Global Editions

پالتو جانوروں کی کلوننگ انسانی کلوننگ کو تھوڑا قریب لا رہی ہے

لوگ اپنے پالتو جانوروں کی کلون کاپیاں کروا رہے ہیں تاکہ جسمانی اور روحانی روابط کو محفوظ رکھ سکیں اوراپنے مردہ بچوں سے منسلک رہیں۔

جب بار اسٹرییسینڈ(Bara Streisand) نے ورائٹی میگزین کو انکشاف کیا کہ انہوں نے 50,000ڈالر ادا کرکے اپنے کتا کلون کروایا ہے تو بہت سارے لوگوں کو پہلی دفعہ پتا چلا کہ کلوننگ کے ذریعےپالتو اور دیگر جانوروں کی کاپی حاصل کرنا ایک حقیقی کاروبار ہے۔

یہ صحیح ہے: آپ ایک کتے، ایک گھوڑے، یا ایک اعلیٰ بیل کی کلوننگ کے لئے رقم ادا کرتے ہیں اور ایک مہینے کے اندراندر اس کی کاپی حاصل کر سکتے ہیں۔

اگرچہ جس سٹوری نے میرے دماغ کو ہلایا ، وہ کچھ دن بعد آئی۔ یہ مشی گن کی ایک پورٹریٹ فوٹو گرافر مونی مسٹ (Mooni Must) کے بارے میں تھی جس نے اپنے لیبرڈار کتے بیلی بین کو کلون کرانے کے لئے رقم ادا کی جو کہ ان کی سب سے بڑی بیٹی مایا کا تھا۔

مایا نے 10 سال پہلے خود کشی کی تھی۔مونی مسٹ کے لئے بوڑھے کتے کی کلوننگ کروانا اپنی بیٹی کی یاد کو تازہ رکھنے کی ایک راہ تھی اور وہ کہتی ہےاس کے ـ "غم"کی حفاظت کریں۔

کلوننگ کے عمل کے دوران، مونی مسٹ پیدا ہونیوالے کتے کی اپ ڈیٹس بشمول سونوگرامز موصول کرتی رہی۔ ٹائم لائن بھرپور اتفاق سے بھری ہوئی تھی۔جانوروں کے ڈاکٹر ز نے کلون شدہ کتے کی دل کی دھڑکن کو 11 اکتوبر کومایا کی سالگرہ کے موقع پر محسوس کی ۔ کتا نومبر میں پیدا ہوا، ٹھیک اسی ماہ جس میں مایا نے خود کشی کی تھی۔

"یہ ایک نشانی ہے۔ میرے لئے یہ ایک نشانی ہے کہ مایا اس عمل میں ملوث ہے اور آگاہ ہے، "مونی مسٹ نے مجھے بتایا۔

میرے سر میں خطرے کی گھنٹی بجی۔مونی مسٹ صرف ایک پالتو جانور کی کلوننگ نہیں کروا رہی تھی۔ وہ کھوئے ہوئے بچے کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ واقعی ایک حقیقی انسانی کلوننگ کےمنظر نامےکے قریب لگ رہا تھا، جس میں دل برداشتہ والدین اپنے بیٹے یا بیٹی کو تبدیل کروانے کی کوشش کرتے ہیں جو جلدی مر جاتا ہے۔

میں نے مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی میں ایک جانوروں کی کلوننگ کےسائنسدان جوز سیبیلی کو ایک سوال بھیجا: کیا انسان کی کلوننگ کے بارے میں فکر مند ہونے کا دوبارہ وقت آ گیا ہے؟

جوز سیبیلی نے فوری طور پر ای میل میں جواب بھیج دیا: "جی ہاں۔"

لرزہ طاری کرنے والی سوچ

میں نے 15 سال پہلے سیبیلی سے ملاقات کی تھی جب میں صحافیوں کے ایک گروہ میں شامل ہو کرنان سٹاپ کلوننگ کی کوریج کے لئے گیا تھا۔ اس کے بعد، یہ محسوس ہوتا تھا کہ کوئی بھی کسی بھی وقت انسانی کاپی حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ایک بلند آوازاطالوی ڈاکٹر اینٹینوری( Antinori) تھا جس نے کہا کہ وہ کوشش کررہا تھا اور کلونڈ (Clonaid)نامی ایک انسانی کلوننگ کمپنی تھی؛یہ سب بھی ممکن لگ رہا تھا جب انہوں نے ذرائع ابلاغ کے سامنے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کلوننگ سے حوا نامی بچی کو تخلیق کیا ہے۔ 2002 میں نیشنل اکیڈمیز نےاس صورت حال پرایک ہنگامی رپورٹ جاری کی۔

