Global Editions

مستقبل کے لیے ضروری صلاحیتوں کا فروغ

ورلڈ اکنامک فورم (World Economic Forum) کے چیئرمین ڈاکٹر کلاؤس شواب (Klaus Schwab) نے ڈیجیٹل، طبیعیاتی اور حیاتیاتی شعبہ جات کے امتزاج سے وابستہ ٹیکنالوجیکل تبدیلیوں کو بیان کرنے کے لیے”چوتھے صنعتی انقلاب“ (Fourth Industrial Revolution – 4IR) کی اصطلاح ایجاد کی تھی۔ گوگل ٹرینڈز کے نتائج کے مطابق پچھلے چند سالوں کے دوران اس اصطلاح میں دلچسپی بڑھی ہے، اور اس کی سب سے زیادہ سرچز 2019ء میں سامنے آئی ہيں۔

4IR کے باعث ہمارے کام کرنے، زندگی گزارنے، اور ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کے طریقوں میں انقلاب آئے گا، اور اسی لیے ہم پورے اعتماد سے کہہ سکتے ہيں کہ دنیا ایک بار پھر دوراہے پر آکھڑی ہوگئی ہے۔ دنیا بھر میں، اقوام متحدہ میں، ورلڈ اکنامک فورم پر، یہاں تک کہ نمایاں مینیجمنٹ کی کنسلٹنسیز میں یہ مسئلہ اٹھایا جارہا ہے۔ تاہم ہمارے یہاں قومی سطح پر اس موضوع کو زیادہ اجاگر نہيں کیا جارہا ہے، اور پاکستان جیسے ملک میں، جس کی دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ نہایت پریشان کن صورتحال ہے۔

آٹومیشن سے ہمارے کام کرنے کا طریقہ تبدیل ہوتا جارہا ہے، جس کے باعث ملازمت کے لیے درکار صلاحیتوں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ تاہم پاکستان میں نظام تعلیم اب تک اس تبدیلی کا سامنا کرنے سے قاصر ہے۔ اس وقت تعلیمی اداروں میں جو پڑھایا جاتا ہے، اس میں اور مستقبل کے لیے ضروری صلاحیتوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ جس رفتار سے کام کی نوعیت میں تبدیلی آرہی ہے، موجودہ نصاب اور پالیسیوں کی اس رفتار سے تجدید نہيں ہورہی ہے۔

نمایاں نجی اور سرکاری یونیورسٹیوں میں لیکچرارز کی ذمہ داریاں نبھانے کے دوران، ہم اکثر نوجوانوں سے بات کرتے ہيں اور انہيں رہنمائی فراہم کرتے ہيں۔ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں طلباء کو آہستہ آہستہ مستقبل کے لیے ضروری صلاحیتوں، جیسے کہ بگ ڈیٹا، انٹرنیٹ آف تھنگز، مشین لرننگ، مصنوعی ذہانت وغیرہ، سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ تاہم 4IR میں کامیاب ہونے کے لیے کلیدی ‘انسانی’ صلاحیتوں پر توجہ نہيں دی جاتی۔ پاکستانی نقطہ نظر سے، ہمارے معاشرے اور اجتماعی مستقبل پر اس موضوع کے اثرات کے متعلق بحث ابھی شروع ہی ہوئی ہے۔

