Global Editions

کاربن ڈائی آکسائیڈ کی روک تھام کرنے والا انقلابی پلانٹ تیار ہونے والا ہے

یہ قدرتی گیس کا پلانٹ، جس کا نام نیٹ پاور ہے، بغیر کسی خرچے کے کاربن کیپچر کرے گا۔

ہیوسٹن اور گلف کوسٹ کے درمیان ایک صنعتی زون ہے، جس میں کئی پیٹروکیمیکل فیکٹریاں اور گیس کی پائپ لائنز لگی ہوئی ہیں۔ اسی زون میں ایک چھوٹی سی کمپنی ایک ایسا پاور پلانٹ لگانے کی کوشش کررہی ہے، جو توانائی کی صنعت کو بدل کر رکھ دے گا۔

توقع کی جاتی ہے کہ نیٹ پاور (Net Power) نامی اس کمپنی کا قدرتی گیس استعمال کرنے والا پلانٹ اخراجات میں قابل قدر اضافے کے بغیر تمام کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بجلی پیدا والے ٹربائن کو چلانے کے لیے استعمال کرے گا، جس کی وجہ سے یہ پلانٹ موثر طور پر کاربن کیپچر کرنے میں کامیاب ثابت ہوگا۔ اس پلانٹ کی کل لاگت 14 کروڑ امریکی ڈالر ہے، اور اس کی گنجائش 50 میگا واٹ ہوگی۔ یہ ٹیکنالوجی ایسے پاور پلانٹس کو ممکن بنائے گی جس میں جوہری ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم خطرہ ہوگا، اور جو پانی، سورج کی روشنی اور ہوا کی دستیابی پر انحصار نہیں کرتے ہوں۔

ایم آئی ٹی انرجی انیشیٹیو (MIT Energy Initiative) کے ریسرچر جیسی جینکنز (Jesse Jenkins) کہتے ہیں "اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوجائے تو یہ پوری دنیا کو تبدیل کرکے رکھ سکتی ہے۔"

کاربن کیپچر پر کام کرنے والی زیادہ تر کمپنیوں نے ناکامی ہی کا منہ دیکھا ہے، جن میں سدرن کمپنی (Southern Company) کی مسیسپی میں قائم کردہ "صاف کوئلے" کی کمپنی سر فہرست ہے، جس کی لاگت کئی ارب امریکی ڈالر تھی۔ اس لیے، جب تک نیٹ پاور چلنے نہیں لگ جاتا ہے، اس وقت تک یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ کس حد تک کم قیمت، قابل اعتماد اور موثر ثابت ہوگا۔ اس کا جواب ہمیں نومبر یا دسمبر تک ملے گا جب اس پلانٹ کی ٹیسٹنگ ہوگی۔ (سائٹ کے اطراف کے علاقے کو ہاروی طوفان کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے، لیکن اس پلانٹ کو اس طرح ڈيزائن کیا گيا ہے کہ پانی کی نکاسی ہوجائے، جس کی وجہ سے اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔)

زیادہ تر کوئلے یا گیس کے پلانٹس میں حیاتیاتی ایندھن جلا کر پانی کو بھاپ میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے بجلی بنانے والے ٹربائن کو چلایا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران اضافی گرمی اور گرین ہاؤس گیسز پیدا ہوتی ہیں۔ اب تک کاربن کیپچر کے لیے جو اقدام کیے گئے ہیں، ان سب میں سسٹم میں سکربنگ کے لیے ایک سیڑھی لگائی گئی ہے، جس سے اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ٹیکساس کے شہر لاپورٹ میں ڈیڑھ ایکڑ کی زمین پر بنایا گیا نیٹ پاور کا پلانٹ الام سائیکل (Allam Cycle) نامی تکنیک کا استعمال کرتا ہے، جس میں پانی کی جگہ سپرکریٹیکل کاربن ڈائی آکسائيڈ استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بھاپ نہیں پیدا ہوتی ہے۔ تیز گرمی اور دباؤ کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائيڈ سیال اور گیس دونوں کی خصوصیات اپنا لیتا ہے۔ یہ تکنیک برطانوی کیمیائی انجنیئر روڈنی الام (Rodney Allam) نے ایجاد کی تھی، جو اب 8 Rivers Capital میں پارٹنر اور چیف ٹیکنالوجسٹ ہیں۔ نیٹ پاور نارتھ کیرولائینا کے شہر ڈرہم میں واقع ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے قائم کردہ پلانٹ ایکسیلون جنریشن (Exelon Generation) اور توانائی کی فرم سی بی اینڈ آئی (CB&I) کے درمیان پارٹنرشپ کے تحت قائم کیا گیا ہے۔

