Global Editions

کوانٹم کمپیوٹنگ کی مدد سے ادویات اور مواد کی تیاری

نام: ابھینو کنڈالا(Abhinav Kandala)
ادارہ: آئی بی ایم ریسرچ
جائے پیدائش: بھارت

مالیکیولز کے زیادہ درست کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے نئی ادویات سے لے کر بہتر بیٹریوں تک ہر چیز کی کارآمد خصوصیات کی پیشگوئی کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔ لیکن ان چیزوں میں شامل ایٹمز اور الیکٹرانز کو سیمولیٹ کرنے کے لیے وافر مقدار میں کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت پیش آتی ہے جس کی وجہ سے بہترین کمپیوٹرز بھی زیادہ درست ماڈلز استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔

ابھینو کنڈالا مالیکیولز کی سیمولیشن کے لیے کوانٹم کمپیوٹرز کا استعمال کرکے یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہيں۔ 2017ء میں انہوں نے تین ایٹمز پر مشتمل بیریلیم ہائيڈرائڈ (beryllium hydride) کی سیمولیشن کی جو اب تک کسی کوانٹم کمپیوٹر پر سیمولیٹ کیا جانے والا سب سے بڑا مالیکیول ہے۔ اس ماڈلنگ سے زيادہ بڑے مالیکیولز کے درست سیمولیشنز کی بنیاد رکھی گئی جو آگے چل کر نئی ادویات اور مواد کے انکشاف میں معاون ثابت ہوں گے۔

کوانٹم کمپیوٹرز کیوبٹس پر مشتمل ہیں، جن کے ذریعے معلومات کو ایک عام کمپیوٹر کی طرح اینکوڈ کیا جاسکتا ہے۔ ان کیوبٹس میں کوانٹم میکانکس کے اصولوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ عام کمپیوٹرز کے مقابلے میں ایٹمز اور الیکٹرانز جیسے ذرات کی زیادہ آسانی سے ماڈلنگ کرسکتے ہيں۔ کنڈالا کے مطابق، جو نیو یارک میں واقع آئی بی ایم ریسرچ میں ملازمت کرتے ہيں، اس خصوصیت کی وجہ سے اس ٹیکنالوجی کو مالیکیولز کی سیمولیشن کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔

2017ء کے بعد انہوں نے ایک اور بھی اہم دریافت کی ہے۔ کوانٹم سٹیٹس کے نازک ہونے کی وجہ سے کوانٹم کمپیوٹرز میں غلطی کی گنجائش بہت زیادہ ہے اور ان غلطیوں کی اصلاح کے لیے وافر مقدار میں کیوبٹس کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تاہم اس وقت آلات میں دس کے قریب کیوبٹس ہونے کی وجہ سے کمپیوٹرز میں غلطی کی اصلاح کرنے کی صلاحیت موجود نہيں ہے۔ کنڈالا نے کیوبٹس کی تعداد میں اضافہ کیے بغیر غلطیوں کی گنجائش کم کرنے کا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ وہ ایسے رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں جن کی مدد سے غلطیوں کی غیرموجودگی کی صورتحال کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے، جس کی وجہ سے کوانٹم کمپیوٹرز کا عملی استعمال زيادہ عام ہوگا۔

تحریر: ایڈ جینٹ (Edd Gent)

Read in English

Authors

*

Top