لیکن انسانی کلوننگ کبھی نہیں ہوئی۔ وجہ نتائج کے ساتھ واضح ہے۔ کلوننگ کے بنیادی طریقہ کار میں، جیسا کہ 1996 میں ڈولی بھیڑکو تخلیق کرنے کے لئے استعمال کیا گیاتھا، سائنسدان ایک مکمل بالغ سیل لیتے ہیں اور ایک انڈہ کے ڈی این اے کو ہٹا کر، اس کو لگاتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونیوالا ایمبریو ایک کلون ہے۔

لیکن یہ عمل ناقص ہے۔ بہت سے جانوروں میں، 100 میں سے صرف ایک کلون ایمبریو پیدائش کی طرف جاتا ہے۔ بہت سارے ایمبریوآئی وی ڈش میں مر جاتے ہیں جبکہ دوسرے ایمبریو مادررحم میں مرجاتے ہیں۔ کلون شدہ ایمبریو کچھ غیر معمولی بیماریوں سے متاثر ہوتے ہیں اور جلدی مر جاتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز میں 2001 کے ایک مضمون کے مطابق آپ کو "سوچ کر لرزہ طاری ہو گا" ۔ "کیا ہو گا اگر انسانوں کوآج کی ٹیکنالوجی سے کلون کیا گیا۔"

پھر بھی، کلوننگ مویشیوں اور پالتو کتوں میں مزید آگے چلی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے انڈے بڑی تعداد میں اکٹھے کیے جا سکتے ہیں جو کہ کمپنیوں کو اجازت دیتے ہیںکہ ٹیکنالوجی کی وراثتی کمزوریوں پر قابو پا سکیں ۔ ناکام کلون ایمبریو کاروبار کرنے کی صرف ایک قیمت ہیں۔

مسئلہ کی وجوہات کوآج بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک جلد کے خلیے کو جلد کا خلیہ بننے کے لئےایک مکمل جین کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ بہت سارے ویسے ہی بند ہیں۔ کلون جس طرح کام کرتی ہے وہ یہ ہے ایک انڈے میں جینز کو واپس تبدیل کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہوتی ہے جسے ری پروگرامنگ کہتے ہیں۔ ایک انڈے کے پاس اس عمل کو مکمل کرنے کے لئے چند گھنٹے ہوتے ہیں اور کچھ جینز مزاحمت کرتے ہیں۔

جوز سیبیلی کا کہنا ہے کہ یہ وہ مزاحمت کرنے والے جینز ہیں جو کہ بند ہیں اور ایمبریو پیدا کرنے میں اپنا کرادار ادا کرنے کے لئے دستیاب نہیں ہیں جن کو کلون کی موت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

کچھ بدل گیا

یہ وہ مقام ہے جہاں پر حالیہ کامیابی ملی ہے۔جوز سیبیلی نے مجھے زی ژانگ کے کا م کے بارے میں بتایا۔ زی ژانگ بوسٹن چلڈرن ہسپتال میں سٹم سیل کے ماہر حیاتیات ہیں اور ہاورڈ ہیوز میڈیکل انسٹی ٹیوٹ( (Howard Hughes Medical Institute میں تفتیش کار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ژانگ نے ان کیمیککلز کا پتا چلایا ہے جو کہ اگر انڈوںمیں شامل کئے جائیںتو پھنسی ہوئی جینوں کے خارج ہونے میں مدد دیتے ہیں۔

ژانگ کے ہاتھوں ان "ترامیم" کے اضافے نے کلوننگ میںڈرامائی بہتری لائی ہےجس سے بالغ خلیات میں موجود موجود رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔ژانگ نے اس چیز کا سب سے پہلے چوہوں پر تجربہ کیا۔ ان کا کہنا ہے اب ایک فیصدکی بجائے 10 فیصدچوہے کلون ایمبریو سے پیدا ہوتے ہیں۔