اس سائیکل میں ایک کمبسٹر میں خالص آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور قدرتی گیس ڈالا جاتا ہے، جس سے گیس جلنے لگتی ہے۔ اس عمل سے گرم پانی اور سپرکریٹیکل کاربن ڈائی آکسائيڈ پیدا ہوتے ہیں، جسے ٹربائن کو چلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کاربن ڈائی آکسائيڈ کو کمپریسرز، پمپس اور ہیٹ ایسکچینرز سے گزارا جاتا ہے، جو جس حد تک ممکن ہو، گرمی کی سطح کو بحال کردیتا ہے، جس کے بعد سائیکل دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔

کاربن ڈائی آکسائيڈ کی گرمائش کی وجہ سے کمبشن کے ابتدائی مرحلے میں ایندھن کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، اور اس کی اثراندازی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ سپرکریٹیکل کاربن ڈائی آکسائيڈ کی وجہ سے جب پانی گیس اور سیال کی شکل اپناتا ہے توانائی کا نقصان نہیں ہوتا ہے، اور بھاپ استعمال کرنے والے پاور پلانٹ میں لگائے جانے والے کئی پرزوں کی مزید ضرورت نہیں رہتی ہے۔

کاربن کیپچر پر وسیع و عریض تحقیق کرنے والے لارینس لورمور نیشنل لیباریٹری (Lawrence Livermore National Laboratory) کے چیف انرجی ٹیکنالوجسٹ ہولیو فریڈمن (Julio Friedmann) کہتے ہیں کہ سائیکل کو سپرکریٹیکل مرحلے کے اوپر رکھنے سے قابل قدر اثراندازی حاصل کی جاسکتی ہے۔

اس پورے سائیکل میں کاربن کے علاوہ دیگر کئی بائی پروڈکٹس حاصل ہوتے ہیں، جنھیں علیحدہ طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔

8 Rivers کے بانی بل براؤن (Bill Brown) اور مائلز پالمر (Miles Palmer) ایم آئی ٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ براؤن مورگین سٹینلی کے سابقہ مینیجنگ ڈائریکٹر رہ چکے ہیں، جبکہ پالمر دفاعی کنٹرایکٹر SAIC میں ایئروسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرتے تھے۔ 2008ء کے مالیاتی بہران کے دوران دونوں نے دنیا میں تبدیلی لانے کی ٹھانی۔

ان کا 2009ء میں حکومت کے پیکیجز میں شامل توانائی کی رقم سے فائدہ اٹھا کر پہلے صاف کوئلہ استعمال کرنے والی ٹیکنالوجیوں پر کام کرنے کا ارادہ تھا، لیکن انھیں جلد ہی معلوم ہوگیا کہ کمپنیاں اپنے اخراجات میں اضافہ نہیں کرنا چاہ رہی تھی۔ ان کی ملاقات الام سے ہوئی، جو توانائی کے پلانٹ میں کاربن کیپچر کرنے کے لیے سپرکریٹیکل کاربن ڈائی آکسائيڈ استعمال کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔ انھیں 8 Rivers میں ملازمت مل گئی، جس کے بعد انھوں نے ٹیم کے دوسرے ممبران کے ساتھ مل کر معیاری، مشترکہ سائيکل کے قدرتی گیس پلانٹس کے ساتھ مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا۔