اس وقت معلومات کی منتقلی اور ‘تکنیکی’ صلاحیتوں پر تو بہت زور دیا جاتا ہے لیکن ان غیرتکنیکی صلاحیتوں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے جو مستقبل میں بہت فائدہ مند ثابت ہونے والی ہیں۔ یہ غیرتکنیکی صلاحیتیں پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے مزید ضروری ہوتی جارہی ہيں۔ بلکہ انہیں اس قدر اہم سمجھا جاتا ہے کہ اب کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈارٹ ماؤتھ کالج کے صدر ہینلن (Hanlon) کی تجویز کے مطابق ان صلاحیتوں کا نام تبدیل کرکے ‘پاور سکلز’ (power skills) رکھ دینا چاہیے۔ 2008ء میں گوگل نے پراجیکٹ آکسیجن شروع کیا جس کی مدد سے ایک اچھے مینیجر بننے کے لیے ضروری خصوصیات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی۔ ماضی میں گوگل میں ملازمت کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے شعبہ جات کو ترجیح دی جاتی تھی، لیکن پراجیکٹ آکسیجن کے ذریعے معلوم ہوا کہ اچھے مینیجرز کے لیے باہمی تعاون سے کام کرنے کا جذبہ، اور دوسروں کی بات سننے، لوگوں کا موثر انتظام کرنے، اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو بھی اتنا ہی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح پاکستان کی تعلیمی اداروں کو بھی تجزیہ کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں، فیصلہ سازی، جذباتی ذہانت، اور لوگوں کے مینجمنٹپر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ ”Towards a Reskilling Revolution: Industry-led Action for the Future of Work “ کے مطابق ان تمام صلاحیتوں کا شمار 2020ء کی دس اہم ترین صلاحیتوں میں کیا گيا ہے۔

ہم آج تیز مشینوں اور مصنوعی ذہانت کے دور میں کھڑے ہیں۔ انسانوں اور مشینوں کے درمیان فرق مٹتا جارہا ہے اور بگ ڈیٹا کے ذریعے کاروبار (مثال کے طور پر ڈیٹا اینالٹکس پر مشتمل تجزیے)، حکومتوں (”ثبوت پر مبنی“ عوامی پالیسیاں)، اور اپنے اطراف موجود ٹیکنالوجیز کے ساتھ انٹریکشنز کے متعلق فیصلے کرنے کا طریقہ تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ تاہم، کوئی کچھ بھی کہہ لے، روبوٹس ہر کسی شعبے میں انسانوں کی جگہ نہيں لے سکتے۔ مشینوں سے صرف کام کرنے کا طریقہ تبدیل ہوگا۔ ایلون مسک (Elon Musk) جیسے کئی  لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہيں کہ ایسے بہت کم کام رہ جائیں گے جو انسان روبوٹ سے بہتر کرسکیں گے، لیکن یہ نقطہ نظر بہت محدود ہے۔ روزگار کی مارکیٹ کا مطالعہ کرنے والی ماہر معیشیات ہائيڈی شیئرہوٹز (Heidi Sheirhotz) کے مطابق مستقبل میں روزگار اور بے روزگاری کی سطحوں میں کچھ خاص تبدیلی نہيں آئے گی، البتہ انسانوں کے لیے دستیاب ملازمتوں کی نوعیت میں تبدیلی ضرور آئے گی۔ بلکہ ایرن بستانی (Aaron Bastani) اپنی کتاب Fully Automated Luxury Communism میں ایک ایسے مستقبل  کا خاکہ پیش کرتے ہيں جس میں انسان ملازمت کی فکروں سے مکمل طور پر آزاد ہوجائيں گے۔ اس بات پر غور تو کیا جاسکتا ہے لیکن ابھی فی الحال کچھ دیر کے لیے پچھلی صدی کی ابتداء میں مشینوں کی آمد کے باعث لوگوں کی گھبراہٹ کے بارے میں بات کرتے ہيں۔ آج ہم یہ بات وثوق سے کہہ سکتے ہيں کہ اس آٹومیشن کی پچھلی لہر سے نہ صرف کام کرنے کا طریقہ تبدیل ہوا (اور کئی کام زيادہ آسان اور موثر بھی ہوگئے) بلکہ نئی قسم کی ملازمتیں بھی ممکن ہوئيں۔ آج ہم دوبارہ اسی قسم کی تبدیلیاں دیکھ رہے ہيں۔ آج سوشل میڈیا مینیجمنٹ اور اینڈرائيڈ ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ جیسی کئی ملازمتیں سامنے آئی ہيں جن کا ہم نے دو دہائی پہلے نام بھی نہيں سنا تھا۔

