Global Editions

پی آئی ٹی بی نےافغان مہاجروں کی رجسٹریشن کے لئے نئی ایپلی کیشن تیارکر لی

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نےپاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کے لئے نئی ایپلی کیشن تیار کی ہے تاکہ ان کی غیر قانونی نقل وحمل روکی جاسکے۔

سال 1979 ء میں روس، افغانستان پر حملہ آور ہوا اور اس کا یہ قبضہ 1988ء تک برقرار رہا جس کے نتیجے میں ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو گئی اور لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی ۔ جسے 20 ویں صدی کی سب سے بڑا مہاجروں کا بحران کہا جاتا ہےاور لاکھوں لوگوں کو اپنے ملک سے پاکستان ہجرت کرنا پڑی،اس وقت کی پاکستانی حکومت نے ان مہاجرین کو خوش آمدید کہا ۔ تیں دہائیاں گزرنے کے باوجود 30 لاکھ سے زائد مہاجرین ابھی تک پاکستان میں رہ رہے ہیں جن میں سے بڑی تعداد افغان مہاجروں کے پاس پاکستان میں رہنے کی دستاویزات نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے پاکستان میں اپنی رجسٹریشن کروائی ہے ۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 14 لاکھ افغان مہاجر رجسٹرڈ ہیں۔

حال میں وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میںاپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ ان افغان مہاجروں کے پاکستانی معیشت پر منفی اثرات کے ساتھ سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں لہذا ان کی باعزت وطن واپسی کے لیے بین الاقوامی برادری تعاون کرے ۔

وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے افغان مہاجروں کو ملکی معیشت پر بوجھ قرار دیتےہوئے کہاہے کہ اس وقت دس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں نوکریاں کرر ہے ہیں جس سے مقامی نوجوانوں کے لئے بے روزگاری کے مسائل پیدا ہوئے ہیں اس کے علاوہ مذہبی ،معاشی ،اور امن وامان کے مسائل اس کے علاوہ ہیں ۔
سال 2014 ء میں آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردی کے حملے کے بعد قومی لیڈر شپ نے اتفاق رائے سے قومی ایکشن پلان ترتیب دیا تاکہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں تیزی لائی جا سکے ۔ اس نیشنل ایکشن پلان کا سب سے اہم نقطہ یہی تھا کہ افغان مہاجروں کے حوالے سے جامع پالیسی تشکیل دی جائے جس کی ابتداء ان تمام مہاجروں کی رجسٹریشن سے کی جائے۔

اس معاملے میں حکومت کی معاونت کے لئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نےنیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA ) کا ڈیٹا بیس کا استعمال کرتے ہوئے بائیو میٹرک کے ذریعے ایک موبائل ایپلی کیشن تیار کی ہے ، اس غرض سے افغان مہاجروں کی رجسٹریشن کے لئے مخصوص اور منفرد نمبر جاری کیا ہے جسےپروف آف رجسٹریشن (PoR) کہا جاتا ہے ۔اس میں افغان مہاجرکی رجسٹریشن کے سلسلے میں اس کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھوں اور فنگر پرنٹ کو ایک مخصوص ڈیوائس کے ذریعے پروف آف رجسٹریشن (PoR) سے میچنگ کی جاتی ہے ۔اسے فی الحال گجرات، اٹک ، راولپنڈی ، چکوال ، میانوالی اور سرگودھا میں کامیابی سے استعمال کیا جارہا ہے۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا سٹاف مقامی ڈی پی او کے تعاون سے اس کا استعمال کر رہا ہےاس ڈیوائس کے ذریعے غیر قانونی مہا جر کی چیکنگ ممکن ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارےبرائے مہاجرین (UNHCR)کے انفارمیشن آفیسر قیصر خان کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن ایک اچھا اقدام ہے اس کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مہاجروں کا پتہ چلایا جا سکتا ہے ، اس کے علاوہ حکومت پاکستان نےتمام مہاجروں کو 31 مارچ 2017 ء تک ملک چھوڑنے کا نوٹس دے دیا ہے جبکہ اب تک 3416 افغان مہاجروں کو ملک بدر کیا جا چکا ہےجن میں سے 2844 مہاجرین خیبر پختونخواہ سے ,195 بلوچستان سے ،ایک اسلام آباد سے اور 376 فاٹا سے ملک بدر کئے گئے ہیں۔ اس موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اب تک 119162 کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ پاکستان سے بیدخلی کے بعد اس مہاجر کا نام ڈیٹا بیس سے نکال دیا جاتا ہے اور اگر وہ مہاجر غیرقانونی طور پر دوبارہ پاکستان داخل ہوتا ہے تو وہ غیر قانونی تصور ہو گا

تحریر : نشمیا سکھیر (Nushmiya Sukhera)

Read in English

Authors

*

Top