Global Editions

2030ء میں دنیا کیسی ہوگی؟ چند ماہرین سے پوچھتے ہيں

ہر سال ڈیوس میں منعقد ہونے والے ورلڈ ایکنامک فورم کے موقع پر دنیا بھر کے نمایاں ماہرین ہمارے مستقبل کے لیے منصوبے تیار کرتے ہيں۔ میں نے اس سال چند شرکت کنندگان سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ ان کے خیال میں 2030ء تک ایسا کیا ہوسکتا ہے جس کے بارے میں زیادہ تر لوگ سوچتے نہيں ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے باعث پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا

ایرک برنجولفسن (Erik Brynjolfsson)، ڈائریکٹر ایم آئی ٹی انیشیٹو برائے ڈیجیٹیل معیشت (MIT Initiative on the Digital Economy) (امریکہ)

پچھلی دہائی کے دوران مشین لرننگ میں بہت ترقی ہوئی، لیکن امریکہ میں 2004ء کے بعد سے پیداوار میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔ جب بھی کوئی ن‏‏ئی کثیرالمقصد ٹیکنالوجی متعارف ہوتی ہے، تو شروع میں پیداوار کم ہی ہوتی ہے۔ لوگوں کو اس کی عادت پڑنے میں ہمیشہ وقت لگتا ہے۔ جب بھاپ سے چلنے والا انجن متعارف ہوا تھا تو صنعت کاری میں اضافہ ہوا تھا۔ اسی طرح بجلی ایجاد ہونے کے بعد فیکٹریوں کی کایا پلٹ گئی۔ کمپیوٹرز سے معاشرے میں بہت تبدیلی آئی ہے، لیکن ایمزان قائم ہونےکے 25 سال گزر جانے کے باوجود بھی ای کامرس زیادہ عام نہيں ہوسکا ہے۔ اسی طرح، مشین لرننگ کو بھی عام ہونے میں وقت لگے گا۔ اور یہ سب نئی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری اور کاروباری کی سپلائی چینز، صارفین کے ساتھ تعلقات، اور اپنی مصنوعات اور سہولیات میں تبدیلی کے بغیر ناممکن ہے۔ جب کاروبار ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائيں گے تو آن لائن پیداوار میں خودبخود اضافہ ہوگا۔


افریقہ میں انسانوں اور روبوٹس کی ہم آہنگی کی ٹیسٹنگ کی جائے گی

ونوری کاہیو (Wanuri Kahiu)، سائنس فکشن کی مصنفہ اور فلم میکر (کینیا)

جس طرح کینیا میں ڈیجیٹل ادائيگی کے طریقے نہایت مقبول ثات ہوئے، میرا خیال ہے کہ اسی طرح انسانوں کی مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کے ساتھ انٹریکشن یہاں زور پکڑے گی۔ یہاں نئے سسٹمز متعارف کرنا بہت آسان ہے اور مصنوعی ذہانت کے متعلق کچھ خاص قانون یا سماجی رواج موجود نہيں ہیں۔ اسی لیے انسانوں اور مشینوں کی ہم آہنگی کے متعلق تجربات کرنا بہت آسان ہے۔ دس سال قبل کنہاسا میں روبوٹک ٹریفک پولیس متعارف کی گئی تھی اور لوگ انسانی پولیس سے زيادہ ان روبوٹس کی سنتے تھے، کیونکہ یہ روبوٹس بدعنوانی سے کام نہيں لیتے تھے۔ مصنوعی ذہانت کی ایسی لوکلائزڈ ایپلی کیشنز بہت کامیاب ثابت ہوسکتی ہيں جن سے افریقہ کے رہائشیوں کو ان کے اپنے مقامی مسائل حل کرنے میں معاونت مل سکے۔ 2050ء تک دنیا کی ایک چوتھائی آبادی افریقی نژاد افراد پر مشتمل ہوگی، اور اسی لیے اس قسم کے پراجیکٹس بہت اہم ثابت ہوں گے۔


صارفین کو زیادہ تحفظ اور اختیارات حاصل ہوں گے

ہیلینا لارنٹ (Helena Leurent)، ڈائریکٹر جنرل کنزیومرز انٹرنیشنل (Consumers International) (برطانیہ)