جیسے جیسے آٹومیشن میں بہتری آتی جائے گی، ایسی ملازمتوں کی مانگ میں اضافہ ممکن ہے جو کمپیوٹرز اب تک کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان انسانوں کی ضرورت میں اضافہ ہوگا جو تجزیہ کرنے کی  صلاحیت اور اختراعی سوچ رکھتے ہیں، بظاہر غیرمتعلقہ چیزوں کے درمیان تعلقات قائم کرسکتے ہيں، اور انسانوں جیسا رویہ اختیار کرسکتے ہيں۔ مصنوعی ذہانت اور بہتر ٹیکنالوجیز سے صرف وہی کام بہتر ہوں گے جن کا پہلے انسانی غلطیوں کی وجہ سے نقصان ہوا کرتا تھا۔ یاد رکھیں، مصنوعی ذہانت اور انسانی ذہانت میں ابھی بھی بہت فرق ہے۔

بحیثیت انسان، ہمیں انسان بننے کی تعریف تبدیل کرنے، دوسروں کے جذبات سمجھنے، صحیح اور غلط کی تمیز کرنے اور ان کی بنیاد پر فیصلے کرنے، اختراعی سہولیات پیدا کرنے اور ایک ‘اچھی زندگی’کی وضاحت کرنے والے وجودیاتی سوالات پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ خود اور اپنے اطراف دوسرے افراد کی تشریح کرکے اس معلومات کی بنیاد پر مستقبل کی ترقی کی سمت کا تعین کرنا ہوگا۔ سربراہی اور فیصلہ سازی کے دوران ہمدردی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان تمام صلاحیتوں کو بڑی آسانی سے سیکھا اور آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ پالیسی کے نقطہ نظر سے، ہمیں تعلیم کی تعریف اور اس کے متعلق اپنی سمجھ بوجھ میں تبدیلی لانی ہوگی۔ آج ہم جس ادارے کو ‘یونیورسٹی’ کہتے ہيں، اسے پلیٹو کی اکیڈمی کی طرح زيادہ لچک پیدا کرنے اور ہوش افزا کے بجائے مناظراتی سوچ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لیے نصاب میں ‘پاور سکلز’ کی شمولیت اور ضم شدہ تعلیم کے ماڈلز کے ذریعے انقلاب لانا ہوگا، اور مختلف محکمہ جات کو اپنے محدود دائرے سے نکل کر دوسرے شعبوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ طلباء کو اپنی تعلیم کے متعلق سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ تیز رفتاری سے پرانی معلومات بھلا کر نئی معلومات سیکھنے کی ضرورت ہے۔

بحیثیت معاشرہ، ہمیں عمر بھر حاصل کی جانے والی تعلیم کے راستے ڈھونڈنے ہوں گے اور اس کی ترغیب دینی ہوگی، جس سے ذہنی لچک میں بھی اضافہ ہوگا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں 4IR کے تکنیکی عناصر میں مہارت میں اتنی تیز رفتار سے تبدیلی نہیں آئی گی جتنی ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتی ہے۔ تاہم اس کا اثر عالمی سطح پر واضع ہوگا۔ اس تحریک کے نام سے ہی صاف ظاہر ہے کہ ہمیں بحیثیت معاشرہ اپنے اجتماعی مستقبل کی تیاری کے لیے تبدیلی نہيں بلکہ انقلاب لانا ہوگا۔

ماہا کمال نوجوانوں کو مستقبل کی تیاری میں معاونت فراہم کرنے کے لیے قائم کردہ ادارے (Solutions for a New Age-SAGE) کی شریک بانی ہیں۔ وہ اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں ڈویلپمنٹ پالیسی پڑھا رہی ہیں۔ وہ ماضی میں کوئین میری یونیورسٹی آف لندن کی شیوننگ سکالر رہ چکی ہیں، جہاں انہوں نے انٹرنیشنل پبلک پالیسی میں ڈگری حاصل کی ہے۔

صالحہ کمال SAGE کی شریک بانی ہیں۔ ان کا لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں اکیڈمک رائٹنگ اور مواصلت پڑھانے کا تجربہ رہ چکا ہے۔ انہوں نے ماضی میں یونیورسٹی آف کیمبرج میں تنقید اور معاشی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے اور کولمبیا یونیورسٹی کے بارنارڈ کالج سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

تحریر: ماہا کمال، صالحہ کمال

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top