Global Editions

فیصلہ سازی کیلئےبگ ڈیٹا کا استعمال

کمپنیاں بگ ڈیٹا یا ٹیرا ڈیٹا کو فیصلہ سازی کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ جدید دور میں فیصلہ سازی کا کام بہت مشکل ہو چکا ہے۔ اس مشکل سے نکلنے کیلئے کمپنیاں بگ ڈیٹا سے کام لے رہی ہیں۔ بگ ڈیٹا خام شکل میں ہو یا منظم ، فیصلہ سازی کیلئے اس کا تجزیہ ایک الگ کام ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی بزنس رپورٹ میں بگ ڈیٹا کے ساتھ فیصلہ سازی کیلئے ایک قصہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ کوئی 1956ء کی بات ہے جب ایک انجینئر ولیم فیئر (William Fair)اور ارل ایزاک (Earl Isaac)نے 800ڈالر سے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی کام یہ تھا کہ بگ ڈیٹا کے ذریعے قرض کیلئے درخواست دہندہ کی خریداری اور عادات وغیرہ کی ہسٹری معلوم کی جاتی ہے اور طے کیا جاتا ہے کہ جسے وہ قرض دے رہے ہیں وہ واپس بھی کرے گا یا نہیں۔ سب کچھ کاغذوں پر ہوتا ہے ۔ قرض کیلئے درخواست دہندہ کی آمدن، جنس اورپیشہ کے علاوہ دیگر معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں جو قرض کیلئے درخواست دہندہ کے روئیے کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان اعدادوشمار کا تجزیہ کرکے درخواست دہندہ کیلئے اعتبار اور بے اعتباری کا سکور نامزد کردیا جاتا ہے۔ آج فیئر ایزاک کارپوریشن (Fair Isaac Corp)یا فیکو(FECO)سالانہ دس ارب ڈالر قرض دیتی ہے ۔

قرض لینے یا واپس کرنے کا یہ خودکار عمل ہماری ساری زندگی کے پس منظر میں چل رہا ہوتا ہے۔ قرض دینے کیلئے بنک منیجر کو طے کرنا پڑتا ہے کہ جس سے وہ ہاتھ ملا رہا ہے کیا وہ اسے جانتا بھی ہے یانہیں۔ فیئر اور ایزاک جانتے ہیں کہ یہ ماحول بدل بھی سکتا ہے اور کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ ان کی کمپنی مزید قرض نہ دے سکے ۔تاہم فیئر نے ایک بار کہا تھا کہ ہم روائتی نہیں بلکہ مختلف انداز میں کاروبار کرتے ہیں تاہم روایات کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اس قصے سے ہمیں بگ ڈیٹا اور ٹیرا ڈیٹا کے دور میں معلومات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس دور میں سینسرز ، سوشل نیٹ ورک، کمپیوٹر آرکیٹکچراور سوفٹ وئیرز سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ بہت منظم ڈیٹا پر بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام ڈیٹا کا تجزیہ کرکے فیصلہ سازی کرنے کا ہوتا ہے۔

زیر نظر بزنس رپورٹ میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے سامنے ایک بڑا سوال ہے کہ کس طرح ڈیٹا اور تجزیہ کرنے والے آلات فیصلے کو فوری بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ امریکی سٹاک ایکسچینج نیسڈیک (Nasdaq)میں روزانہ اربوں ڈالر کے شئیرز کی خریدوفروخت ہوتی ہے، آن لائن مشتہرین ایک منٹ میں لاکھوں کی تعداد میں "کی ورڈز "استعمال کرتے ہیں۔ سودے لنچ پر طے کرنے کی بجائے تحقیق اور ڈیٹا ماڈلز کو سامنے رکھ کر کئے جاتے ہیں۔ بے حد و حساب اعدادوشمار اور معلومات کا تجزیہ انسانی فیصلہ سازوں کیلئے مشکل کام ہے۔

