Global Editions

سائنس کا فروغ میلوں کے ذریعے

ڈاکٹر صبیح انور ایک تجرباتی ماہر طبعیات (physicist) ہیں جو لمزیعنی لاہوریونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں مستقل پروفیسر کی حیثیت سے تعینات ہیں۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت انڈرگریجویٹ کے کورسز پڑھانے اوراپنی لیبارٹری میں کوانٹم فزکس کے نئے شعبے کے متعلق تحقیق میں صرف کرتے ہیں۔ کوانٹم فزکس کا یہ نیا شعبہ سپن ٹرونکس (spintronics) کے نام سے جانا جاتا ہے اوراس کاتعلق لیزرکی روشنی اور الیکٹرانز کی گھماؤ کے باہمی تعامل سے ہے۔

بحیثیت خوارزمی سائنس سوسائٹی کے شریک بانی، انہوں نے 2017ء میں لاہور کے سالانہ سائنس میلے کےانعقاد میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس سال جنوری میں سائنس کا دوسرا میلہ منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے علاوہ بیرون ملک سے بھی تعلیمی اداروں اور پیشہ ورانہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلباء اور محققین نے بھرپور شرکت کی۔ اس میلے کا مقصد خصوصی طور پر سکول کے طلباء کو ایک دلچسپ طریقے سے قدرتی مظہریات پیش کرکے سائنس کی مقبولیت میں اضافہ تھا۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان نے ڈاکٹر انور سے ملاقات کے دوران تھیوریٹیکل فزکس، انسانیت کے حال اور مستقبل میں اس کی اہمیت، اور پاکستان میں اس شعبے کی حالت زار کے متعلق ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔

س: فزکس کی وجہ سے انسانوں کے قدرت کے ساتھ تعلقات میں وقت کے ساتھ ساتھ کس قسم کی تبدیلی آئی ہے؟
نامور ماہر طبیعیات فری مین ڈائسن (Freeman Dyson) کے مطابق ماہرین طبعیات دو قسم کے ہوتے ہيں۔ ایک قسم پرندوں کی طرح کی ہے جوپوری صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہيں۔ان میں البرٹ آئن سٹائن، آئزک نیوٹن اور شروڈنگر جیسے سائنسدان شامل ہیں ۔ دوسری قسم کے ماہرین طبیعیات مینڈکوں کی طرح اپنی لیب میں تجربات کر کے ہر چیز کی باریکیوں میں جاتے ہيں۔

پچھلی صدی میں ایسے دو اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے کوانٹم میکانکس اور جنرل ریلاٹیویٹی کے شعبہ جات کے دروازے مزید تحقیق کے لیے کھل گئے ہیں۔ کوانٹم میکانکس سے ذرات کا ایٹمی اور ذیلی ایٹمی سطحوں پر مطالعہ ممکن ہوا ہے، جبکہ جنرل ریلاٹیوٹی کے ذریعے ہم پوری کائنات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان دونوں شعبہ جات کے بیچ میں روزمرہ کی فزکس ہے، جو قرون وسطیٰ، بلکہ یونانی فلسفہ دانوں کے زمانے سے بھی پہلے استعمال ہوتی آرہی ہے۔ اس زمانے میں زراعت اور تعمیرات کے علاوہ دیگر کئی شعبوں میں استعمال ہونے والی مشینوں میں فزکس کے اصولوں ہی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ ان اصولوں کو نظریات کی شکل میں بیان تو نہيں کیا گیا تھا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس وقت کے لوگوں کو ان کا علم نہيں تھا۔

لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔ جدید دور کے سائنسی انقلاب کے بعد، ہمارا اس کائنات کو دیکھنے کا طریقہ تبدیل ہوگیا ہے۔ اب ہم سائنس کی اصطلاحات اور وضاحتیں استعمال کرتے ہوئے ریاضی کی زبان میں بات کرتے ہيں۔ ہم اس حد تک کائنات کے مختلف طریقہ کاروں کے متعلق نظریات قائم کرسکتے ہيں کہ ان مظہریات کی بھی پیشگوئی ممکن ہے جسے ہم نے خود محسوس نہ کیا ہو۔

