Global Editions

پی آئی ٹی بی کی آئی ٹی پالیسی تیار،عوام سے آراءطلب

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے پہلی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی کا مسودہ عوام کے جائزے اور تجاویز کے لئے پیش کر دیا ہے۔یہ پالیسی رواں برس اپریل میں منعقد ہونے والی گول میز کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں پی آئی ٹی بی کے چئیر مین ڈاکٹر عمر سیف نے پنجاب کے لئے ایک جامع اور موثر آئی ٹی پالیسی کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ کانفرنس میں اس امر کو سراہا گیا تھا کہ صوبہ پنجاب نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کارکردگی کی بدولت اور آئی ٹی انڈسٹری کو سہولتیں فراہم کرنے کے باعث صوبے کے سوشو اکنامک ایکو سسٹم میں آئی انڈسٹری کے کردار میں اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب وہ پہلا صوبہ ہے جس نے عام صارفین کے لئے انٹرنیٹ تک رسائی آسان اور سستی بنانے کےلئے براڈبینڈ ٹیکس ختم کیا۔ نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتیں ابھارنے کے لئے پلان نائن اور پلان ایکس جیسے ادارے متعارف کرائے جہاں نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی جاتی ہے۔ ان دونوں اداروں کے دنیا کے معروف تدریسی اداروں اور انڈسٹریز کے ساتھ موثر رابطے بھی موجود ہیں۔ پنجاب حکومت آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی کے لئے کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ای گورننس کو فروغ دیا جائے اور عوام کی سہولت کے لئے آسان حل تلاش کئے جا سکیں۔ اس ضمن میں بھی کافی پیش رفت ہوئی ہے جس میں حج مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹم، ای سٹیمپ پیپرز کا اجراء اور جرائم کی ای میپنگ شامل ہے۔ تاہم پالیسیوں کے تسلسل کے لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ اس حوالے سے پالیسی فریم ورک تیار کیا جائے۔
پنجاب آئی ٹی پالیسی 2016 ءحقیقت میں مختلف شعبہ جات کے لئے پالیسیوں کا ایک سیٹ ہے جس میں چھ شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، انڈسٹری، تعلیم، شہری اور سٹارٹ اپس، صحت، گورننس اور مائیکرو، سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزیز۔ اس کے ساتھ ساتھ 30 کے قریب چھوٹے سب سیکٹرز کو بھی اس پالیسی کے احاطہ میں لایا گیا ہے تاکہ ان شعبوں کی کارکردگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں ترقی بھی ہو۔

حکومت نے ابتدائی مسودہ میں 10 اہداف کا تعین کیا گیا ہے جس میں ہر ہدف کے حصول کے لئے مقاصد اور پالیسی عزائم کا تعین کیا گیا ہے جس پر حکومت عمل درآمد کریگی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت انفارمیشن اینڈ ڈیٹا سیکیورٹی پالیسی، الیکٹرانکس ہارڈوئیر مینوفکچرنگ پالیسی اور رائٹ آف وے پالیسی بھی متعارف کرا رہی ہے۔اس پالیسی کی تشکیل کےلئے اس امر کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے کہ پالسی سازی کے عمل کے دوران زمینی حقائق مدنظر رہیں۔ اس مسودہ کی تیاری کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایک سو پچاس سے زائد افراد نے حصہ لیا اور ابتدائی مسودہ کی تیاری کے لئے ملک بھر میں بیس سے زائد فوکس گروپ مباحث کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ماہرین، تدریسی شعبہ، آئی ٹی انڈسٹری ، حکومتی عہدیداروں اور تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی اور اپنی اپنی آراء پیش کیں۔

مسودہ کی تیاری کے مراحل کے دوران سہ نکاتی حکمت عملی اپنائی گئی جس کے تحت مزید پچاس سے زائد ماہرین سے انفرادی سطح پر میٹنگز کی گئیں اور مختلف شعبوں اور ان کی ممکنہ کارکردگی کے بارے میں آراء حاصل کی گئیں۔ ان میں IoT کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں سمیت قومی اور بین الاقوامی سطح پر تجربہ کار تحقیق کاروں کی مدد سے اس شعبہ میں عالمی رحجانات کا جائزہ لیا گیا اور اس حوالے ممکنہ چیلنجوں اور مواقعوں کا بھی احاطہ کیا گیا۔ مسودہ کی تیاری کے لئے پچیس ممالک اور ریاستوں میں اس حوالے سے موجود پالیسی فریم ورکس سے بھی استفادہ حاصل کیا گیا۔اس حوالے سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چئیرمین ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا تھا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی موثر اور مسلسل ترقی کے لئے بنیادی حیثیت کی حامل ہے اور پنجاب انفارمشین ٹیکنالوجی پالیسی کے ڈرافٹ کے ذریعے حکومت پنجاب نے اس کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب آئی ٹی کا دائرہ کار ہر شعبے تک پھیلایا جا سکے گا۔ ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا تھا کہ ہم نے ڈرافٹ تیار کر کے اسے عوام کے سامنے پیش کر دیا ہے تاکہ وہ اس کا جائزہ لیں اور اپنی تجاویز سے ہماری ویب سائٹ پر ہمیں آگاہ کریں تاکہ اس سارے عمل میں شفافیت برقرار رہے۔ میں تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس مسودےکا ضرور جائزہ لیں اور ہمیں اپنی قیمتی آراء سے آگاہ کریں۔ اس پالیسی ڈرافٹ کو www.policy.pitb.gov.pk پر دیکھا جا سکتا ہے۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors

*

Top