Global Editions

کرونا وائرس کے شکار افراد پہلے ہفتے میں سب سے زيادہ جراثیم پھیلا سکتے ہيں

گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہننے سے بہت زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے۔

جریدہ نیچر (Nature) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کے شکار افراد علامات ظاہر ہونے کے پہلے ہفتے کے اندر سب سے زيادہ جراثیم پھیلاتے ہيں۔

تفصیلات: ریسرچرز نے جرمنی کے شہر میونخ سے تعلق رکھنے والے نو مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جن میں کرونا وائرس کی ”معتدل“ علامات واضح تھیں۔ اس تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ افراد 14 روز کے دوران کس حد تک بیماری پھیلا سکتے ہيں۔ ان ریسرچرز نے مریضوں کے گلے اور پھیپھڑوں سے سیمپلز حاصل کرنے کے علاوہ، ان کے تھوک، بلغم، پیشاب، خون اور پاخانے کا بھی تجزیہ کیا۔

نتائج: اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ covid-19 گلے میں پھیل رہا تھا اور علامات شروع ہونے کے پہلے پانچ روز کے دوران اس وائرس کے پھیلاؤ میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ تاہم علامات ختم ہونے کے بعد بھی اس وائرس کی نشاندہی ممکن تھی۔ کرونا وائرس خون، پیشاب اور پاخانے کے سیمپلز میں موجود نہيں تھا۔ نیز، ان نو مریضوں میں سے چار کی چکھنے اور سونگھنے کی حسیں بھی جواب دے گئيں اور لندن کے کنگز کالج سے وابستہ ریسرچرز کا کہنا ہے کہ ان دو علامات کے شکار افراد میں کرونا وائرس کا امکان بہت زیادہ ہے (تاہم عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جاری کردہ covid-19 کی علامات کی فہرست میں ان کا تذکرہ موجود نہيں ہے)۔

یہ ریسرچرز کیا مشورہ دیتے ہيں؟ اتنے چھوٹے پیمانے پر منعقد کیے جانے والے مطالعے کی بنیاد پر کسی قسم کا نتیجہ نکالنا بے وقوفی ہوگی اور نتائج کی تصدیق کے لیے زیادہ مریضوں کا تجزیہ ضروری ہے۔ تاہم ریسرچرز کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ کی بنیاد پر اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے چیزوں یا سطحوں کے بجائے لوگوں کے منہ سے تھوک اور بلغم کو دوسروں تک پہنچنے سے روکنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماسک پہن کر گھر سے باہر نکلنے سے اس مرض کی روک تھام ممکن ہوسکتی ہے۔ اس وقت امریکی صحت کے اداروں کا کہنا ہے کہ ماسک پہننا ضروری نہيں ہے، لیکن افسران اس مشورے کو تبدیل کرنے پر غور کررہے ہيں۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

Read in English

Authors

*

Top