Global Editions

سور کے جسم میں انسانی اعضاء کی تیاری کا پہلا تجربہ ناکام

سور کے جسم کے اندر انسانی اعضا کی تیاری کے تجربے کے اعلان نے واشنگٹن سے لے کر ویٹی کن تک تمام پالیسی سازوں کو حیرانی میں مبتلا کر دیا تھا تاہم اس متنازعہ تجربے پر عمل جاری رہا اور اب سائنس دانوں نے اپنی نوعیت کے اس پہلے تجربے کے نتائج کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ جس کے تحت اپنی نوعیت کا یہ پہلا تجربہ ناکام رہا ہے۔ اس تجربے کے تحت انسانی سٹیم سیل کو سور کے جنین میں داخل کیا جانا تھا اور وہاں اس انسانی عضو کی پرورش کرنا مقصود تھا۔ اس خیال باطل کو ثابت کرنے کرنے کے لئے ایسے جانور کا انتخاب کیا گیا جس کے ٹشوز انسانی ٹشوز کے قریب تر پائے جاتے ہیں۔ کیلی فورنیا کے سالٹ انسٹی ٹیوٹ میں انسانی سٹیم سیلز کو دو ہزار سوروں کے جنین میں داخل کیا گیا اور چار ہفتوں تک اس کی نشوونما کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ سائنس دانوں کی اس کاوش کی تفصیلات جریدے ’’سیل‘‘ میں شائع کی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اپنی نوعیت کا یہ پہلا تجربہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکا۔ چند انسانی خلیے ہی بچ سکے اور جانوروں کے جسم میں انسانی اعضا کی تیاری کے عمل میں کسی قسم کی معنی خیز پیش رفت نہ ہو سکی تاہم سائنس دانوں کے مطابق انسانی اعضا کی تیاری کے حوالے سے یہ پہلا تجربہ تھا جو ناکام رہا۔ تاہم یہ تجربات جاری رہیں گے یا نہیں اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ واضح رہے کہ ہر سال ہزاروں افراد اعضا کی پیوند کاری کے منتظر رہتے ہوئے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پالیسی ساز اب ان تجربات کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے تجربات کے غیر متوقع نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں جو باعث تشویش ہو سکتے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عوامی ردعمل جاننے کے لئے پالیسی طے کی ہے اور عوام سے اس ضمن میں آراء طلب کی ہیں اور اب تک انہیں بائیس ہزار کے قریب عوامی آراء وصول ہو چکی ہیں جن میں سے اکثریت ایسے تجربات کی مخالف ہے۔ اس حوالے سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر برائے سائنس پالیسی کیری والینیٹز (Carrie Wolinetz) کا کہنا ہے کہ ایجنسی نے ابھی تک پالیسی طے کرنے کے لئے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اس حوالے سے ابھی تک کوئی بات چیت نہیں ہوئی ان کا کہنا تھا کہ نئی انتظامیہ کی جانب سے یہ معاملہ نہیں اٹھایا گیا اور ہم بھی اپنی راہ پر ہی چل رہے ہیں۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top