صارفین ایسے ڈيٹا ٹرسٹس اور کوآپریٹوز کا حصہ ہوں گے جو ان کے حقوق کا تحفظ کریں گے، ان کے ڈیٹا کے استعمال کے متعلق مذاکرات کرسکيں گے، ان کی نگرانی کے متعلق انہيں مطلع کرتے رہيں گے، اور ڈیٹا استعمال کرنے والی کمپنیوں کی جانچ پڑتال کريں گے۔ ایک زرعی ڈیٹا ٹرسٹ کی مثال لیتے ہيں۔ فرض کریں کہ صارفین چاہتے ہيں کہ ان کے ڈیٹا ٹرسٹس صرف ماحول دوست طریقہ کار اپنانے والے کسانوں کی تفصیلات پیش کریں۔ اس طرح ان صارفین کو مالی طور پر زیادہ فائدہ ہوگا اور انہيں خریدی جانے والی مصنوعات کے متعلق زيادہ معلومات میسر ہوگی۔ دوسری طرف کسانوں کو خریداری کے پیٹرنز کے متعلق ڈیٹا اور ضمانتيں موصول ہوں گی اور وہ اپنے گاہکوں کو دوسروں سے مختلف مصنوعات فراہم کرسکیں گے۔ اس قسم کی ڈیٹا شیئرنگ کی بدولت مصنوعات میں انوویشن ممکن ہوگی جس سے نہ صرف صارفین کو زیادہ سہولیات میسر ہوں گی بلکہ پائیداری میں بھی اضافہ ہوگا۔


امریکی ڈالر کو زر ذخیرہ کے لیے مزید استعمال نہيں کیا جائے گا

مائیکل کیسی (Michael Casey)، چیف کنٹینٹ آفیسر، کوئن ڈیسک (CoinDesk) (امریکہ)

امریکی ڈالر کو اس کے استحکام کے باعث زر ذخیرہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر دو مختلف ممالک میں کاروبار کرنے والی کمپنیاں 90 روز میں ادائيگی کا معاہدہ طے کرتی ہيں تو شرح زرمبادلہ میں اونچ نیچ کے خلاف تحفظ کی فراہمی کے لیے قیمتوں کے تعین کے لیے امریکی ڈالرز کا استعمال کیا جاتاا ہے۔ لیکن اب پروگرام ایبل سمارٹ معاہدوں سے آراستہ ڈيجیٹل کرنسیاں موجود ہیں جن کی بدولت ایک پہلے سے طے شدہ شرح پر کرنسی کا تبادلہ اور رقم واجب الادا ہونے تک اسے ایسکرو (escrow) میں رکھا جاتا ہے۔ اگر یہ کرنسیاں عام ہوجائيں تو امریکی ڈالر کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔ اس سے روایتی امریکی کمپنیوں کو نقصان پہنچے گا، لیکن عالمی پیمانے پر کام کرنے والی انویٹو اور غیرمرکزی کمپنیوں کو بہت فائدہ ہوگا۔


بیسویں صدی کے انفراسٹرکچر کی خامیاں کھل کر واضح ہوجائيں گی

زنویو بیل (Genevieve Bell)، ڈائریکٹر، 3A انسٹی ٹیوٹ اور سینیئر فیلو، انٹیل (آسٹرالیا)

میرا ملک چھ ہفتوں تک آگ کی نذر رہا اور میرا خیال ہے کہ 2030ء بھی موجودہ دور کی طرح ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آسٹرالیا میں رہنے والے افراد کو آگ، انخلاء کی درخواستیں، ہوا کے معیار کی رپورٹس وغیرہ کی بروقت موصولی کے لیے اچانک ذاتی اور حکومتی ڈیٹا تک رسائی پر غور کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ جن سوالوں  پر پہلے صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین غور و فکر کرتے تھے، اب پوری عوام ان جوابات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ اب یہ بات کھل کر واضح ہوچکی ہے کہ بیسویں صدی کے انفراسٹرکچرز، جن میں بجلی، پانی، نظام مواصلت، سول سوسائٹی سب ہی کچھ شامل ہیں، فرسودہ ہوچکے ہيں، جس کی وجہ سے اکیسویں صدی کی مشکلات سے نمٹنا مشکل ہوجائے گا۔


ہم پودوں سے پلاسٹکس اور دیگر مواد تیار کریں گے

زیکری بوگ (Zachary Bogue)، مینیجنگ ڈائریکٹر، ڈیٹا کلیکٹو وینچر کیپیٹل (Data Collective Venture Capital) (امریکہ)

