس قائم کیے جاچکے ہيں۔

20 مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران نیشنل ڈساسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (National Disaster Management Authority) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مختلف ذرائع سے 1.2 کروڑ ماسکس حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے اور لاکھوں ماسکس کے آرڈرز دیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز کے لیے 12،000 میڈیکل سوٹس اور لاکھوں N95 ماسکس حاصل کیے گئے ہيں۔

ان کے مطابق پاکستانی ہسپتالوں میں 1،700 کے قریب وینٹی لیٹرز ہیں جن میں سے 600 وینٹی لیٹرز نجی ہسپتالوں میں ہیں۔ دنیا بھر میں وینٹی لیٹرز کی کمی کے باوجود پاکستان چینی حکومت کی مدد سے 800 وینٹی لیٹرز حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ لیفٹیننٹ جنرل افضل نے مزید بتایا کہ جلد ہی مزید ٹیسٹنگ کٹس جاصل کیے جائيں گے، جن کی بدولت 90،000 مریضوں کی ٹیسٹنگ ممکن ہوگی۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (National Institute of Health) کے مطابق پاکستان نے چین سے پولیمریز چین ری ایکشن (polymerase chain reaction) ٹیسٹنگ کٹس حاصل کیے ہیں جنہيں ملک بھر کے ہسپتالوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور پنجاب یونیورسٹی بھی ٹیسٹنگ کٹس کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم قیمت ٹیسٹنگ کٹس بنانے کی کوشش کررہے ہيں۔

تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی وسائل فراہم نہيں کیے جارہے۔ ایک عام سرکاری ہسپتال میں میڈیکل آئی سی یو میں 18 بستر اور سرجیکل آئی سی یو میں پانچ بستر ہوتے ہيں، اور ان کے پاس اکثر وینٹی لیٹر موجود نہيں ہوتا۔ مثال کے طور پر، جناح ہسپتال میں صرف ٹین آئی سی یو ہیں، لیکن ان میں اس وقت نئے مریضوں کی گنجائش نہيں ہے۔ دوسری طرف میو ہسپتال میں ڈاکٹروں کو 24 گھنٹوں میں صرف ایک ہی ماسک دیا جاتا ہے، جسے صرف ایک گھنٹے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، جس کے بعد اسے پھینکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہسپتال کےعملے کے مطابق انہيں مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز کا انتظام کرنے کے لیے بھی وسائل فراہم نہيں کیے گئے، جس کے باعث انہيں مالی سکت رکھنے والے مریضوں کو نجی ہسپتال بھیجنا پڑ رہا ہے۔ دوسرے مریضوں کو اپنے اپنے گھر بھیجا جارہا ہے۔

جو افراد نجی لیبس کے اخراجات برداشت کرسکتے ہيں، وہ وہاں سے ٹیسٹنگ کروارہے ہيں۔ مثبت نتائج کی صورت میں ان کا ہسپتال میں دوبارہ ٹیسٹ کروایا جاتا ہے اور ان کے سیمپلرز اسلام آباد میں حکومت کی طرف سے نامزد کردہ لیباریٹری کو بھجوائے جاتے ہيں۔

ڈاکٹر سیگل بتاتے ہيں کہ ”بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ نجی لیب کے ٹیسٹس کے مثبت نتائج کے بعد ہسپتال کے ٹیسٹس میں منفی نتیجہ نکلے۔ ان میں سے کچھ کیسز کو ’منفی کرونا وائرس مریض ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔“

بے عملی کی بھاری قیمت

حکومت مریضوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کو کسی طرح سنبھالنے کے طریقے ڈھونڈ رہی ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو ملک کو بہت پہلے لاک ڈاؤن کرنا چاہیے تھے۔ نوجوان ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر حسن بٹ کہتے ہيں کہ ”پاکستان کی صورتحال دوسرے ممالک سے کئی درجہ بدتر ہے۔ یہاں کافی عرصہ پہلے لاک ڈاؤن لگ جانا چاہیے تھے۔“

ڈاکٹر انوشہ شمون اس رائے سے متفق ہيں۔ وہ کہتی ہيں کہ ”اگر مریضوں کی تعداد میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہے اور وینٹی لیٹرز کی نوبت آجائے تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام ناممکن ہوجائے گی۔“

ہیلتھ کیئر کے ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت نے عوام کو آگاہی کی فراہمی میں بہت غفلت برتی ہے۔ اس کے نتیجے میں لوگ خود کو دوسروں سے دور کرنے جیسے حفاظتی اقدام کے بارے میں سنجیدہ نہيں ہیں۔

ڈاکٹر شمون کہتی ہيں کہ ”اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے، لیکن یہ صرف اسی صورت ممکن ہوگا اگر سخت اقدام کیے جائيں۔  لوگ سڑکوں پر پہلے کی طرح گھوم پھر رہے ہیں اور اپنی عام روٹین جاری رکھے ہوئے ہیں۔“

ڈاکٹروں کے مطابق ایسے کئی لوگ موجود ہیں جنہیں ٹی وی، سوشل میڈیا، اور موبائل فونز تک رسائی حاصل نہيں ہيں۔ کچھ کا خیال ہے کہ ہسپتالوں میں بھی آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سیگل کہتے ہيں کہ ”ہمیں لاؤڈ سپیکرز پر اعلان کرنا چاہیے تاکہ ایمرجنسی روم میں مریضوں کے ساتھ آنے والے اٹیننڈینٹس کو خطرے کا علم ہوسکے۔ مریض ایک بیماری لے کر آتے ہيں لیکن انہيں ہسپتال میں رہ کر دوسری بیماریاں لگ جائيں گی۔ اس کے علاوہ ہمیں پوسٹرز، بینرز وغیرہ بھی لگانے چاہیے۔“

وہ مزيد کہتے ہيں کہ ”لوگ سمجھتے ہيں کہ اللہ بچانے والا ہے اور انہيں خود سے حفاظتی اقدام کرنے کی کوئی ضرورت نہيں ہے۔ اس وبا کے باوجود ملک بھر کی ہر مسجد میں جمعہ کی نماز اسی طرح باجماعت پڑھائی گئی اور وہاں موجود ہر نمازی اپنے گھر والوں کو بیمار کر رہا ہے۔“

کچھ روز پہلے تک کرونا وائرس کے باعث اٹلی میں ہر دو منٹ بعد ایک شخص موت کا شکار ہورہا تھا۔ ڈاکٹر سیگل کہتے ہيں کہ ”انہوں نے بھی شروع میں خود کو دوسروں سے علیحدہ نہيں کیا، اور اب ان کا حال دیکھيں۔ اگر ہم بھی اسی راہ پر چلتے رہے تو ہم خود کو حد سے زیادہ نقصان پہنچائيں گے۔“

تحریر: عروج خالد، کنور خلدون شاہد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top