Global Editions

مالی سہولیات کے نئے دور میں پارٹنرشپس کی اہمیت

صحیح پارٹنر تلاش کرنا نہایت اہم ہے اور صحیح پارٹنر وہ ہوتا ہے جو آپ کو برابر کا شریک سمجھے۔

اگر آپ کا شمار پاکستان کی اْن فِن ٹیک کی سٹارٹ اپ کمپنیوں میں ہوتا ہے جو فِن ٹیک کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہیں تو ممکن ہے کہ آپ مایوسی ہی کا منہ دیکھ رہے ہوں۔ آپ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ کوئی بھی فِن ٹیک کی سٹارٹ اپ کمپنی ایسی مارکیٹ میں کس طرح کامیاب ہوگی جس میں تمام ضوابط بینکس ہی کے حق میں ہیں اور موجودہ لائسنس یافتہ کمپنیاں آپ کی جیسی چھوٹی کمپنیوں کے ساتھ پارٹنر شپ قائم کرنے کو تیار نہیں ہیں؟ اس کا بہت آسان جواب ہے: پارٹنرشپ کے لیے درست بینک کا انتخاب کریں۔ فِن ٹیک پارٹنر شپس کے حوالے سے تمام بینکس ایک جیسے نہیں ہوتے۔ جس زمانے میں فِن ٹیک زور پکڑنے لگا تھا، اس وقت دعوے کیے گئے تھے کہ فِن ٹیک کی سٹارٹ اپ کمپنیاں بینکس کا مکمل طور پر صفایا کردیں گی لیکن جلد ہی یہ بات سامنے آگئی کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ فنٹیگریشن (Fintegration) (جو دی اکانومسٹ کا ایجاد کردہ لفظ ہے) ہے یعنی بینکس اور فِن ٹیک کمپنیوں کے درمیان شراکت۔

فِن ٹیک کمپنیاں بینکس کے مقابلے میں کم وسائل استعمال کرتی ہیں اور زیادہ پھرتیلی ہیں، جس کی وجہ سے وہ نئی مصنوعات اور سہولیات پر زیادہ تیزی سے کام کرسکتی ہیں۔ اس وقت پاکستانی بینکس جو ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں یعنی کور بینکنگ سسٹم، اس میں نئے دور کے صارفین کی خواہشات کے مطابق بار بار اپ ڈیٹس کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں فِن ٹیک اور بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب افراد بینکنگ سسٹم کا حصہ نہیں ہیں، جن کی اکثریت چین، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک میں رہائش پذیر ہے۔ بینکس کے آپریشنل اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے لیے دیہات میں برانچز کھولنا ممکن نہیں ہے لیکن موبائل فون، خصوصی طور پر سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ان افراد کو سہولیات فراہم کرنا ممکن ہوگيا ہے۔

مالی شمولیت کا مطلب محض کسی بینک میں اکاؤنٹ کھولنا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب سازگار ضوابط اور کم قیمتوں کے ماحول میں ہر قسم کی مالی سہولت تک رسائی ہے، جس میں ادائيگیاں، بیمہ، سیونگز اور سرمایہ کاری سب ہی شامل ہیں۔ موجودہ کمپنیاں بنیادی بینکنگ سہولیات مہیا کرتی ہیں، وسیع و عریض آپریشنز کی وجہ سے اخراجات میں کمی سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور ضوابط کی تعمیل بھی کرتی ہیں لیکن مخصوص مارکیٹس کو خصوصی سہولیات فراہم کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔

بینکس اپنے ٹیکنالوجی کے پلاٹ فارم اور تنگ نظر آرگنائزيشنل سٹرکچرز کی وجہ سے صارفین کی مجموعی صورتحال سے ناواقف رہتے ہیں اور ان کی تیزی سے تبدیل ہونے والی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔

اس کے برعکس فِن ٹیک کمپنیوں کے لیے ایسا کرنا زیادہ آسان ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان میں 7 کروڑ افراد 3G یا 4G  کی سہولیات استعمال کرنے لگ جائیں گے اور اگر انھيں ڈیجیٹل ادائيگیوں کی طرف لانا ہے تو بینکس اور فِن ٹیک کمپنیوں کو ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ بات تمام بینکس کو اب تک سمجھ نہیں آئی ہے۔

فِن ٹیک کمپنیوں اور بینکس کا آپس میں تعلق سمارٹ فونز اور ایپس کی طرح ہے۔ فِن ٹیک کمپنیوں کی وجہ سے بینکس کو اْسی طرح فائدہ ہوگا جس طرح ایپس کی وجہ سے سمارٹ فونز کو ہوا ہے۔ وسیع پیمانوں کی وجہ سے اخراجات میں کمی سے فائدہ اٹھانے والے بینکس فِن ٹیک کمپنیوں کو مارکیٹ کے مخصوص گوشوں میں امتیازی ایپس پیش کرنے کے لیے پلاٹ فارم مہیا کريں گے۔ ایپس اگر مقبول ہوجائیں تو سمارٹ فون کمپنیوں کو فائدہ ہوگا لیکن اگر ایپس ناکام ہوجائیں تو سمارٹ فون کے پلاٹ فارم کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں ہوگا، کیونکہ ہزاروں دوسری ایپس موجود ہیں۔