اگر 8 Rivers کو کامیاب ہونا ہے، تو اسے مشینیں لگانے کے اخراجات میں کمی لانی ہوگی۔ نیشنل رینیوایبل انرجی لیباریٹری (National Renewable Energy Laboratory) کے مطابق 2014ء میں روایتی پلانٹس لگانے کی لاگت 1،056 ڈالری فی کلوواٹ تھی۔ 8 Rivers توقع کرتے ہیں کہ مشینیں لگانے، ضمانتوں اور دوسرے اخراجات کی وجہ سے ان کے پہلے پلانٹ کی لاگت 1،600 فی کلوواٹ ہوگی لیکن انھیں امید ہے کہ پانچ سے سات پلانٹس قائم کرنے کے بعد یہ لاگت 1،000 ڈالر فی کلوواٹ ہوجائے گی۔

آگے چل کر مشترکہ سائيکل کے قدرتی گیس کے پلانٹس کی طرح، جن میں کاربن کیپچر نہيں ہوتا ہے، 42 ڈالر فی میگا واٹ گھنٹہ کے حساب سے بجلی کی پیداوار متوقع ہے۔۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی کئی بائی پراڈکٹس بھی فروخت کرسکتی ہے، جن میں کاربن ڈائی آکسائيڈ شامل ہیں۔ اس سے توانائی پیدا کرنے کے اخراجات کم ہو کر 20 ڈالر فی میگاواٹ گھنٹہ ہوسکتے ہيں (اندازے کے مطابق 9 میگا واٹ فی گھنٹوں تک کمی بھی ممکن ہے)۔

مقامی، ریاستی یا وفاقی پالیسیاں، جیسے کہ کاربن کے ٹیکس، کیپ اور ٹریڈ کے معاہدے اور اخراج کے معیارات، سے ان اخراجات کو مزید کم کیا جاسکتا ہے۔

نیٹ پاور آپریٹر کے بجائے لائسنسنگ کمپنی کے طور پر کام کرنے والے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ یوٹلٹی کمپنیوں، تیل اور گیس فروخت کرنے والی کمپنیوں اور دیگر کمپنیوں کو اپنی ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس وقت مذاکرات جاری ہیں، اور کمپنی اپنے پہلے پلانٹ کے لیے ممکنہ لوکیشنز دیکھ رہی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ پہلا پلانٹ 2021ء تک آپریشن شروع کردے گا۔

8 Rivers کے سینیئر ریسرچ اینڈ ڈیولمپنٹ انجنیئر بروک فوریسٹ (Brock Forrest) کہتے ہیں“مسئلے تو ہر چیز میں ہی ہوتے ہیں، اور یہ آپ کو وقت کے ساتھ ساتھ ہی سمجھ آتے ہیں۔ لیکن انجنیئرنگ اور تکنیکی اعتبار سے ہم پرامید ہیں کہ ہم سپرکریٹیکل کاربن ڈائی آکسائيڈ سے بجلی بنانے میں کامیاب ہوجائيں گے۔”

اس پراجیکٹ کی کامیابی کے لیے چند مسئلوں پر غور کورنے کی ضرورت ہے۔ کیپچر ہونے والے کاربن ڈائی آکسائيڈ کی سب سے بڑی مارکیٹ تیل کی ریکوری کی ہوگی، یعنی توانائی کی کمپنیاں اسے پرانے کنوؤں میں ڈال کر بقایا تیل نکالنے کے لیے استعمال کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کیپچر ہونے والی گیس کا حیاتیاتی ایندھن جمع کرنے اور جلانے میں استعمال ہوگی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قدرتی گیس کی ایکسٹریکشن سے بھی ماحول پر منفی اثر ہوگا، جس میں گرین ہاؤس گیس کا اخراج، زیرزمین پانی کی آلودگی اور فضلے کے اخراج کی وجہ سے پیدا ہونے والے زلزلے شامل ہیں۔

تاہم اگر نیٹ پاور کوئلے کے استعمال کو کم کرنے اور قدرتی گیس سے کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اخراج کی روک تھام کرنے میں کامیاب ہوجائے تو حیاتیاتی ایندھن استعمال کرنے والے پاور پلانٹس کے مقابلے میں ماحول کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top