س: آج فزکس کی تحقیق میں سب سے بڑے مسائل کیا ہيں؟
میرے خیال میں ایسے تین شعبہ جات ہیں جوفزکس کی موجودہ معلومات کی انتہائی حدود پرموجود ہيں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے یہ آج کل تاریک مواد اور تاریک توانائی پر بہت تحقیق کی جارہی ہے۔ ہماری موجودہ معلومات کے مطابق، کائنات کے حجم میں اضافہ ہورہا ہے، اوراس رفتار سے اضافہ ہورہا ہے کہ کائنات کا معلوم شدہ حصہ اس کے حقیقی سائز سے چار فیصد سے زیادہ نہيں ہوسکتا ہے۔ تاریک مواد اور تاریک توانائی وجود رکھتے ہيں، لیکن ابھی بھی ہمیں ان کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔

دوسرا شعبہ جس پر تحقیق جاری ہے، اس کا تعلق ایسے مواد سے ہے جن کی خصوصیات کا معمہ اب تک حل نہيں ہوپایا ہے۔ ماضی میں ہمیں مقناطیسوں کے بارے میں یہ تو معلوم تھا کہ وہ دھات کو اپنی طرف کھینچتے ہيں، لیکن ہمیں اس کی وجہ معلوم نہيں تھی۔ اب ہمیں اس کی وجہ تو معلوم ہوگئی ہے، لیکن ابھی بھی لیبارٹریوں میں طویل تحقیق کے بعد تیار کیے جانے والے ایسے کئی مواد ہیں جن کی تمام خصوصیات کے متعلق وضاحت حاصل نہيں ہوسکی ہے۔ سپرکنڈکٹرز کی مثال لے لیجیے۔ جب ان میں سے بجلی گزاری جاتی ہے تو وہ گرم نہيں ہوتے ہیں، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بجلی کی تمام پیداوار اور ترسیل سپرکنڈکٹرز کے ذریعے ہونے لگی تو بجلی کی کوئی لاگت نہيں آئے گی۔ تاہم اس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ اس وقت ناممکن ہے۔

آخری انتہا نیورولوجی اور انسانی شعور کے شعبے ميں فزکس اور حیاتیات کے نقطہ اتصال پر موجود ہے۔ کیا آپ اس بات پر یقین کرسکتے ہیں کہ ہمیں انسانی دماغ کے مقابلے میں چاند اور سورج کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل ہے؟ فزکس اور کوانٹم میکانکس کی مدد سے ہم اپنے حافظے، خواب، شعوراور نیم شعور کے حالات جیسے مظہریات کی وجہ بننے والے اعصابی عمل کی سمجھ بوجھ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

س: عالمی سطح پر، خاص طور پر، امریکہ اور یورپ کی نامور یونیورسٹیوں میں، ان انتہاؤں پر کام ہورہا ہے۔ ہمارے قطعہ زمین میں یہ کام کس طرح مختلف ہے؟

آپ شاید یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا سائنس عالمی سیاسی واقتصادی صورتحال کی محتاج ہے؟ اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں بلدیاتی سہولیات، صحت اور صفائی ستھرائی کی سہولیات جیسے مسائل موجود ہیں، جن کا تعلق عالمی سیاسی معیشت میں ہماری محتاجی سے ہے، لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ سائنسدان کسی ایک ملک کے باشندے ہونے کے علاوہ عالمی شہری بھی ہوتے ہیں۔

بحیثیت عالمی شہری، سائنسدان ایک ایسی عالمی کمیونٹی کا حصہ ہیں جن کی تحقیق کی ترجیحات کا انحصار سیاسی، اقتصادی،سماجی اورثقافتی عدم مساوات سےقطع نظر ان کے تعلیمی شعبے پر ہے۔ لیکن ہمیں اپنے نظریہ عفوعام اور معلومات سے فائدہ اٹھا کر مقامی مسائل کو بھی حل کرنا ہے۔ مثال کے طور پر، اب بھی ہیپاٹائٹس اور پیچش جیسی بیماریاں عام ہیں، اور ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ پیمانے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کینسر کے مقابلے میں یہ امراض کہیں زیادہ سنگین ہیں۔