بینکس اور فِن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال ہے۔ اگر فِن ٹیک کمپنیاںنئی مصنوعات کی تخلیق میں کامیاب ہوجائیں تو بینک کے صارفین کو فائدہ ہوگا اور بینکنگ کا پلاٹ فارم زور پکڑے گا لیکن اگرفِن ٹیک کمپنیاں ناکام ثابت ہوجائیں، تو بینک کو پھر بھی نقصان نہیں ہوگا۔ بینکنگ پلاٹ فارم دستیاب ہونے کے بعد نت نئی مصنوعات اور سہولیات کی ذمہ داری بینکس کے بجائے فِن ٹیک کمپنیوں پر عائد ہوگی۔
بینکس کو سرمایے کا نقصان نہیں ہوگا لہٰذا انھيں اپنی آمدنی کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صارفین کو سب سے موزوں سہولیات کے پورٹ فولیو کی فراہمی بینکس کے آگے نکلنے کی وجہ بنے گی۔

سب سے زیادہ کامیاب پارٹنرشپس وہی ہوتی ہیں جن میں تمام فریقین برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ تاہم بیشتر بینکس کو یہ بات سمجھ نہیں آئی ہے کہ ٹیک پارٹنرشپ قائم نہ کرنے کی وجہ سرمایہ کاری کی کمی نہیں ہے بلکہ لیڈرشپ کا فقدان ہے۔ کسی فِن ٹیک کمپنی کے ساتھ پارٹنرشپ قائم کرنے کی اہمیت جاننے کے لیے بینک کی قیادت کا ترقی پسند ہونا بہت ضروری ہے۔

بڑے بینکس کئی سالوں سے ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں اور ہر ٹیکنالوجی کی اپ گریڈنگ میں اپنا فائدہ چاہتے ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ فِن ٹیک کمپنیوں سے بھی اسی قسم کی توقع رکھ رہے ہیں۔ وہ ان کا کوڈ خرید کر انھيں پارٹنر کے بجائے وینڈر بنانا چاہتے ہیں۔ کچھ چھوٹے بینکس اس غلط فہمی کا بھی شکار ہیں کہ وہ سرمایہ کاری کے لیے بڑی رقم نہ ہونے کی وجہ سے فِن ٹیک کی کمپنیوں کے ساتھ پارٹنرشپ قائم کرنے سے قاصر ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ چھوٹے بینکس ہی فِن ٹیک کی پارٹنرشپس کے لیے زیادہ موزوں ہیں کیونکہ وہ فِن ٹیک کی کمپنیوں کو وینڈر کے بجائے برابر کے شریک سمجھتے ہیں۔ بینکس ضوابط کا فریم ورک فراہم کرتے ہیں اور فِن ٹیک کمپنیاں نئی مصنوعات اور خدمات پر کام کرتی ہیں اور دونوں کی شراکت میں ہی صارفین کا فائدہ ہے۔

کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سوشل میڈیا، تجزیات اور موبائلز کی آمد کے بعد نئی ٹیکنالوجی کی تخلیق کے اخراجات میں قابل قدر کمی آچکی ہے اور دکان دار اور خریدار کا تصور اب پرانا ہوچکا ہے۔ بینکس کو اب زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ فِن ٹیک کمپنیاں اپنے تصور کے قابل عمل ہونے کا ثبوت پیش کرنے کے بعد وینچر فنڈنگ حاصل کرکےاپنی مصنوعات خود تخلیق کرسکتی ہیں۔

پاکستان میں اس کی ایک مثال فنکا اور فنجا کے درمیان پارٹنرشپ ہے۔ فنکا مائیکروفنانس بینک اور فنجا نامی فِن ٹیک سٹارٹ اپ کمپنی نے مل کر ایک ایسا موبائل والٹ تیار کیا ہے جس کے ذریعے کسی بھی سمارٹ فون اور ملک کے کسی بھی بینک کے اکاؤنٹ سے رقم کی ادائيگی ممکن ہے۔ فنکا مائیکروفنانس بینک اپنے پرانچ لیس بینکنگ کے لائسنس کے ذریعے بنیاد فراہم کررہا ہے جبکہ فنکا موبائل والٹ اور اس کے برانڈ کا ذمہ دار ہے۔ فنجا نے 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرلی ہے اور فنکا کو کسی بھی قسم کا خرچہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پارٹنرشپ کےتصور کا مطلب بس یہی نہیں ہے۔ اس میں صارفین، مرچنٹس، ایجنٹس اور دوسری فِن ٹیک کمپنیاں سب ہی شامل ہیں۔

مالی سہولیات کے اس دور میں بینکس کو خود ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس کے ذریعے دستیاب اوپن پلاٹ فارم بنا کر پیش کرنا ہوگا تاکہ صارفین ایک
موزوں ترین فِن ٹیک کمپنیوں پر مشتمل پورٹ فولیو کے ذریعے ان کی سہولیات تک رسائی حاصل کرسکیں۔

لبنیٰ رزاق آئی ٹی یو فِن ٹیک سنٹرکی ڈائریکٹر ہیں اور پاکستان میں ڈی ایف ایس کے استعمال کے متعلق بھی تحقیق کررہی ہیں جبکہ قاصف شاہد فنجا کے شریک بانی اور سی ای او ہیں اور پاکستان میں مفت ڈیجیٹل کامرس کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

تحریر : لبنیٰ رزاق
تحریر : قاصف شاہد

Read in English

Authors
Top