جب کوئی شخص قرض کی درخواست کی منظوری کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے تو ٹیکنالوجی اس کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتی ہے۔ ذرا ویب پر تصدیق کرنے والے انجن کے بارے میں سوچیں جو آپ کو اشیا کی خریداری کےبارے میں تجویز دیتے ہیں۔ تو یہ انجن بڑے بہتر انداز میں کام کرتا کیونکہ انٹرنیٹ کمپنیاں ہم میں سے ہر ایک کی عادات اور پسند ناپسند کا حساب رکھتی ہیں۔ اس رپورٹ کو بنانے کیلئے ہم نے لنکڈ ان میں اکاؤنٹ کے ذریعے داخل ہوئے۔ آپ کی معلومات کیلئے بتادوں کہ لنکڈ ان ملازمت کی تلاش کیلئے فراہم کی گئی شخصی معلومات رزیوم (Resumes)کا سب سے بڑا ڈیٹا بیس ہے جو 200ملین سے زائد رزیومز کا حامل ہے۔لنکڈان میں نیا فیچر یونیورسٹی پیجز کا شامل کیاہے۔ جو رزیومز کے ڈیٹا کا جائزہ لیتے ہیں اور مستقبل کی ملازمت کیلئے انہیں تجاویز بھی دیتے ہیں۔ آئی بی ایم نے اپنی واٹسن کمپیوٹر سسٹم(Watson Computer System)کمپنی میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب آئی بی ایم کمپنی اپنے کمپیوٹرز سے کسٹمرز ڈیٹا پر ماہرانہ رائے کی توقع کرتی ہے۔

فیکو کے چیف تجزیہ کار اینڈریو جیننگز (Andrew Jennings)کہتے ہیں کہ انسانی فیصلوں کو خودکار انداز میں کرنا ایک دوسری کہانی ہے۔ قرض کے بارے میں اعدادوشمار اس پر بڑا اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ قرض دہندگان کو قرض کیلئے متوازن راستہ بتاتے ہیں۔ اب دیگر صنعتیں بھی تجزیہ کے ذریعے پیش گوئی کرنے والے ڈیٹا کو استعمال کررہی ہیں اس لئے ان کی بزنس حکمت عملی بدل رہی ہے۔ اس رپورٹ میں ہم نے تجزیہ کیلئے سادہ سی ٹیکنالوجی اے بی استعمال کی۔ ہم نے ایک ویب پیج کے دور ورژن استعمال کئے اور دیکھا کہ کون سا ویب پیج زیادہ بہتر انداز میں کام کررہا ہے۔

یقیناً محض ڈیٹا پر بہت زیادہ انحصار میں بہت سے خطرات بھی ہیں۔ تاہم مائیکروسوفٹ کے سوشیالوجسٹ ڈنکن واٹس (Dunkin Watt)نے ایک نظریہ پیش کیا ہے جس کے تحت ہم ڈیٹا کے ذریعے درست پیش گوئی کرنے اور غلطیوں سے بچ سکتے ہیں۔ واٹس رائے دیتے ہیں کہ ہر کاروبار کو سائنسی طریقے سے چلایا جانا ضروری ہے۔ اس مقصدکیلئے صنعتیں بہترین ذہانت کے حامل ماہرین کو ملازم رکھ رہی ہیں جنہیں ہم ڈیٹا سائنٹسٹ کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ڈیٹا بیس منظم کرتے ہیں، ان سے ماڈل بناتے ہیں، نئے رحجانات آشکار کرتے ہیں اور مصنوعات کو فروغ دیتے ہیں۔ اسی لئے یہ کہا جاتا ہے کہ ڈیٹا سائنس 21ویں صدی کی دلکش ترین ملازمت ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس میں سپریڈ شیٹس اور ریاضی کے کلئیے استعمال کئے جاتے ہیں بلکہ اس میں فیصلہ سازی کی جاتی ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regaldo)

Read in English

Authors
Top