س: پاکستان میں سائنسی تعلیم اور تحقیق کے منظرنامے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
میں دو دہائیوں سے بحیثيت تجرباتی ماہر طبیعیات مطالعہ کررہا ہوں، پڑھا رہا ہوں اور تحقیق کررہا ہوں، اور اس دوران مجھے ہایئر ایجوکیشن کمیشن (Higher Education Commission - HEC) کے رویے میں مثبت تبدیلی نظر آئی ہے۔ اگر مٹی میں ہی غذائیت موجود نہيں ہوگی تو پودوں کو بارش کے پانی سے کوئی فائدہ نہيں پہنچے گا۔ جس وقت وفاقی سطح پر ایچ ای سی قائم کیا گيا تھا، اس وقت ہمارا تعلیمی نظام اسی مٹی کی طرح تھا۔ ایچ ای سی کی فنڈنگ ہی کی وجہ سے کئی طلباء کے لیے مغربی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرنا ممکن ہوا۔ ان میں سے کئی طلباء اب واپس آچکے ہیں اور اب ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں بہت اچھی تنخواہوں پر کام بھی کررہے ہيں۔

اس وقت ہمارا مسئلہ سکول کی سطح پر سائنس کی تعلیم ہے۔ ہمارے طلباء باہر سے پی ایچ ڈیز بھی حاصل کرلیں تو ان کی بنیادیں کمزور ہی رہتی ہیں، یہاں تک کہ ان میں اپنی تحقیق کے دوران صحیح قسم کے سوالات پوچھنے تک کا تجسس موجود نہيں ہوتا۔ سکول کی سطح پر سائنس کی تعلیم میں انقلاب لانے کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔ نجی شعبے کے لیے یہ ممکن نہيں ہے۔

س: سکول کی سطح پر سائنس کے نصاب میں کس طرح کی اصلاحات لائی جانی چاہیئے؟ سکول کے طلباء کی سائنس میں دلچسپی اور ان کے تجسس میں کس طرح اضافہ کیا جاسکتا ہے؟
ہماری لیباریٹریاں مردہ ہوگئی ہیں اوران میں نئی زندگی پھونکنے کی ضرورت ہے۔ میری نظر میں لیباریٹریاں کو معلومات کے مراکز کے طور پر قائم کیا جانا چاہئیے۔ صرف عمارتیں کھڑی کرنے اور انفراسٹرکچر قائم کرنے سے کام نہيں چلے گا۔ ان لیباٹریوں کو سائنس کے عجائب گھروں میں تبدیل کردینا چاہئیےجہاں والدین اپنے بچوں کو تعلیم اور تفریح دونوں ہی کے لیے لائيں۔

دوسری بات کا تعلق ایک بہت کڑوی حقیقت سے ہے۔ ہمارے سکولوں میں سائنس کے اساتذہ خود ہی اپنے کام میں دلچسپی نہيں لیتے ہيں۔ وہ، بلکہ پورا معاشرہ ہی یہ سمجھتا ہے کہ صرف وہی لوگ سکول میں پڑھاتے ہيں جو زندگی میں کچھ اور نہيں کرپائے۔ اس صورتحال میں بہتری لانے کے لیے اساتذہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بہتر تنخواہیں متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ سکولوں میں فراہم کی جانے والی تعلیمی نظام سے سیاست کا خاتمہ ضروری ہے، اور اساتذہ کی بھرتی اوربرخواستگی ایک خاص معیا پر وضع کردہ اصولوں پر ہونی چاہیے۔

آخر میں، ٹیکنالوجی کو اس کے صحیح مقام تک ہی محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی جادو کی چھڑی نہيں ہے جس سے انسانی دماغ خودبخود تبدیل ہوجائے گا۔ انسانی دماغ کوئی مشین نہيں ہے، وہ اپنی دھن پر چلتا ہے۔ تعلیمی مراحل میں کئی مختلف قسم کے پہلو ایک ساتھ کام کرتے ہيں، اور ہم اپنے اساتذہ سے متا‏ثر ہو کر کچھ کر گزرتے ہيں اور تعلیم کی تجسس میں اضافہ کرنے والی ثقافتی اور معاشرتی اقدار اپناتے ہيں۔ یہ سب کچھ روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہی نہيں ہے۔ میں ٹیکنالوجی کے خلاف نہيں ہوں، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ٹیکنالوجی کو تعلیم کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتی ۔سسٹم کی اصلاح کے لیے وسائل کا درست طور پر انتظام اور جدت پسند تعلیمی تکنیکنوں کو متعارف کرنا اور پروان چڑھانا نہایت اہم ہیں۔