پچھلے 80 سے 90 سالوں کے دوران ہم نئے مواد تشکیل کرنے کے لیے پیٹرولیم پر انحصار کررہے تھے۔ نئے قسم کے ایندھن، پلاسٹکس، ادویات وغیرہ بنانے کے لیے پیٹرولیم کے مرکبات کو نئی شکل دی جارہی تھی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ 2020ء کی دہائی کی انوویشن حیاتیات پر منحصر ہوگی۔ پودوں کی جینیاتی انجنیئرنگ کی مدد سے کیمیائی مرکبات پیدا کرکے ہم پیٹرولیم سے کہیں زیادہ چیزیں تخلیق کرسکتے ہيں۔ ہم ایسے کئی نئے مواد بناسکیں گے جس سے ہمارے لیے زيادہ پائیدار طریقے سے زندگی گزارنا اور معیشت کو آگے بڑھانا ممکن ہوگا۔ ان انوویشنز پر ابھی سے کام شروع ہوچکا ہے۔ ہم ایک ایسی کمپنی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں جس کا بنایا گيا مائکروب پام کے تیل کا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ سب کس طرح ممکن ہوا؟ اس میں کمپیوٹنگ پاور اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جس کی وجہ سے ضروری میٹابولک پراسیسز کی ماڈلنگ اور ڈیزائنگ کرنا ممکن ہوا۔


چینی فونز پوری دنیا پر چھا جائيں گے

رونالڈو لیموس (Ronaldo Lemos)، ڈائریکٹر، انسٹی ٹیوٹ فار ٹیکنالوجی اینڈ سوسائيٹی آف ریو (Institute for Technology and Society of Rio) (برازیل)

2030ء تک چینی موبائل فون برانڈز دنیا کے مشہور ترین برانڈز ہوں گے۔ ان کا اپنا آپریٹنگ سسٹم ہوگا، جس کے باعث اینڈرائيڈ کی مقبولیت میں 50 فیصد کمی ہوگی۔


عالمی سپلائی چینز ناپید ہوجائيں گی، جس کا سب سے زیادہ نقصان پسماندہ ممالک کو ہوگا

شیرن برو (Sharan Burrow)، جنرل سیکریٹری انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن (International Trade Union Confederation) (آسٹریلیا)

تھری ڈی پرنٹنگ، آٹومیشن اور روبوٹکس، سب ہی سے تخلیق کاری کی صنعت کی وسیع پیمانے پر لوکلائزيشن ممکن ہوگی۔ اگر ہم اپنے محلے کی دکان سے کسٹمائزڈ جینز کی فوری ڈیلوری کرواسکیں تو اس سے موجودہ فیشن کی صنعت کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔ کھانے کی پیداوار بھی مزید لوکلائز ہوتی جائے گی اور کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے کی کوششوں سے ہمارے کھانا کھانے اور چیزیں استعمال کے طریقے تبدیل ہوتے جائيں گے۔ یہ سچ ہے کہ عالمی سپلائی چینز میں انسانوں کا بہت غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے، لیکن کم از کم ان کی وجہ سے کئی غریبوں کے گھر چولہے تو جل رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی رجحان قائم رہا تو یہ سپلائی چینز ختم ہوتی جائيں گی اور دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں افلاس میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ ہمیں باوقار مشقت کے متبادل طریقے ڈھونڈنے ہوں گے، جس میں بچوں کی دیکھ بھال، ہیلتھ کیئر، ضعیف العمر افراد کی دیکھ بھال، اور تعلیم سب ہی شامل ہوں۔ ہمیں انسانی انفراسٹرکچر اور اس سے وابستہ سہولیات میں فی الفور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔


چھوٹے کاروبار سپر کمپیوٹرز استعمال کرنا شروع کردیں گے

پیٹر انگارو (Peter Ungaro)، سی ای او، کرے (Cray) (امریکہ)

سینکڑوں کمپنیاں گاڑی بنانے والی کمپنیوں کے لیے پرزے تیار کررہی ہیں۔ اس وقت ان کا سارا کام اپنے پزوں کے ڈیزائز تیار کرنے اور سیمولیشنز کرنے والے کیڈ (CAD) کے خاکوں پر ہوتا ہے جنہیں چھوٹے کمپیوٹرز پر چلایا جاتا ہے۔ لیکن آگے چل کر انہيں ڈیٹا پیدا کرنے والے اتنے سینسرز دستیاب ہوں گے کہ ان کے پاس ہزاروں گنا زيادہ ڈیٹا موجود ہوگا جس سے ان کے پرزے ماڈل کرنے کے طریقوں میں انقلاب آئے گا۔ یہ سب منی سپر کمپیوٹرز کی مدد سے ممکن ہوگا۔ کچھ کمپنیاں ایسے کمپیوٹرز خرید کر رکھیں گی اور کچھ انہیں بذریعہ کلاؤڈ استعمال کریں گی۔ آج یہ مشینیں دو باسکٹ بال کے میدانوں جتنی جگہ گھیرتی ہيں اور 30 میگا واٹس تک توانائی استعمال کرتی ہيں۔ لیکن آگے چل کر یہ مشینیں اتنی چھوٹی ہوجائيں گی کہ ایک الماری میں سما سکیں گی۔

تحریر: گورڈن لخفیلڈ (Gideon Lichfield)

Read in English

Authors

*

Top