Global Editions

پلان ایکس نے خواتین کو بااختیار بنانے کے پروگرام کا آغاز کر دیا

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے پلان ایکس کے تعاون سے خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں معاونت اور انکی تربیت کے لئے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کو قومی ترقیاتی دھارے میں لانا اور انہیں کاروباری سرگرمیوں کے تیار کرنا اور انکی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے خواتین کی استعداد کار میں اضافے کے لئے تربیت اور معاونت فراہم کی جائیگی۔ اب جبکہ پلان ایکس کا آغاز ہوئے دو برس گزر چکے ہیں تو اس تربیتی پروگرام میں صرف چار فیصد کمپنیاں ایسی تھیں جنہیں خواتین چلا رہی تھیں۔ پاکستان جہاں کی مجموعی آبادی میں خواتین کو اکثریت حاصل ہے ان اعدادوشمار کو کسی طرح بھی حوصلہ افزا قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ ملک کی مجموعی لیبر فورس میں خواتین کی شرکت کا تناسب 28 فیصد ہے۔

پلان ایکس کی اس کاوش کا ایک اور مقصد اینٹرپینوئرشپ کے منظرنامے پر خواتین کی کاشوں کا اجاگر کرنا بھی ہے۔ اس حوالے سے پلان ایکس کی جانب سے گزشتہ دنوں جاری کی جانیوالی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ملک میں انٹر پنیوئرشپ اور جدت کے تناظر میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے پلان ایکس نے پاور وویمن انشیٹو کا آغاز کیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت ملک کی صف اول کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم خواتین کو تربیت، اکیڈمک پارٹنرشپ کے لئے منتخب کیا جائیگا تاکہ خواتین طالبات کو انٹرپینوئرشپ کی جانب نہ صرف راغب کیا جا سکے بلکہ ملک کی مجموعی ورک فورس میں ان کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے پلان ایکس کی ٹیم مختلف یونیورسٹیوں میں سیمنارز کا انعقاد کریگی جس میں خاص طور پر خواتین کے ایسے پروگرامز میں شرکت کے لئے حوصلہ افزائی کی جائیگی۔

اس کے ساتھ ساتھ پلان ایکس خواتین کی جانب سے بنائی جانیوالی کمپنیوں کو اپنے ایکسیلیٹر پروگرام میں شامل کریگا جس کے تحت ان خواتین کی جانب سے بنائی گئی نئی کمپنیوں کو تین ماہ کی بنیادی تربیت فراہم کی جائیگی۔ یہ کمپنیاں بعد ازاں پلان ایکس ایکسسلریشن پروگرام کے لئے درخواستیں بھی دینے کی اہل ہونگی جس کے تحت انہیں پلان ایکس میں مزید چھ ماہ کی تربیت اور تمام تر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پاور وویمن پروگرام کے لانچ پر پلان ایکس کی ڈائریکٹر حٖفضہ شورش کا کہنا تھا کہ پلان ایکس میں بطور ٹیم یہاں صنفی توازن موجود ہے اور مرد و خواتین کو کام کرنے کے لئے صحت مندانہ ماحول دستیاب ہے اور اس پروگرام کے تحت ہم خواتین کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرینگے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں خواتین انٹرپینئورشپ نے اتار چڑھاؤ کے باوجود ترقی کی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران بخش فاؤنڈیشن کی شریک بانی فائزہ فرحان کو معروف جریدے فوربز کی انڈر تھرٹی سوشل انٹرپینئوئرز کی فہرست میں شامل کیا گیا اسی طرح گزشتہ برس ملالہ فنڈ کی شریک بانی شازیہ شاہد اور سگھڑ کی بانی خالدہ بروہی کو اسی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اسی طرح سال رواں میں ایک بزنس کانفرنس کے موقع پر پاکستان اور امریکہ نے ایک مشترکہ ایکشن پلان پر دستخط کئے تھے جس کے تحت خواتین انٹرپینوئرشپ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ انہیں معاشی خود انحصاری میسر آ سکے۔

تحریر: سعد ایوب (Saad Ayub)

Read in English

Authors
Top