اس سلسلے میں ہم اپنے پڑوسی ملک ایران سے سبق حاصل کرسکتے ہيں۔ انہوں نے سکول میں چند اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کے ذریعے وہ جدید طریقے استعمال کرتے ہوئے فارسی زبان میں ریاضی اور سائنس کی تعلیم میں طلباء کی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔

س: وفاقی سطح پر قدرتی سائنسز، بشمول فزکس، کی فروغ کے لیے کئی ادارے موجود ہیں۔ انہوں نے اس شعبے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
پاکستان میں مخصوص کاموں کے لیے کئی ادارے قائم کیے جاچکے ہيں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح نہیں نبھائی ہیں۔ آسان الفاظ میں، ہم اب تک ضروری انسانی وسائل کو پروان چڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ تھر کے کوئلے کے پراجیکٹ کی مثال لے لیجیے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند بہت قابل جوہری سائنسدان ہیں، لیکن کوئلے کی کان کنی ان کے بس کی بات نہيں ہے، اور اس کے باوجود وہ پراجیکٹ چلا رہے ہيں۔ اسی طرح بلوجستان میں سینڈک کی تانبے کی کانوں کے بارے میں بہت بات کی گئی، لیکن اس پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے ہمارے پاس ایسا کوئی بھی دھاتوں کا ماہر نہيں ہے۔

شروع میں ہمارے وفاقی اداروں نے کافی کام کیا تھا۔ فیصل آباد میں زرعی تحقیق کے ادارے نایاب نے گندم کی چند نئی اقسام متعارف کرائیں جن کی وجہ سے غذائی تحفظ میں بہتری آئی تھی۔

ہمارا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ جوہری ٹیکنالوجی کا تباہ کن استعمال ہے، لیکن ہمارے پاس انمول اور نوری ہسپتال جیسے ادارے موجود ہيں جوجوہری ٹیکنالوجی کے پر امن استعمال میں پہل کرسکتے ہيں۔

پاکستان ریلوے، پی آئی اےاورپاکستان سٹیل ملز کی ورک شاپس ایک زمانے میں عالمی معیار کی مانی جاتی تھیں اور یہ عالمی معیارکے ادارے بھی تھے۔ لیکن اب ہم میٹرو ٹرینز درآمد کررہے ہيں۔ اس میں کوئی برائی نہيں ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ان ٹرینوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے باصلاحیت لوگ نہيں ہیں۔ ہم نے ان اداروں کے انسانی وسائل کے لیے تعلیم پررقم خرچ ہی نہیں کی۔

س: کیا ایچ ای سی نے اسلام آباد میں دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر طلباء کو بیرون ملک بھجوانے کے لیے نقشہ تیار نہيں کیا تھا؟
اگر ہم ایچ ای سی کے بارے میں بات کرتے ہيں تو اس کا ‎شروع میں اس وجہ سے خیرمقدم کیا گیا تھا، کیونکہ اس سے پہلے اعلیٰ تعلیم کی فروغ کے لیے کوئی کام نہيں کیا گيا تھا۔ جس وقت ہم اپنے جوہری پروگرام پر کام کررہے تھے، اس دوران لوگوں کو جوہری ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ضروری شعبہ جات میں خصوصی مہارت حاصل کرنے کے لیے باہر بھیجا جا رہا تھا۔ لیکن ایچ ای سی کی صورتحال کچھ مختلف تھی۔ اس نے ملک کے سماجی اورمعاشی ترقی کے کسی نقشے کے مطابق طلباء کو اعلی تعلیم کے لیے ملک سے باہر نہيں بھیجا۔ اس میں ان کی غلطی نہيں تھی۔ اس وقت کمیشن کی باگ دوڑ ماہرین تعلیم یا صاحب بصیرت شخصیات کے بجائے افسر شاہی نظام کے عہدے دار سنبھال رہے تھے۔ ڈاکٹر عطا الرحمان تو تھے، لیکن مجھے معلوم نہيں ہے کہ انہوں نے اس پر توجہ کیوں نہیں دی۔

