Global Editions

رقم ادا کرنے کے لیے آپ کے چہرے کا استعمال

چین میں چہرے کی شناخت کے نظام ادائیگیوں کو آتھرائز کرتے ہیں، سہولیات تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور جرائم پیشہ افراد کا کھوج لگاتے ہیں۔ کیا دوسرے ممالک چین کے نقش قدم پر چلنے لگیں گے؟

بلین ڈالر مالیت کی چینی اسٹارٹ اپ کمپنی فیس پلس پلس (++Face) کے دفتر میں داخل ہوتے ہی دروازے کے پاس ایک بڑی سی سکرین پر میرا اترا ہوا چہرا نظر آیا۔

میرے چہرے کی تصویر کو ایک ڈیٹابیس میں ڈال دیا گيا تھا اور اب اس کے ذریعے مجھے اس عمارت تک خودکار رسائی مل چکی تھی۔ اسے میری نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بیجنگ کے مضافات میں واقع فیس پلس پلس کے دفاتر کے دورے کے دوران، مجھے اس کمپنی کے سافٹ ویئر سے اپنے چہرے کی لاتعداد زاویوں سے کھینچی گئی تصویریں مزيد کئی سکرینوں پر نظر آرہی ہیں۔ ایک سکرین پر دکھائی جانے والی ایک ویڈیو میں سافٹ ویئر کو میرے چہرے پر بیک وقت 83 نقاط کی ٹریکنگ کرتا ہوا دکھایا جارہا ہے۔ مجھے تھوڑا عجیب سا تو محسوس ہوا لیکن یہ کافی قابل تعریف بات بھی تھی۔

پچھلے چند سالوں میں کمپیوٹر کی چہرے پہچاننے کی صلاحیت میں کافی بہتری آچکی ہے اور نگرانی اور سہولت کے نقطہ نظر سے چین میں یہ ٹیکنالوجی کافی تیزی سے زور پکڑ رہی ہے۔ چہرے کی شناخت سے پولیسنگ سے لے کر بینکس، دکانوں اور نقل و حمل کی سہولیات تک ہر چیز تبدیل ہوسکتی ہے۔

فیس پلس پلس کی ٹیکنالوجی کئی مقبول ایپس میں استعمال ہورہی ہے۔ صرف اپنا چہرہ دکھا کر موبائل ادائيگی کی ایپ علی پے کے ذریعے، جسے چین میں 12 کروڑسے زیادہ افراد استعمال کررہے ہیں، رقم ٹرانسفر کی جاسکتی ہے۔ چین کی سب سے نمایاں رائيڈ ہیلنگ کمپنی ڈی ڈی (Didi) فیس پلس پلس سافٹ ویئر کے ذریعے مسافروں کے لیے ڈرائیوروں کی تصدیق کرتی ہے۔ (تصویر استعمال کرکے سسٹم کو دھوکا دینے کی روک تھام کے لیے’’لائیونیس‘‘ کا ٹیسٹ موجود ہے، جس کے لیے سکین کیے جانے والے لوگوں کو سکین کے دوران بولنے یا سر ہلانے کی ضرورت ہے)۔

چین میں نگرانی اور پرائیویسی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کی کامیابی متوقع ہے۔ دوسرے ممالک کے برعکس، چین ميں آئی ڈی کارڈز کی تصویروں کا ایک بہت بڑا مرکزی ڈیٹابیس موجود ہے۔ فیس پلس پلس کے دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ مقامی حکومتیں کس طرح یہ سافٹ ویئر استعمال کر کے ملک میں ہر جگہ لگے کیمروں سے مشتبہ افراد کی شناخت کر رہی ہیں۔ یہ کچھ حد تک ڈسٹوپیائی تو ہے لیکن کافی قابل تعریف بھی ہے کیونکہ جس فوٹیج کا تجزیہ کیا جارہا ہے، وہ صاف نہیں ہے اور ڈیٹابیس میں موجود تصاویر کئی سال پرانی بھی ہیں۔

چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کئی دہائیوں سے موجود ہے لیکن ابھی جا کر اس حد تک درست ہوئی ہے کہ اسے محفوظ مالی ٹرانزیکشنز میں استعمال کیا جاسکے۔ نئے ورژنز میں ڈیپ لرننگ کا استعمال کیا جاتا ہے، یہ مصنوعی ذہانت کی ایک ایسی تکنیک ہے جو تصویر کی پہچان کے لیے خاص طور پر اس وجہ سے موثر ثابت ہورہی ہے کیونکہ اس میں ایک کمپیوٹر چہرے کے ان فیچرز پر مرکوز ہوجاتا ہے جس سے کسی شخص کی قابل اعتماد حد تک شناخت ممکن ہو۔

مشین لرننگ اور امیج پراسیسنگ کے ماہر پیکنگ یونیورسٹی (Peking University) کے اسسٹنٹ پروفیسر شیلی یینگ ژہینگ (Shiliang Zhang) کے مطابق چہرے کی شناخت کی مارکیٹ بہت بڑی ہے۔ ان کا لیب فیس پلس پلس کے دفاتر سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو مجھے ان کے طلباء ایک درجن کے قریب کیوبیکل میں پرجوش طریقے سے کام کرتے ہوئے نظر آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’چین میں قومی سلامتی بہت اہم ہے اور بہت ساری کمپنیاں اس پر کام کررہی ہیں۔‘‘

ان میں سے ایک بیدو نامی کمپنی ہے، جو چین کے مقبول ترین سرچ انجن کے ساتھ ساتھ دیگر کئی سہولیات بھی پیش کرتی ہے۔ بیدو کے ریسرچرز نے چند پیپرز شائع کیے ہیں جن کے مطابق ان کا سافٹ ویئر چہرے کی پہچان میں زیادہ تر انسانوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ انھوں نے جنوری میں یہ بات ثابت کرنے کے لیے ایک ٹی وی شو میں شرکت کی جس میں کئی ایسے لوگوں کو بلایا گیا تھا جن کی بالغ افراد کو بچپن کی تصویروں سے پہچاننے کی صلاحیت بہت اچھی تھی۔ بیدو کی کارکردگی ان لوگوں سے بہت بہتر رہی۔

اب بیدو ایک ایسا سسٹم تیار کررہا ہے جس کے ذریعے لوگ صرف اپنے چہرے سے ہی ٹرین کی ٹکٹیں خرید سکتے ہیں۔ يہ کمپنی ٹکٹ کے بغیر تاریخی سیروتفریح کے مقام ووژہین (Wuzhen) میں داخلے کے لیے وہاں کی حکومت کے ساتھ کام کررہی ہے۔ اس میں ڈیٹابیس میں درج کئی لاکھ چہروں کو سکین کرنے کی ضرورت ہوگی اور بیدو کے مطابق وہ یہ کام 99 فیصد درستی کے ساتھ کرسکتے ہیں۔

فیس پلس پلس کے بانیوں کو مشاورت فراہم کرنے والے تسنگ ہوا یونیورسٹی (Tsinghua University) کے اسوسی ایٹ پروفیسر جی ٹینگ (Jie Tang) کہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کی مقبولیت کی وجہ اس کی سہولت ہے۔ کچھ اپارٹمنٹ کمپلیکس رسائی فراہم کرنے کے لیے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں اور دکانیں اور ریستوران اس ٹیکنالوجی سے صارفین کے تجربے کو زیادہ آسان بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ نہ صرف اس طرح خریداری کرسکتے ہیں بلکہ چند کافی شاپس ایسی بھی ہیں جہاں وہ جب بھی جاتے ہیں، ایک چہرے کی شناخت کا سافٹ ویئر سٹاف کو مطلع کردیتا ہے اور وہ ان کا نام لے کر ان کا استقبال بھی کرتے ہیں۔

تحریر: ول نائٹ

Read in English

Authors
Top