ژانگ ،جنہوں نے ایک پیٹنٹ کی بنیاد پر دریافت کی، کا کہنا ہے ،"کارکردگی میں اضافہ بہت زبردست ہے۔"

ژانگ نے اس عمل کو انسانی انڈوں پر دوہرایا۔ 2015 میں ان کی ٹیم نے چار خواتین کو نوکری پر رکھا جن کا کام اووری سے انڈے نکالنا تھا۔ ان میں پھر دوسرے لوگوں کے جلد کے خلیے لگائے گئے۔

جینز خارج کرنے والے مالیکیوز کے بغیر، کلون ایمبریو کبھی بھی صحیح طریقے سے تیار نہیں ہوتے۔ لیکن ترامیم کے ساتھ، ان میں سے ایک چوتھائی تیار ہوتے ہیں۔ ژانگ نے کہا ، "ہم نے بالغ خلیات میں رکاوٹوں کو صاف کرنے کی کوشش کی۔ "باٹم لائن: ہم دوسری صورت میں ناکام ہو گئے ہوتے۔"

یہ بات واضح ہے کہ ژانگ کلوننگ سے بچے پیدا کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کررہا۔ اس کی بجائے اس کامقصد ایک چھوٹے سے انسانی ایمبریو کو کلوننگ سے پیدا کرنے کا مقصدسٹم خلیات حاصل کرنا ہے۔ "تھیراپٹک کلوننگ“(therapeutic cloning) کے طور پر مشہور یہ ایک متبادل ٹشو کے ایک ذریعہ کے طور پر ایک ایمبریو کے ایک سٹم سیل پیدا کرنے کا ایک مضبوط طریقہ ہے جو کہ جینیاتی طور پر ڈونر بالغ سے مشابہ ہوں۔

تھیراپٹک کلوننگ ایک نیاآئیڈیا نہیں ہے۔ جوز سیبیلی نے خودسب سے پہلے 15 سال قبل کوشش کی (اور ناکامی ہوئی)۔ جب اس طریقے سے کام نہیں بنا تو سائنسدان لیب میں جلد کے خلیوں سے ری پروگرامنگ سے سٹم خلیوں کو بنانے کے دیگر طریقوں کی طرف منتقل ہوئے۔ اچانک، اگرچہ، سٹم خلیات سے کلوننگ اب ایک جذباتی سکیم نہیں ہے جو کہ ایک دور میں یہ ہوا کرتی تھی۔ژانگ کا کہنا ہے کہ بہترکارکردگی کے ساتھ، ڈاکٹر اسے ان لوگوں کے لئے مماثلت رکھنے والے ٹشو بنانے کے لئے اصل میں استعمال کرسکتے ہیں جو کہ خرچہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ ایک کمپنی، نیوسٹم ،شروع کر رہے ہیں جس میں کلونڈ سٹم خلیات کا بنک ہو گا۔

"اس سے پہلے، یہ تھیوری میں ممکن تھا، لیکن آپ کو بہت زیادہ انڈے استعمال کرنا پڑتے تھے، لہذا یہ ایک حقیقت نہیں تھی"۔ "اب، کارکردگی کے ساتھ، یہ ایک حقیقت بن گیا ہے۔"

بندر وں کی کلوننگ

ہم کلون انسانی ایمبریو کو اچھی طرح سے بنا سکتے ہیں۔ کیا ہم مزید آگے بڑھ سکتے ہیں اور ان ایمبریوسے بچے بنا سکتے ہیں؟ جنوری 2018 میں اس حوالے سےایک اشارہ ملا جب چین میں محققین نے چار بندر کزنوں کو پہلی دفعہ کلون کیا۔ بندر کے دو خوبصورت بچوں زوہانگ زوہانگ اور ہوا ہوا
( Zhong Zhong and Hua Hua)کی تصاویر تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گئیں۔

چینی سائنسدان بندروں کو کلون میں کامیاب کیسے ہو گئے جبکہ اس حوالے سے پچھلی تمام کوشش ناکام ہوگئی تھیں؟ جواب یہ ہے کہ انہوں نےژانگ کے کارکردگی بڑھانے والے مالیکول استعمال کیے۔