ایچ ای سی سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ جو لوگ اعلی تعلیم کے اخراجات برداشت نہيں کرسکتے تھے انہيں بیرون ملک کی نمایاں یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے وظیفے دیے گئے، جس کی وجہ سے انہیں پاکستان سے باہر پڑھنے کا موقع ملا۔ ان میں سے کئی طلباء پاکستان واپس نہيں آئے ہیں، لیکن ہم اس کے باوجود بھی انسانی وسائل کا ایک ذخیرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اگر ہمارے ادارے اور ان کے سربراہ چاہيں تو ہم ان افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

س: کیا پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں سائنس کے ایسے کوئی حلقے موجود ہیں جن کے ذریعے وہ مل کر کمیشن اور فیصلہ ساز دوسرے اداروں کو تعلیمی پالیسیوں کے متعلق اپنی رائے دے سکیں؟
اس وقت فزکس، بلکہ سائنس کے کسی بھی شعبے میں، دباؤ ڈالنے والا کوئی بھی حلقہ موجود نہيں ہے، لیکن ان کی اشد ضرورت ہے۔ اساتذہ کے غیررسمی نیٹ ورکس موجود تو ہیں، لیکن ایسا کوئی بھی منظم ادارہ نہيں ہے جو فیصلہ کرنے والوں کو باخبر رائے فراہم کرسکے۔

اسلام آباد کا سینٹر برائےفزکس (Centre for Physics) اس قسم کا حلقہ بن سکتا ہے۔ اس کے بانی ڈاکٹر رضی الدین صحیح معنوں میں ایک صاحب بصیرت شخصیت تھے، اور انہوں نے ہی اس مرکز کی شکل میں پاکستان میں فزکس کی تعلیم اور تحقیق کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن ان کے بعد، یہ مرکز ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو اس ملک کی دفاعی تنظیموں کی باگ دوڑ سنبھال رہے ہيں۔ اس کے دائرہ کار اور رسائی دونوں کو محدود کردیا گيا، اور یہ محض ایک سرکاری ادارہ بن کر رہ گیا۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار لیزر اینڈ آپٹکس (National Institution for Laser and Optics) کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔

س: آپ کے خیال میں اس ملک میں وہ کونسا شعبہ ہے جسے سائنسی ترقی کی اشد ضرورت ہے؟
صحت کا شعبہ۔ ہمارے پاس ایک ای سی جی مشین کی مرمت تک کے لیے مقامی ٹیکنیشنز موجود نہيں ہیں، اور ہمیں ہسپتالوں کی ایکسرے مشینوں کی مرمت کے لیے بھی فلپس کے ماہرین بلوانے پڑتے ہیں۔ کوئی وجہ نہيں ہے کہ ہم صحت کے شعبے میں عام استعمال ہونے والی مشینیں خود سے نہیں بنا سکتے۔خاص طور پر اس وقت جب ہم اس سے بہت مشکل کام کرنے میں کامیاب ہوگئے ہيں۔ جوہری ہتھیار بنانا اس سے کہیں زيادہ مشکل تھا۔ ہم اگر جوہری ہتھیار بنا سکتے ہيں، تو ہم اپنے صحت کے شعبے کو بہتر کیوں نہیں بناسکتے؟ ہمیں وقت اور وسائل میں سرمایہ کاری کے علاوہ اور کسی چیز کی ضرورت نہيں ہے۔

جوہری توانائی کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ اگر سیاست دانوں کی مرضی شامل ہو، عوام کا تعاون حاصل ہو، مالی رکاوٹیں نہ ہوں، اور سائنسدانوں اپنے پراجیکٹس کے لیے خود ذمہ دار ہوں، تو ایسا کوئی کام نہيں ہے جو ناممکن ہو۔ دوسرے سرکاری اداروں میں بھی کچھ اسی قسم کے جذبے کی ضرورت ہے۔

تحریر: عمیر رشید (Umair Rasheed)

Read in English

Authors
Top