تمام مسائل حل نہیں ہو گئے ہیں۔ چینی جانوروں کو تخلیق کرنے کے قابل اس لئے ہوئے کیونکہ وہ بندر کےایک اسقاط حمل والے بچے کی جلد کے خلیات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان دو مرنے والے دو بندرو ں کی تھوڑی سی تفصیل دستیاب ہے۔ لیکن یہ ایک محفوظ شرط ہے کہ آپ نا بالغ خلیات کی نامکمل ری پروگرامنگ سے شروع کریں۔

ژانگ کے نقطہ نظر میں، یہ اب بھی پاگل پن اور غیر عملی (اور غیر قانونی) قدم ہو گا کہ آپ فرد کوکلون کرنے کی کوشش کریں۔ اعلیٰ کارکردگی کے باوجود،دو بندروں کوکلون کرنے کے لئے وہ نوٹ کرتے ہیں کہ چینی ٹیموں نے 63 سروگیٹ مائوں اور 417 انڈوں کا استعمال کیا تھا۔ صرف درجنوں انسانی کرائے کی مائوں کی کوکھ اور انڈوں کے ڈونرز کا تصور کریں۔

ژانگ کہتے ہیں ،"کوئی معاشرہ اس کو قبول نہیں کرسکتا۔" "دوسری طرف، اگر آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں، کیا آپ اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنا جا سکتے ہیں؟ ٹھیک ہے، جواب ہاں ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ آخر میں ٹیکنالوجی کی نقطہ نظر سے، انسانی کلوننگ ممکن ہو سکے گی۔ "

کلوننگ کی ترغیب

انسانی کلون کی تخلیق صرف ٹیکنالوجی کا سوال نہیں ہے۔ آپ کو ایسا کرنے کی ضرورت ہو گی، ماہرین مدد کرنے کے لئے تیار ہوں گے اور کوئی اس سب کے لئے عطیہ دینے کو تیار ہو گا۔

ارب پتی افراد کے لئے کلوننگ کا بندوبست کرنا سب سے آسان حصہ ہوسکتا ہے۔ مارچ میں سی بی ایس چینل کے پروگرام 60 منٹ میں ایک حصہ لا ڈولفینا( La Dolfina) کے بارے میں نشر کیا گیا۔لا ڈولفیناایک ارجنٹائن کی پولو ٹیم ہے جس کےسارے کھلاڑیوں نے ایک ہی گھوڑے کی کاپی پر سواری کرکے گیم کھیلی۔

گھوڑے کی کلوننگ کروانے والے ٹیکساس کے بزنس مین ڈان ایلن میکر نے سی بی ایس کو بتایا ،" کرہ زمین پر کچھ امیر ترین لوگوں نے مجھےایک انسان کی کلوننگ کرنے کے لئےکہا ہے۔" میکر نے کہا کہ انہوں نے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ: کوئی اسے یہ بتائے گا کہ وہ کلون کیوں چاہتے ہیں۔

لیکن ہم ایک وجہ جانتے ہیں ۔ شاید سب سے زیادہ طاقتور وجہ۔ جب میں نے فون کے ذریعہ فوٹو گرافر مونی مسٹ سے بات کی تو اس نے اپنی بیٹی کی خود کشی کے موقع پر اپنی تباہی کی روداد بتائی۔

مونی مسٹ کو اپنی بیٹی مایا کا کتا وراثت میں ملا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ کلوننگ کا خیال انہیں کافی سالوں بعد آیا جب کتا تقریباً 14 سال کا ہوا۔ مونی نے کہا،"مجھے ڈر تھا کہ کتے کے مرتے ہی سارے مایا کو بھول جائیں گے اور میں بھی اسے بھول جائوں گی۔" "میں نے سوچا کہ میں کتے کو کھو بیٹھوں گی اور میں حقیقی طور پرگر رہی تھی۔ اوہ میرے خدا، میں اسے کلون کروانے جا رہی ہوں۔ میں بہت زیادہ خواہش مند تھی۔ "

آخر کار مونی مسٹ نےایک جانوروں کے ڈاکٹر کو کتے کی جلد کے ٹشو کا نمونہ حاصل کرنے کے لئے بلایا اور اسے ایک پرپیٹیٹ PerPETuate)) نامی کمپنی میں بھیج دیا۔1300 ڈالر کے عوض پرپیٹیٹ پالتو جانور کی جلد سے سیل لائن تیار کرتی ہے اور بعد میں کلوننگ کے لئے مائع نائٹروجن میں خلیات کو ذخیرہ کرتی ہے۔ یہ سروس دراصل ایک جانور کے ڈی این اے کو محفوظ کرنے کا ایک سستا طریقہ ہے اور جب آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کوکلون چاہیے تو آپ کو پوری ڈالر 50,000 کلوننگ کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔  پرپیٹیٹ کے بانی رون گیلیسپی(Ron Gillsepie) کہتے ہیں کہ وہ کتے، بلیوں اور یہاں تک کے میکسیکا کے چڑیا گھر کے شیر سے منجمد ٹشو ذخیرہ کررہے ہیں۔ منجمد ٹشو ذخیرہ کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں مونی مسٹ ایک مردہ بچہ سے تعلق رکھنے والے کتے کو کلون کروانے والی اکیلی نہیں ہے۔ تاہم کمپنی انسانی خلیات کو قبول نہیں کرے گی۔مرحومین کے والدین یا کسی اور سے بھی نہیں۔

گرون گیلیسپی کا کہنا ہے ، "ہمیں کئی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔" "میں کہتا ہوں کہ ہم یہ نہیں کرتے ہیں۔ اور جب لوگ مجھے پر دبائو ڈالتے ہیں کہ وہ کہاں سے ایسا کر سکتے ہیں، میں کہتا ہوں 'مجھے نہیں پتہ۔میں اس چیز کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔ہمیں اس چیز کے بارے میںسب سے بڑی شکایت ایک یہ ہے کہ یہ چیز انسانی کلوننگ کی طرف لے کر جارہی ہے اور لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور شروعات مجھ سے کرتے ہیں۔ "

بیلی بین کے خلیات ویا جن پٹس ViaGen Pets)) منتقل کئے جاتے ہیں جو کہ کلوننگ کی خدمات دینے والی ٹیکساس کی کمپنی ہے۔ ستمبر 2017 میں،مونی مسٹ کو پتا چلا کہ بیلی بین کے ایمبریو کو ایک کرائے کی کوکھ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ دو ماہ بعد، مونی مسٹ نے نیا کتا اٹھایا۔ وہ کہتی ہیں کہ کتے میں ایک حقیقی روح ہے اور اس میں ہر چیز ہے جو میر ی بیٹی میں تھی۔ تفریح کرنے والی، میل جول والی، مہربان اور لوگوں کی طرف کشش رکھنے والی۔ "میں محسوس کرتی ہوں کہ میں اسے چھو سکتی ہوں اور یہ صرف ایک روحانی رابطہ نہیں ہے۔"

میں نے آخر میں مونی مسٹ سے پوچھا: کیا انہیں موقع ملتا تو وہ مایا کو کلون کرواتیں؟
وہ اس سوال کا مناسب جواب نہ دے سکیں۔وہ کہتی ہیں، "جب آپ کا بچہ مرتا ہے تو آپ ایک اچھے مقام پر نہیں ہوتے۔ آپ ایک ایسے مقام پر نہیں ہوتے کہ آپ حقیقی فیصلے کر سکیں۔ "

دراصل وہ مانتی ہیں کہ لوگ سوچتے تھے کہ وہ آخری دہانے پر تھیں جب انہوں نے کتے کو کلون کروانے کی ٹھانی۔ وہ کہتی ہیں، "یہ خاص طور ہر میرے حصے کے طور پر ایک بے قرار کوشش تھی۔ میری دوسری بیٹیوں نے سوچا کہ میں نے اپنا ماربل کھو دیا ہے۔ "لیکن اس نے کام کیا۔اس قسم کا سوچناخوف پیدا کرتا ہے کہ اس چیز مطلب کیاہے۔ "

تحریر: اینٹیوریگالڈو(Antanio Regalado)

Read in English

Authors
Top